To be free and to live a free life

that is the most beautiful thing there is.

“Yoga means addition – addition of energy, strength and beauty to body, mind and soul.”

photographer gets people to pose for him. A yoga instructor gets people to pose for themselves.”

Be happy for this moment. This moment is your life.

Stay positive and happy. Work hard and don't give up hope. Be open to criticism and keep learning. Surround yourself with happy, warm and genuine people.

If you love life, don't waste time, for time is what life is made up of

Be strong, believe in freedom and in God, love yourself, understand your sexuality, have a sense of humor, masturbate, don't judge people by their religion, color or sexual habits, love life and your family.

Enjoy life while you can

Life is too precious and short to dare to waste it on mediocre dreams.

Thursday, November 26, 2015

بلدیاتی انتخاب کے دوران پولیس نفری ہونے کے باوجود ناخوشگوار واقعات

گذشتہ روز ہونے والے بلدیاتی  انتخابات  کا عمل دونوں صوبوں(سندھ اورپنجاب) میں صبح ساڑھے 7 بجے شروع    ہوا ا ور شام ساڑھے 5 بجے تک بلاتعطل جاری رہا۔ بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں پنجاب کے 12 اور سندھ کے 14 اضلاع میں پولنگ ہوئی جبکہ پولنگ سے قبل رات گئے دونوں صوبوں میں پُرتشدد واقعات میں ایک سرکاری ملازم ہلاک اور ایک انتخابی اُمیداوار سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے۔صوبے کے انتخابی اضلاع میں 11 ہزار 862 پولنگ اسٹیشنز کو ’اے پلس‘، ’اے‘ اور ’بی‘ میں تقسیم کیا گیا ۔
انتخابات کے دوران سیکیورٹی کے لیے ایک لاکھ سے زائد پولیس افسران اور اہلکار تعینات کیے گئے، جبکہ پولیس نفری کی کمی کو پورا کرنے کے لیے لاہور سے بھی 2 ہزار اہلکار روانہ کیے گئے۔انتخابات کے دوران پاک فوج، رینجرز کی دستے سٹینڈ بائی پر رہےجبکہ اسلحے کی نمائش، جیت کے بعد ریلیاں نکالنے اور جشن منانے پر بھی پابندیاں عائدکر دی گئیں۔
اس کے باوجودکہیں کہیں بلدیاتی انتخاب کے دوران ناخوشگوار واقعات بھی پیش آئے۔ پولنگ کے دوران مختلف شہروں میں حریفوں کے درمیان گرماگرمی دیکھی گئی۔
پنجاب کے ضلع ملتان کے علاقے شجاع آباد میں آزاد امیدوار کے حامی بینرز لگانے کے معاملے پر مخالف امیدوار کے حامیوں سے اُلجھ پڑے، جھگڑے کے دوران فائرنگ سے 2 افراد ارسلان اور ذیشان زخمی ہوئے جبکہ فائرنگ کرنے والے ملزمان موقع سے فرار ہوگئچنیوٹ میں وارڈ 15پرپولنگ اسٹیشن کےباہر2گروپوں میں تصادم ہوا۔ آزاد امیدوارمقبول انصاری کےحامیوں نے ہوائی فائرنگ کی۔ شیخوپورہ کے علاقے فیض پور میں پولنگ کے دوران ہنگامہ آرائی میں دوافرادزخمی ہوگئے،خانیوال میں وارڈ نمبر 12کےپولنگ اسٹیشن نمبر12 میں خاتون ووٹر نے امیدوار کے حامی کو دکھا دکھا کر ووٹکاسٹ کیا،جس پر امیدواروں کے حامیوں میں جھگڑا ہو گیا۔بدین میں پولیس نے پیپلز پارٹی کے امیدوار ڈاکٹر عزیز میمن کو خواتین کے پولنگ اسٹیشن میں مداخلت کی شکایت پر رینجرز نے حراست میں لیا۔

بعد ازاں انہیں رہا کردیا گیا جس کے بعد ان کا کہنا تھا کہ انہیں ذوالفقار مرزا اور فہمیدا مرزا کے کہنے پر گرفتار کیا گیا اور کئی گھنٹے تک حراست میں رکھا گیا۔ضلع بدین کے سمن پولنگ اسٹیشن سے نامعلوم افراد بیلٹ پیپرز اٹھا کر فرار ہوگئے، پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہے۔

Wednesday, November 25, 2015

ٹریفک قوانین معاشرے کی بغاوت کا شکار


قوانین معاشرے کے لیے بنتے ہیں، ان سے انحراف کرنے والے افراد کو سزا دی جاتی ہے یا دی جاسکتی ہے، لیکن اگر معاشرہ اجتماعی طور پر قانون کو پیروں تلے روند دینے پر تْلا ہو تو قانون، ادارے اور ریاست کیا کر سکتے ہیں؟ ہمارے یہاں ٹریفک قوانین معاشرے کی اسی بغاوت کا شکار ہیں۔
ملک بھر میں ٹریفک قوانین کی دھجیاں اُڑائی جا رہی ہیں۔ کہیں عوام نہیں سمجھتے اور کہیں حکومت کا کردار سفر نظرآتا ہے۔ آئے دن ہونے والے ہونے والے ٹریفک حادثات کئی قیمتی جانوں کو نگل چکے ہیں۔ شہر قائد کی بات کی جائے یہاں کی سڑکوں کو خوں پیتی سڑکیں کہنا غلط نہ ہوگا۔ ایک چھوٹی سی سڑک پر گھنٹوں جب ٹریفک جام رہتا ہے تو ایک اچھا بھلا آدمی بھی شدید ذہنی تناؤ کا شکار ہوجاتا ہے۔ یہ کیفیت گھر سے باہر رہ کر ختم نہیں ہوجاتی، یہ ذہنی اذیت آخر کار گھر میں بھی اپنا ڈیرا جماتی ہے۔
شہرِقائد میں تو ٹریفک کا ابتر نظام پورے پاکستان میں بدترین مثال بن کر سامنے آیا ہے۔ مسائل ہیں اور شہریوں کے ساتھ مختلف ادوار میں آنے والی حکومتیں بھی ان مسائل کو سنجیدگی سے حل کرنے کی خواہش مند ہیں۔ اِسی لیے وقفے وقفے سے حکومتی پالیسیاں اور منصوبے کبھی عملی طور پر نظر آتے ہیں تو کبھی کاغذات تک محدود ہو جاتے ہیں۔ لیکن کچھ نہ کچھ ہوتا ضرور ہے۔ ماضی میں کراچی کی سڑکوں پر جس طرح کام کیا گیا اور جیسے فلائی اوور بنائے گئے بلاشبہہ اس ترقی کو پورے پاکستان ہی میں نہیں دنیا میں بھی سراہا گیا، لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ کچھ سال گزرنے کے بعد ٹریفک کے وہ مسائل جن کا سامنا آج سے دس سال پہلے بھی کراچی کے شہری کر رہے تھے اور جو کراچی میں سڑکوں اور پُلوں کی تعمیر کے بعد کچھ کم ہوگئے تھے، آج پھر شہر کے عوام کو وہی مسائل درپیش ہیں۔ بات وہی ہے کہ مستقبل کی پلاننگ کے بغیر کام کیا گیا۔ نتیجہ، آبادی کا دباؤ بڑھنے کی وجہ سے ٹریفک نظام بدترین صورت حال اختیار کرگیا۔ اگر شہرِقائد میں چین کے اشتراک سے بنے والے منصوبے ماس ٹرانزٹ پر سنجیدگی سے عمل کیا جاتا تو وہ سرمایہ جو چند سالوں کی پلاننگ کے لیے لگایا گیا وہ ایک صدی کی پلاننگ پر صرف ہوتا اور عام آدمی کو جو فوائد ملتے وہ الگ ہیں۔ لیکن نہیں، ہم نے ماس ٹرانزٹ کو بھی اور بہت سے منصوبوں کی طرح وفاقی اور صوبائی بحث تک ہی محدود رکھا۔ آج شہر قائد کا ایک عام شہری کس طرح مسافت کی اذیت سہتا ہے یہ شاید وہ خود ہی جان سکتا ہے۔ گھنٹوں ٹریفک جام میں پھنسے رہنا، کبھی اپنی مطلوبہ بس کے انتظار میں بس اسٹاپ پر انتظار کی الجھن، کبھی نوکری پر دیر سے پہنچنا اور کبھی پبلک ٹرانسپورٹ میسر نہ آنے پر تھک ہار کر اپنے گھر کی طرف واپسی، شل قدموں کے ساتھ زندہ لاش کی طر ح۔ بس اسٹاپ پر کھڑے کئی مایوس چہرے ہمیں روز ہی نظر آتے ہیں۔ یہ تمام پہلو ایک عام شہری کی نفسیات کو نہ صرف مجروح کر رہے ہیں، بل کہ آنے والے وقت کے لیے ایک خطرناک سگنل دے رہے ہیں، لیکن پھر حکومت کا کوئی ادارے ان مسائل کی طویل المدت منصوبہ بندی کرنے کے لیے تیار نہیں۔
بہت پرانی بات نہیں، لیکن چوں کہ ہمارے یہاں اب قیمتی جانوں کا ضایع ہونا معمول کی بات ہے تو یہ حادثہ بھی شاید لوگ بھول گئے ہوں۔ سہراب گوٹھ پر بس اور آئل ٹینکر کا تصادم ہوتا ہے۔ بس میں آگ لگ جاتی ہے اور کتنی ہی زندگیاں جل کر راکھ ہوجاتی ہیں۔
حادثے میں زیادہ جانوں کے ضیاع کی ایک اہم وجہ یہ بتائی گی کہ کیوں کہ بس میں سواریوں کی تعداد کو بڑھانا مقصود تھا، اس لیے بس کا پیچھے کا دروازہ جہاں سے لوگ بہ آسانی باہر آسکتے تھے بند کر دیا گیا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے67 افراد زندہ جل کر خاک ہوگئے۔ اس کے بعد ٹریفک پولیس کی طرف سے کاغذی پھرتیاں بہت نظر آئیں، لیکن عملاً کچھ نہیں ہوا۔ اس حادثے کے بعد ایک تاریخ مقرر کرتے ہوئے حکم نامہ جاری کیا گیا کہ اگر بسوں کے ایمرجینسی گیٹس نہ کھولے گئے اور بس میں آگ بجھانے والے آلات نہ موجود ہوئے تو ایسا نہ کرنے والے بس مالکان کے خلاف کارروائی ہوگی۔ لیکن سب بے سود۔ مقررہ تاریخ آئی اور چلی بھی گئی۔ دو تین دن چالان کی مد میں رقم لی گئی اور پھر وہی اندھیرنگری چوپٹ راج۔ ہمیں جب علم ہے کے ٹریفک قوانین کی بڑی سے بڑی خلاف ورزی کرنے کے بعد بھی ہمیں سو پچاس روپے کی وصولی کے بعد چھوڑ دیا جائے گا تو خلاف ورزیوں کی فکر کسے ہو۔ توڑتے جائیے قانون اور ڈالتے رہیے اپنی اور دوسروں کی زندگیاں خطرے میں۔
ٹریفک پولیس کی پھرتیاں آج کل بھی ہمارے سامنے ہیں۔ یہ پھرتیاں ہیلمٹ مہم کی صورت میں سال میں ایک ہفتے تو نظر آتی ہی ہیں، لیکن پھر خاموشی سے چالان ہوتے ہیں، دے دلا کر معاملات طے ہوتے ہیں اور صورت حال جوں کی توں رہتی ہے۔
اس دفعہ ایک اچھا اقدام یہ ہونے جارہا تھا کہ مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کو بھی ہیلمٹ پہننے کا پابند کیا گیا، تاکہ جان لیوا حادثات کو ممکنہ حد تک کم کیا جاسکے اور ٹریفک حادثے کی صورت میں کم سے کم نقصان ہو۔ یہ ایک خوش آئند عمل تھا اور اس سلسلے میں پہلے دن خواتین کی ایک بڑی تعداد کا چالان بھی ہوا۔ ایک عرصے سے عام شہریوں کو یہ تنبیہ کی جارہی تھی کہ خواتین و حضرات دونوں کے لیے بائیک کی سواری کرنے کے لیے ہیلمٹ پہننا ضروری ہے اور اس سلسلے میں خواتین میں مفت ہیلمٹ کی تقسیم کا بھی وعدہ کیا گیا۔ اب نہ جانے وہ مفت ہیلمٹ کہاں گئے اور مفت ہیلمٹ دیے بغیر جو رقم چالان کی مد میں لی گئی اس کا حساب کون دے گا؟ کیوں کہ خواتین پر ہیلمٹ پہننے کی پابندی تو دوسرے ہی روز ختم کردی گئی۔ یعنی ایک مثبت قدم اٹھایا تو گیا لیکن وہ بھی چند لوگوں کے ناقص مشورے کی بنا پر روک دیا گیا۔ یہ پہلو بھی غور طلب ہے کہ جو لوگ ہیلمٹ ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں قوانین بنا رہے ہیں ان کا دور دور تک اس سواری سے کوئی تعلق نہیں۔ خواتین کی زندگی محفوظ بناتے اس قانون کو بننا بھی چاہیے تھا اور اس پر سختی سے عمل درآمد بھی ہونا چاہیے تھا اور خواتین میں مفت ہیلمٹ تقسیم ہونے چاہیے تھے۔ جہاں خواتین کے پہننے ہیلمٹ کے بارے میں فیصلہ کیا گیا وہیں یہ بھی سوچا جانا چاہیے کہ بائیک پر خطرناک حادثات ہونے کی ایک اور وجہ خواتین کا بائیک پر بیٹھنے کا طریقہ بھی ہے، جس طرح خواتین بائیک پر سفر کرتی ہیں اس میں معمولی جھٹکا لگنے سے بھی پیچھے بیٹھی خواتین گر سکتی ہیں۔ اور ساتھ ہی موٹرسائیکل چلانے والے کا توازن بھی بگڑ جاتا ہے۔ اکثر موٹرسائیکل پر بیٹھنے والی خواتین کی گود میں بچہ یا بچے ہوتے ہیں۔ موٹرسائیکل کے معمولی سے حادثے یا عدم توازن کی صورت میں سب سے پہلے خاتون کے ہاتھوں کی گرفت کم زور ہوجاتی ہے اور بچہ پھسل جاتا ہے۔ اس سب کو معمولی باتیں سمجھا جاتا ہے، لیکن موٹرسائیکل حادثات میں ہونے والی اموات اسی سب کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ قانون چاہے تو ان سب مسائل پر قابو پا سکتا ہے۔ اول تو چھوٹے بچوں کو ہاتھ میں لے کر سفر کرنے پر پابندی ہونی چاہیے، تاہم ہمارے معاشرے کی معاشی حقیقتیں ایسے قانون کی اجازت نہیں دیتیں، لیکن کم ازکم خواتین کے بائیک پر بیٹھنے کے طریقے اور ہیلمٹ کی شرط پر تو عمل کروایا جا سکتا ہے۔
آخر میں وہی بات، ہمارے یہاں ہر معاملے میں حکومت کو قصوروار ٹھہرا کر عوام اپنی ذمہ داری سے سبک دوش ہوجاتے ہیں۔ عوام کو ایسے حکومتی اقدامات کی حمایت اور ایسے قوانین کی پابندی کرنی چاہیے جو ان کے مفاد میں ہوں۔ خاص طور پر وہ اقدامات اور قوانین جو لوگوں کی زندگی کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔





پانی کابحران اورعوام پریشان


پانی قدرت کا وہ انمول تحفہ ہے جس کی کمی وہاں محسوس کی جا سکتی ہے جہاں یہ دستیاب نہیں ہے اور اس کی اہمیت پانی کے بغیر تڑپ رہا انسان ہی جان سکتا ہے پانی یےبغیر زندگی گزارنے کا تصور  سوچا بھی نہیں جا سکتا۔یہ وہ بنیاد ی ضرورت  ہے جوہر ایک کے لئے ضروری ہے۔ لیکن کیا یہ نعمت آج کے دور میں میسر ہے؟ یہ وہ ہی بتا سکتے ہیں جنھیں پانی کی کمی کے باعث مسائل درپیش ہیں۔یہ ایک انتہائی قابلِ غور اور پریشان کن مسلہء ہے کہ انسان اپنی ضرورت کی تکمیل کس طرح کرے اور پانی کی اس  نیابی اور عدم فراہمی کوکیسے اورکہاں سے  پورا کرے۔
کراچی کے کچھ علاقوں میں  پانی کی قلت اتنی ہوگئی ہے کہ کبھی کبھار لگتا ہے کی سارے مسائل  اسی شہر میں ہیں۔آج کل  پانی کا مسلہ اپنے عروج پے چل رہا ہے اس مسلہ نے شہریوں کوپریشان کر رکھا ہے۔واٹربورڈ کا کہنا ہے بجلی کی عدم فراہمی کے باعث پانی منم نہیں ہو پارہا جس کی وجہ سے ان  کا   نظا م          بھی متاثر ہو رہا ے اور دوسری طرف یہ عضربھی پیش کیا جارہا ہے کہ ہب ڈیم  خشک ہوگئے ہیں۔فروری ک مہینے میںواٹر بورڈکی طرف سے جوسزا لگائی  گئ ہب ڈیم خشک ہونے پر اس کے بعد ایک نفا نظام متعارف کرایا گیا۔جس میں یہ کیا گیا کہ  کچھ علاقوںمیں کھ دن پانی آئے گا اور پھر دوسرے  علاقوں میں کچھ دن۔لیکن اگر آج ہر طرف پانی کے ٹینکر ہی نظر آیئں گے خواں وہ ان علاقوں میں جارہے وں جہاں بیچارے غریب لوگ ٹینکر افورڈ نہیں کر سکتے۔ یا پھر ان علاقوں میں جہاں  ٹینکر افورڈ کیا جا سکتا ے۔ پانی کی قلت سے بچنے کے لئے جن کے پاس پیسے کی فراوانی ہے وہ تو بورنگ کروالیتے ہیں ایک بار نہیں سو بار لیکن جوبیچارے غریب لوگ ہیں و ہ اس پریشانی سےبری طرح دوچارہیں اور یہ  ہی وہ لوگ یں جواس پریشانی سے بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ پانی نہ آنے کے باوجودکراچی واٹربورڈکی جانب سے بلوں میں کوئی کمی نہیں آئی چاہے پانی آتا ہو یہ نہ آتا ہو۔دو محکمہ ایسے ہیں جو ایک تو کے۔الیکٹرک اور دوسرا کراچی واٹربورڈ جو آپس میں ایک دوسرے پر الزامات لگاتے  پھرتے ہیں آؤر بیچ میں ظاہر ہے بیچاری عوام پیستی ہے۔کے۔الیکٹرک کہتی ہے کی ہم پمنگ اسٹیشن کےی بجلی  کبھی بند نہیں کرتےوہ تو کبھی فنی خرابی ہوگئی تو ہوگئی اور دوسری طرف واٹربورڈ یہ کہتا ہے کہپمپنگ اسٹیشن کی  بجلی بند کردی جاتی ہے جس کے باعث پانی پمپ نہیں کرتا اور عوام کومشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے  بہت نقصان ہوتا ہے۔کچھ سرکاری ہائیڈرنٹس بھی کھولے گئے جہاں سے بہت حد تک پانی کی کمی کو کم کیا جا سکتا ہے،لیکن اگر آپ شہر کا جائزہ لیا جائے تو ہر طرف ٹینکر ہی ٹینکر نظر آتے ہیں۔
شاید ہی کوئی علاقہ ایسا ہوجہاں پانی کا رونا نہ ہو کسی نے بہت سہی کہا ہے کہ  جانور بھی پانی کے بغیر نہیں رہ سکتے
 تو ہم تو پھر انسان ہیں شاید اگر کچھ صاحبے حیثیت لوگوں نے بورنگ نہ کرائی ہوتی تو  ان علاقوں کی صورتحال تھر سے کچھ کم نہ ہوتی۔اس صورت حال  کو دیکھتے ہوئے ان علاقوں کی انتظامیا کو چاہیئے کہ وہ حکومت کی توجہ اس مسلے کی جانب مبذول کر وائیں تاکہ  دیرینہ طور پر اسکا حل  نکالا جا سکے۔
آکر کب تک ہم اس مسلے کی جانب  جکڑے رہیں گے؟؟آکر کب تک عوام  یہ سب کچھ سہتی رہے گی۔میری اپپنی رائے یہ ہے کہ  حکومت جلد از جلد اس مسلے پر غور وفکر کرے اعر عوام کو اس مسے سے نجات دلائی جائے

تحریر عائشہ امین

Saturday, October 31, 2015

میگزین جرنلزم
میگزین کا لفظ عربی زبان کے الفاظ مخزن سے لیا گیا ہے۔جس کے معنی ہے گودام ۔1700 میں جب یہ پرنٹ کے مرحلے میں آیا تو اسے خصوصی طور پر میگزین کا نام دیا گیا۔کتابوں اور اخبارات  کے درمیان  ابلاغ  کی ایک بہترین صورت رسائل ہیں جن میں اخبارات کی نسبت زیادہ مستقل نوعیت کامواد ملتا ہے۔1704مریکہ کا پہلا میگزین"The review"شائع ہوایہ ایک ہفتہ وار میگزین تھا۔اسی زمانے میں Benjamin" Franklin "نے  جنرل میگزین کی اشاعت شروع کی ۔یہ میگزین کتابوں اور اخبارات سے آرٹیکل اکھٹے کر کے ترتیب دیاجاتا ہے۔ اس میں زیادہ تر سیاسی  اور پارلیمانی خبریں ہوتیں۔بیس ہجری

Tuesday, October 27, 2015

زلزلہ: ہم دعا گو


مصروف تھے سب اپنی زندگی کی الجھنوں میں
زرا سی زمین کیا ہلی سب کو خدا یاد آگیا

آج سےتقریباََ 10 سال قبل 8 اکتوبر 2005 کو پاکستان کے شمالی علاقوں اور کشمیر میں آنےوالے زلزلے سے 50 ہزار سے زائد افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوئے. جس نے ہنستے بنستے گھروں کو کھڈرات میں تبدیل کردیا تھاکھ علاقے جن میں بالا کوٹ سرِفرست تھا پورا گائوں صحفہ ستی سے مٹ چکا تھا

Saturday, September 19, 2015

published in Daily Express on 14th September

دورِ جدید کا تنز ومزاح اور ہماری تہذیب
مزاح مزاج کا دوسرا نام ہے۔یہ ایک ایسا فعل ہے جس سے لوگوں کے چہروں پے ہنسی آتی ہےمزاح کے بھی دوپہلوہیں ایک مزاح معیاری زمرے میں آتا ہے  جسے دیکھ کرانسان اچھا محسوس کرے اوردوسرا مزاح بیہودگی ہے جسے دیکھ کر انسان شرمندگی محسوس کرے ۔جب طنزومزاح میںبےحیائی شامل ہوجائےتویہ ایک نازیبا فعل بن جاتا ہے۔

Thursday, September 10, 2015

نیو یارک کے دو میناروں کےبعد کےا ثرات

نیو یارک کے دومیناروں کو طیاروں کا ہدف بنے پورے13 برس بیت گئے اس سانحہ نے ایک ہی جھٹکے میں  پوری دنیا کو یکسر تبدیل کردیا۔اس سانحہ سے سب سے زیادہ متاثر پاکستان ہوا۔اگر ان حالات و واقعات کا دوبارہ جائزہ لیا جائے تو ہمارے لئے کافی سبق آموز ہوسکتا ہے۔۔کیونکہ اس المنات سانحہ کے بعد اقوام متحدہ سے منظور شدہ قرارداد   کی حمایت  کے فیصلے کے پس پردہ باقاعدہ عقلی جواز موجود تھا۔

6th september

تحفظ پاکستان کی جنگ ہماری تاریخ کا روشن باب

 6 ستمبر1956ہماری عسکری تاریخ کا انتہائی اہم  ترین دن ہےیہ دن ہمیں ان دنوں کی یاد دلاتا ہےجب پاکستان کی مسلح افواج نے  بھارتی جارحیت کے خلاف اپنی آزادی اور قومی وقار کا  دفاع کیا۔ اس روز پوری قوم اورفوج کے افسروں ،جوانوں  نےباہم  مل کر رفاقت کےجذبے کے ساتھ بزدل،مکاروعیار دشمن کےناپاک اور گھناونےعزائم کوخاک میں ملا دیا۔

Friday, July 10, 2015

رمضان اور مہنگائی۔۔۔لازم وملزوم کیوں؟؟؟


ہر مسلمان کوماہِ رمضان کا شدت سے انتظارہوتا ہےگنہگار لوگ اپنے رب کے حضور سجدہ کر کے اپنے گنہاوں کی معافی  کی بھینک مانگتے ہیں اور یہ ماہ تو شروع سے ہی  رحمت وبرکت کا مہینہ رہا ہےغریب کو اس ماہ میںاللہ وہ نعمتیںعطا کرتا ہےجو عام دنوں میں میسر نہیں ہوتیں۔لوگ اللہ کی رضا کی خاطر اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس ماہ مین خرچ کرنے کا مزہ ہی کچھ اور ہے اس ماہ میں نیکیوں کا جوصلہ ملتا ہے وہ باقی مہینوں کی نسبتاََ دکنا ہوتا ہے۔مساجد نمازیوں سے بھری

Wednesday, June 24, 2015

Inspired By

WHEN I GO TO THE WEST I SEE ISLAM WITHOUT MUSLIMS. BUT WHEN I COME BACK TO THE EAST I SEE "MUSLIMS" WITHOUT ISLAM....""ALLAMA IQBAL""