Thursday, September 10, 2015

نیو یارک کے دو میناروں کےبعد کےا ثرات

نیو یارک کے دومیناروں کو طیاروں کا ہدف بنے پورے13 برس بیت گئے اس سانحہ نے ایک ہی جھٹکے میں  پوری دنیا کو یکسر تبدیل کردیا۔اس سانحہ سے سب سے زیادہ متاثر پاکستان ہوا۔اگر ان حالات و واقعات کا دوبارہ جائزہ لیا جائے تو ہمارے لئے کافی سبق آموز ہوسکتا ہے۔۔کیونکہ اس المنات سانحہ کے بعد اقوام متحدہ سے منظور شدہ قرارداد   کی حمایت  کے فیصلے کے پس پردہ باقاعدہ عقلی جواز موجود تھا۔
تقریباََ3 ہزارکےآس پاس افراد 11/9 کے حملوں کی نزر ہوئے۔آج بھی امریکی نہ اپنے پیاروں کو بھول پائے ہیں نہ ہی ان میناروں کو وہ آج بھی اپنے پیاروں کی  یاد میں  9 ستمبر کو وہاں جمع ہوتے اور دوعائیں مانگتے۔یہ دن وہاں ریاستی سطح پر منایا جاتا اور اس امریکی عزم کو تازہ کیا جاتا کہ دنیا کودہشت گردی سے پاک کر دیا جائے۔
امریکہ 13 برس سے اپنے مشن میں مصروف عمل ہے دنیا کو دہشت گردی سے پاک کرنے کی جدوجہد کا پرچم اٹھائے گھوم رہا ہے۔ پاکستان  کے جری کمانڈرجو کوئی معمولی شخص نہ تھا اس نےآئینی حکومت کا ٹختہ ہی پلٹ دیا تھا مگر جب 11/9 کے بعد جارج ڈبلیو بش کا فون آیا تو وہ فوراََ نرم پڑھ گئے اور کہ ڈالا ہاں ہم افغانوں کے خلاف تمھارا ساتھ دیں گے۔آج تو وہ پاکستان کے صدر نہیں مگرہمیں امریکی آگ میں جھونک گئے پاکستان آج وہ نہیں ریا جو آج سے تقریباََ  تیرہ برس پہلے تھا۔اور واپس سے ویسا پاکستان بننے میں نہ جانے کتنے برس لگ جائیں۔
سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر مشرف کی جگہ کوئی اورہوتا تو کیا کرتا۔ اتنا تو واضح ہے کہ اگرمشرف کی جگہ کوئی اور ہوتا تو پارلیمنٹ ہوتی فوج ہوتی اور سیاسی جماعت بھی ہوتی اور وہ اس بات سے لاعلم ہوتا کہ   مجھے  فیصلہ کرنے کے بعد عوام کوبھی جواب دینا ہے۔ان سب بندھنوں میں جکڑا شخص کبھی پاکستان کو تشتری میں  سجا کر امریکہ کو تحفہ میں نہ دیتا۔
11/9/کے  بارے میں ابھی بھی بیسوں سوالات اٹھتے ہیں۔امریکہ کے مطابق یہ حملہ افغانستان میں بیٹھے ایک  اسامہ بن لادن نے کیا  تھا۔لیکن اب تک اسکا کوئی واضح ثبوت  اب تک پیش نہ کیا جاسکا۔یہ ایک داستان کےسوااورکچھ نہیں۔
امریکہ بظاہراپنی بالا دستی کے لیئےدوسرے ممالک سے بر سرپیکار ہے۔لیکن دراصل وہ ا پنے  خلاف جنگ آزما ہےکیونکہ امریکہ نے  11/9  کے واقعہ سے عراق اور افغان ر حملہ کی راہ نکالی اور ان جنگوں  میں  تقریباََ چوالیس کھرب ڈالر سے زیادہ کی رقم پھونک چکا ہے ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق یہ ساری رقم ادھاری کی ہے اور اسکی معشیت شدید بھران کا شکار ہےصحت،تعلیم،تعمیروترقی کے منصوبے  اور سماجی شعبہ بری طرح متاثر ہورہا ہے۔11/9 کے بعد جارج ڈبلیو بش نےدنیا سے سوال کیا کہ نہ جانےدنیاہم سےکیون اتنی نفرت کرتی ہے؟؟پوری تاریخ نہ سہی بس یہ گزرےہوئےچند برسوں پر نظر ڈالی جائے تو واضح جواب مل جائے گا۔
تحریر عائشہ امین

(جناح یونیورسٹی فارومین)

0 comments:

Post a Comment