گذشتہ روز ہونے والے
بلدیاتی انتخابات کا عمل دونوں صوبوں(سندھ اورپنجاب) میں صبح
ساڑھے 7 بجے شروع ہوا ا ور شام ساڑھے 5
بجے تک بلاتعطل جاری رہا۔ بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں پنجاب کے 12 اور
سندھ کے 14 اضلاع میں پولنگ ہوئی جبکہ پولنگ سے قبل رات گئے دونوں صوبوں میں
پُرتشدد واقعات میں ایک سرکاری ملازم ہلاک اور ایک انتخابی اُمیداوار سمیت متعدد
افراد زخمی ہوئے۔صوبے کے انتخابی اضلاع میں 11 ہزار 862 پولنگ اسٹیشنز کو ’اے
پلس‘، ’اے‘ اور ’بی‘ میں تقسیم کیا گیا ۔
انتخابات کے دوران سیکیورٹی کے لیے ایک لاکھ سے زائد پولیس افسران
اور اہلکار تعینات کیے گئے، جبکہ پولیس نفری کی کمی کو پورا کرنے کے لیے لاہور سے
بھی 2 ہزار اہلکار روانہ کیے گئے۔انتخابات کے دوران پاک فوج، رینجرز کی دستے سٹینڈ
بائی پر رہےجبکہ اسلحے کی نمائش، جیت کے بعد ریلیاں نکالنے اور جشن منانے پر بھی
پابندیاں عائدکر دی گئیں۔
اس کے باوجودکہیں کہیں بلدیاتی انتخاب کے دوران
ناخوشگوار واقعات بھی پیش آئے۔ پولنگ کے دوران مختلف شہروں میں حریفوں کے درمیان
گرماگرمی دیکھی گئی۔
پنجاب کے ضلع ملتان
کے علاقے شجاع آباد میں آزاد امیدوار کے حامی بینرز لگانے کے معاملے پر مخالف
امیدوار کے حامیوں سے اُلجھ پڑے، جھگڑے کے دوران فائرنگ سے 2 افراد ارسلان اور
ذیشان زخمی ہوئے جبکہ فائرنگ کرنے والے ملزمان موقع سے فرار ہوگئچنیوٹ میں وارڈ 15پرپولنگ اسٹیشن کےباہر2گروپوں میں
تصادم ہوا۔ آزاد امیدوارمقبول انصاری کےحامیوں نے ہوائی فائرنگ کی۔ شیخوپورہ کے
علاقے فیض پور میں پولنگ کے دوران ہنگامہ آرائی میں دوافرادزخمی ہوگئے،خانیوال
میں وارڈ نمبر 12کےپولنگ اسٹیشن نمبر12 میں خاتون ووٹر نے امیدوار کے حامی کو دکھا
دکھا کر ووٹکاسٹ کیا،جس پر امیدواروں کے حامیوں میں جھگڑا ہو گیا۔بدین میں پولیس نے پیپلز پارٹی کے امیدوار ڈاکٹر عزیز میمن کو
خواتین کے پولنگ اسٹیشن میں مداخلت کی شکایت پر رینجرز نے حراست میں لیا۔
بعد ازاں انہیں رہا
کردیا گیا جس کے بعد ان کا کہنا تھا کہ انہیں ذوالفقار مرزا اور فہمیدا مرزا کے
کہنے پر گرفتار کیا گیا اور کئی گھنٹے تک حراست میں رکھا گیا۔ضلع بدین کے سمن
پولنگ اسٹیشن سے نامعلوم افراد بیلٹ پیپرز اٹھا کر فرار ہوگئے، پولیس نے واقعے کی
تحقیقات شروع کردی ہے۔






0 comments:
Post a Comment