عموماً دیکھا گیا ہے کہ اولاد کے معاملے میں والدین تربیت کی زمہ داری ایک دوسرے پر عائد کر کے خود کو بری الذمہ سمجھتے ہیں مگریاد رکھئے اولاد کی تربیت صرف ماں یا صرف باپ کی نہیں بلکہ دونوں کی ذمہ داری ہے۔
حضور پاکﷺ کا فرمانِ عظمت نشان ہے :
* تم سب نگران ہو اور تم میں سے ہر ایک سے اس کے ماتحت افراد کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
* بادشاہ نگران ہے ، اس سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔
* آدمی اپنے اہل وعیال کا نگران ہے اس سے اس کے اہل وعیال کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔
* عورت اپنے خاوند کے گھر اور اولاد کی نگران ہے اس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔''
(صحیح البخاری ، کتاب العتق ، باب کراہیۃ التطاول ..الخ ، الحدیث ۲۵۵۴، ج۲، ص۱۵۹)ح
اگرہم اسلامی ماحول کے خواہش مند ہیں تو ہمیں اپنی اصلاح کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کی تربیت بھی کرنی ہوگی کیونکہ اگرہم تربیتِ اولاد کی اہم ذمہ داری کو بوجھ تصور کر کے اس سے غفلت پاتے رہے اور بچوں کو ان خطرناک حالات میں آزاد چھوڑ دیا تو نفس وشیطان انہیں اپنا غلام بنا لیں گے ۔
سوچیں اگر بچوں کی صحیح تربیت نہیں ہوگی تو وہ معاشرے کا بگاڑ دور کرنے کے لئے کیا کردار ادا کرسکیں گے، جو خود ڈوب رہا ہو وہ دوسروں کو کیا بچائے گا ۔
آپ کی اولاد ، آپ کے جگر کا ٹکڑا اور اپنی ماں کی آنکھوں کا نور سہی لیکن اس سے پہلے اللہ عزوجل کا بندہ ، نبی کریم ﷺ کا امتی اور اسلامی معاشرے کا اہم فرد ہے ۔ اگر آپ کی تربیت اسے اللہ عزوجل کی بندگی ، سرکارِ ﷺ کی غلامی اور اسلامی معاشرے میں اس کی ذمہ داری نہ سکھا سکی تو اُسے اپنا فرماں بردار بنانے کا خواب دیکھنا بھی چھوڑ دیجئے کیونکہ یہ اسلام ہی ہے جو ایک مسلمان کو اپنے والدین کا مطیع وفرماں بردار بننے کی تعلیم دیتا ہے ۔ اس لئے اولاد کی ظاہری زیب وزینت ، اچھی غذا ،اچھے لباس اور دیگر ضروریات کی کفالت کے ساتھ ساتھ ان کی اخلاقی وروحانی تربیت کے لئے بھی کمر باندھ لیجئے ۔ یہ کام صرف ماں کا نہیں ہے بلکہ باپ کا بھی فرض ہے قیامت کے روز صرف ماں سے اولاد کی تربیت کا سوال نہ ہوگا بلکہ بلکہ باپ سے بھی برابر پوچھا جائے گا. اور جس نے بھی کوتاہی کی بے شک اس کی پکڑ ہے










