مصروف تھے سب اپنی زندگی کی الجھنوں میں
زرا سی زمین کیا ہلی سب کو خدا یاد آگیا
آج
سےتقریباََ 10 سال قبل 8 اکتوبر 2005 کو پاکستان کے شمالی علاقوں اور کشمیر میں
آنےوالے زلزلے سے 50 ہزار سے زائد افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوئے. جس نے ہنستے
بنستے گھروں کو کھڈرات میں تبدیل کردیا تھاکھ علاقے جن میں بالا کوٹ سرِفرست تھا
پورا گائوں صحفہ ستی سے مٹ چکا تھا
زلزلہ بیشتر قدرتی آفات کی طرح اس وقت حملہ کرنے کی
انہونی صلاحیت رکھتا جب آپ اس کا سامنا کرنے کے لیے بالکل بھی تیار نہیں ہوتے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بروز پیر 26 اکتوبر 2015 کو 2 بجکر 9 منٹ پر آنے والے زلزلے
کی شدت امریکن جیولوجیکل سروے کے مطابق 7.5 تھی جس سے ملک کے
کئی شہرزلزلے کی لہر کا نشانہ بنے، جبکہ اس کا مرکز افغانستان میں 212.5 کلو میٹر
زیر زمین تھاجبکہ دوسری جانب محکمہ موسمیات پاکستان کے مطابق زلزلے کی شدت 8.1 تھی
جبکہ اس کا مرکز افغانستان کے ہندوکش ریجن میں 193 کلو میٹر زیر زمین تھا۔ااور اس
کا دورانیہ ایک منٹ سے زائد تھا، 24 گھنٹوں کے دوران متاثرہ علاقوں میں آفٹر شاکس
کا خدشہ ظاہر۔لاہور،اسلام آباد، گجرانوالہ اور پشاور سمیت ملک کے کئی شہروں میں
زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئےاور ساتھ ی مالا کنڈ،کوہاٹ بھکر اور گرد ونواح
میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیئے گئے۔زلزلے کے باعث مواصلاتی نظام متاثر ہونے سے
موبائل فون سروسز رک گئیں جبکہ لوگ خوفزدہ ہوکر لوگ گھروں سے باہر نکل آئے۔زلزلے کے
باعث سب سے زیادہ مالاکنڈ ڈویژن متاثرہ ہوا جہاں تقریبا 137 افراد کے آس پاس افراد
کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی جا چکی۔سوات میں200 زخمی جبکہ پشاور میں 100 سے زائد زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا
گیا۔شمالی علاقہ جات کے مختلف حصوں میں موبائل ٹاورز اور بجلی کے کھمبے گرنےی
اطلاعات موبائل سروس عارضی طور پر معتلزلزلے سےہونیوالے نقصانات پرپاکستانی ٹیم افسردہاور پاکستان کرکٹ ٹیم نے زلزلے کے باعث ہونے والے
جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔پاکستانی ستاروں نے سوشل میڈیا پر زلزلے سے متاثرہ
افراد کے لیے دعائیں کی اور حادثے پر افسوس کا اظہار کیا۔امریکا نےشدید زلزلے سے
متاثرہ افغانستان اور پاکستان کی حکومتوں کو مدد کی پیشکش کی۔اللہ تعالی ہمیں ان مصیبت زدوں کی خدمت کاموقع
دے۔
تحریر :عائشہ امین






0 comments:
Post a Comment