Saturday, October 31, 2015

میگزین جرنلزم
میگزین کا لفظ عربی زبان کے الفاظ مخزن سے لیا گیا ہے۔جس کے معنی ہے گودام ۔1700 میں جب یہ پرنٹ کے مرحلے میں آیا تو اسے خصوصی طور پر میگزین کا نام دیا گیا۔کتابوں اور اخبارات  کے درمیان  ابلاغ  کی ایک بہترین صورت رسائل ہیں جن میں اخبارات کی نسبت زیادہ مستقل نوعیت کامواد ملتا ہے۔1704مریکہ کا پہلا میگزین"The review"شائع ہوایہ ایک ہفتہ وار میگزین تھا۔اسی زمانے میں Benjamin" Franklin "نے  جنرل میگزین کی اشاعت شروع کی ۔یہ میگزین کتابوں اور اخبارات سے آرٹیکل اکھٹے کر کے ترتیب دیاجاتا ہے۔ اس میں زیادہ تر سیاسی  اور پارلیمانی خبریں ہوتیں۔بیس ہجری
 جنگ عظیم دو مین میگزین جرنلزم نے ایک بہترین کردار ادا  کیا لوگوں کے معاشرتی حالات کوبتایا۔لیکن ٹی وی  کی ایجاد  کے بعد میگزین کو بت برے دور سے گزرنا پڑاور عام میگزین تقریبا ختم ہوکررہ گئے۔آج کے دور میں ہمیں ر موضوع پر خصوصی میگزین پڑھنے کوملتے ہیں ۔ہندوستان کا پہلا  میگزین"معراج العاشقین" کے نام سے شائع ہوا۔برصغیر میں صحافت کی ابتدا ایک عام مجلاتی صحافت سے ہی ہوئی تھی  قیام  پاکستان  کے وقت ند ایک رسالے  لاہور  کراچی  اور فیصل آباد سے نکلتے تھے ۔سن میں کھ فلمی اور کچھ  سیاسی  تھے ۔پاکستان بننے کے بعد ان  تعداد میں کوئی اضافہ نہ ہوامیگزین جرنلزم کی راہ کی رکاوٹیں  صحافتی  قوانین  بنے جوسخت  سے سخت ترتھے اس دور میں ہفت  روزہ"لیل ونہار"نے میگزین جرنلزم کونیا نام دیا لیکن صحیح معنوں میں  ترقی اس وقت شروع ہوئیجب اعجاز حسن قریشی اور الطاف حسین قریشی نے امریکہ کے رسالے "ریڈرزڈائجسٹ"شروع کیا  جرنل یحیی کے دور میں صحافت پر کچھ پابندیاں  نرم کی گئیں۔لیکن صحافیوں نے اس  آزادی کا ناجائز فائدہ اٹھاناشروع کیا تو پھر پابندیاں سخت کر دی گئیں۔جنرل  ضیاء الحق کے دور میں1977 کے بعد صحافت  پر سے پابندیاں اٹھا لی گئیں تو کئی رسائل شروع ہوگئے۔ستمبر 1988 کو عبوری حکومت نے پریس اینڈ پبلکشن آرڈینینس منسوخ کر کے اس کی  جگہ اویک قانون رجسٹریشن آف پرینٹنگ پریس اینڈپبلکشن آرڈینینس نافز کردیا جس سے  رسائل  کی ڈیکلیریشن کا حصول بہت آسان ہوگیا۔ برصغیر کا پہلا میگزین  جامِ جہاں نماں کے نام  سے شائع ہوامیگزین جرنلزم نے صحیح معنوں میں صحافت کوآگے  بڑھایا لیکن نئے دور  میں جہاں ترقی سے طریقہ کار  میں تبدیلی  رونما ہوئی۔میگزین کا نام  سنتے ہی  ذہن میں  بہت سی خوبصورت چیزوں کا مجموع بن جاتا ہے۔رسائل کا آپس میں بہت مقابلہ ہےاور مقابلے کی اس دوڑمیں وہ پیسوں کابے بہا ضیاع کرتے ہیں۔نان پروفیشنل  لوگوں کی آمد سے صحافت  کے اصل مقاصدبلکل ختم ہوکر رہ گئے ہیں پاکستان  میں اس ‍وقت مقبول سوشل رسالے سب سے زیادہ شائع ہوتے ہیں ان کی تعداد  میں روز بروز  اضافہ  ہوتا جارہا ہے ایسے میگزین کے موضوعات میں عوام کی کثیر تعدادکومدنظر رکھا جاتا ہے ان میں herald , she, mag  اخبار جہاں وغیرہ شامل ہیں۔اب رسائل    میں اچھا مواد بہت کم پڑھنے کونہیں ملتا ہے۔بلکہ ان میں تصویروں اوراشتہارات  کی بھرمار ہوتی  ہے۔میگزین میں خوبصورت  لڑکیوں کی تصاویر کولازم قرار دیا جاتا ہے۔ جس سے معاشرے میں بے راہ روی پھیل رہی ہے۔ذرائعابلاغ کا آصول ے کہ وہ سماجی ،اخلاقی اور معاشرتی اصول کے مطابق ہوسحافت معاشرے کا آئینہ دار ہے۔اور صحافت کی تعلیم کے ساتھ اخلاق ومذب کی تعلیم بھی لازم حیثیت  رکھتی ے۔فنی اور تکنیکی لحاظ سے میگزین جرنلزم نے بہت ترقی کی ہے۔لیکن معاشرے میں اس کو اور بہتر بنانے کے لئےصحافت کے اصل مقصد کومدنظررکھنا پڑے گا۔میگزین ہمارے معاشرے کے لئے ابلاغ کا بہترین ذریعہ ہے۔اس لئے اس کا ڈیکلیریشن صرف ان ہاتھوں میں دیا جاتا ہے جس نے صحافت کی تعلیم حاصل کی ہواوروہ اصول وضوابط سے واقف ہوتومیگزین جرنلزم ترقی کی ایک  نئی منزل کوچھوسکتا ہے۔اگر ایسا نہ ہوتویہ صرف بزنس کی حد تک محدود وکر رہ جائے گا۔


0 comments:

Post a Comment