To be free and to live a free life
that is the most beautiful thing there is.
“Yoga means addition – addition of energy, strength and beauty to body, mind and soul.”
photographer gets people to pose for him. A yoga instructor gets people to pose for themselves.”
Be happy for this moment. This moment is your life.
Stay positive and happy. Work hard and don't give up hope. Be open to criticism and keep learning. Surround yourself with happy, warm and genuine people.
If you love life, don't waste time, for time is what life is made up of
Be strong, believe in freedom and in God, love yourself, understand your sexuality, have a sense of humor, masturbate, don't judge people by their religion, color or sexual habits, love life and your family.
Enjoy life while you can
Life is too precious and short to dare to waste it on mediocre dreams.
Tuesday, June 26, 2018
لباس بیچیں۔۔۔غیرت نہیں
لان کے مقبول ترین برانڈز کے درمیان مقابلہ اپنے عروج پرپہنچ چکا ہےاوران برانڈز کے اسٹورز کے اپنے نت نئے ڈیزائن سے بھرپورہیںوقت انتہائی تیزی سے گزر رہاہے۔لان کی اشتہاری مہم کے لئے بالی وڈکی اداکاراوںجیسے کرین کپوراور جیکولین فرنینڈس وغیرہ کوپاکستان کے پہترین ماڈلز پر ترجیح دی جانے لگی ہے۔ہر برانڈ اپنے لان کی تشہیر کے لئےخوب سے خوب تر ماڈل کی تلاش میں رہتا ہے جس کا منہ بولتا ثبوت شہر کی مشہورترین شاہراوں پر آویزاںبل بورڈزہیں یہ طرز عمل اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہےکہ لان کاکاروباراپنے عروج پر پہنچ چکا ہے۔سڑکوں اورہائی وےپر لگے بل بورڈزچیخ چیخ کرلان فروخت کرتے نظر آتے ہیں۔معروف ماڈلز کا استعمال اپنی مصنوعات کی فروخت بڑھانےکے لئےکیا جاتا ہےیا پھر صنف مخالف کو متاثر کرنے کے لئے،خیر یہ ایک طویل بحث ہے۔
اس میں کوئی دورائے نہیں ک لان کی اشتاری مہم خواتین سے زیادہ مردوں کومتار کرتی ہےجواپنی گاڑیوں اور موٹ رسائیکلوں پر سوار ہوکر بل بورڈز کے پا س سے روز گزرتے ہیں۔کرینہ کپور اور دیگرماڈلزجولان کی ماڈلنگ کرتی ہیںوہ لان سے زیاد خود نمایاں ہورہی ہوتی ہیںجس کی فروخت کے لئے انھیں منتخب کیا گےہوتا ہے۔یون اشتہارکاری کا اصل مقصد ختم ہوجاتا ہے۔دوسرسی جانب اگر خواتین چاہیں تووہ آنلائن یا پھر اسٹور پر جاکر بھی نئے ڈیئزائن پسند کرکے خرید سکتیں ہیں۔
یہ سلسلہ سرف بل بورڈز تک ی محدود نیں بلکہ ٹی وی پر چلائے جانے والی اشتہار مہم بھی اسی سوچ کی عکاسی کرتی ے۔مثلاََ گل احمد یا الکرم کے اشتہارات جوکہ گلیمرس اور بولڈمناظر پر مبنی ہیںان کے اشتہارات Backless اور sleeveless کہ خواتین ماڈلز کی خصوصیات یہ ی ہوتی ہیں
کے ساتھ پیش کی جاتی ہیں۔یہ طریقہ کار؎خواتین کوتولان خرید نے پر مجبور نہیں کر سکتاالبتہ یہ ضرور ہوسکتا ہے ہے ک ان خواتین کے مرد حضرات ان اسٹورز پر ان ماڈلز کوتلاش کرتے نظر آئیں۔پاکستان کی کئی سڑکیں ان غیر اخلاقی بل بورڈز سے آلود ہ ہوچکی ہیں جن میں خواتین غیرمناسب لباس پہنے دکھائی دیتی ہیں۔کتنی عجیب بات ہے کہ لان کا پرنٹ فروخت کرنے کے لئے پیش کیا جاتا ہے جبکہ وہ ی ماڈلز کے جسم پر کم دیکھائی دیتا ہے۔
مصنوعات کی تشہر کوئی بری بات نہیں یہ ہی وہ ذریعہ ہےجس کے ذریعہ مشہورکمپنیاں عوام میں اپنی مصنوعات کے حوالے سے آگاہی پیدا کرتی ہیں لیکن مصنوعات کی تشہیر کے لئے خواتین ماڈلز کا استعمال نہ کیا جائے ہمارے سامنے ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جن کے اشتہار میں خواتین ماڈلز کی ضرورت نہیں ہوتی مگر پھر بھی خواتین ماڈلز کا ستعمال کیا جاتا ہے۔کمپنیوں کوچاہیے کہ اپنی مصنوعات کی فروخت بڑھانے کے لئےمنفرد ڈیئزائن متعار کرائے جایئں نہ کہ نت نئی ماڈلز
ڈپریشن۔۔۔ ایک بیماری
کوئی آپ سے کہے کہ اسے ڈپریشن ہے تواس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی طبیعت اداس ہے ڈپریشن انگریزی کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں سطح سے نیچے ہوناعام طور پر جب کوئی بری خبر سنتے ہیں توطبیعت اداس ہوجاتی ہے مگر کچھ عرصے بعد پھر ٹھیک ہوجاتے ہیں لیکن اگر طبیعت مسلسل اداس رہنے لگے اور طبیعت میں بیزاری اوربوجھل پن ہو تو اساکا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ آپ ڈپریشن کا شکار ہوچکے ہیں ۔
وقتاََ فوقتاََہم سب اداسی،مایوسی اور بیزاری میں مبتلا ہوتے ہیں۔عموماََ یہ علامت ایک یا دو ہفتے میں ٹھیک ہوجاتی ہیں۔ اور ہماری زندگیوں میں ان سے کوئی بہت زیادہ فرق نہیں پڑتا۔کبھی یہ اداسی کسی وجہ سے شروع ہوتی ہے اورکبھی بغیر کسی وجہ کے ہی شروع ہوجاتی ہے۔عام طور سے ہم خود ہی اس اداسی کا مقابلہ کر لیتے ہیں بعض دفعہ دوستوں سے بات کرنے سے یہ اداسی ٹھیک ہوجاتی ہے اور کسی علاج کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن طبی طور سے اداسی اس وقت ڈپریشن کی بیماری کہلانے لگتی ہے جب اداسی کا احساس بہت دنوں تک رہے اور ختم ہی نہ ہو اداسی کی شدت اتنی زیادہ ہو کہ روزمرہ کے معاملات اس سے متاثر ہوں۔ ڈپریشن کی چند علامتیں درج ذیل ہیں۔ 1۔ہر وقت اداس رہنا،2۔خوداعتمادی کم ہوجانا۔3۔کسی چیز میں دل نہ لگنا۔4۔ہر وقت مایوس خیلات کا آنا۔5۔نیند اور بھوک میں کمی واقع ہونا۔۔وغیرہ
ڈپریشن صرف نفسیاتی علامات سے ہی ظاہر نہیں ہوتا بلکہ جسمانی طور پر بھی یہ بیماری آپ پر ظاہر ہوتی ہے۔مثلاََ دل کازورزور سے دھڑکنا،،سردرد اور بھاری پن جیسے۔یہ اور اس قسم کی دوسری علامات جس میں مریض بیمار نہ ہونے کے باوجود اپنے آپ کو بیمار محسوس کرتا ہے۔ڈیپریشن کی خاص بات یہ ہے کہ مریض خود کویوں محسوس کرتا ہے جیسےاس نے کوئی گناہ کیا ہوحالانکہ اس نے کوئی جرم کیا نہیں ہوتا مگر پھر بھی وہ اپنے آپ کو سزا کے قابل سمجھتا ہے۔ شروع میں ڈپریشن کے مریض کو احساس نہیں ہوتا کہ وہ اس خطرناک بیماری کا شکار ہورہا ہےمعمولی باتوں پر اسکا دل ڈوبنے لگتا ہے۔خاص طور پرخواتین اس مرض کے حملے کی ضد میں زیادہ ہوتی ہیں۔کیونکہ مردوں کے مقابلے میں خواتین زیادہ جذباتی اور حساس ہوتی ہیں اس لیے عورتیں مردوں کے مقابلے میں زیادہ ذہنی دباوکا شکار ہوتی ہیں۔
ڈپریشن کا شکار وہ لوگ بھی ہوسکتے ہیں جن کے خاندان میں کوئی اورشخص اس ذہنی بیماری شکار ہو۔بعض دفعہ جسم میں شکر کی کمی اور دوسری بیماریوں سے بھی ڈپریشن ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر آپ کسی اور بیماری مثلا بلڈپریشر وغیرہ کی ادویات لے رہے ہوں تو اس دوائی کے اثرات کے تحت ڈیپریشن کی بیماری آپ کو لگ سکتی ہے۔
اگر ہم تنہا ہوں۔ہمارےآس پاس کوئی دوست نہ ہو۔ہم ذہنی دباوکا شکار ہوں یا پھر ہم بہت زیادہ جسمانی تھکن کا شکار ہوں ان صورتوں میں ڈیپریشن کی بیماری میں مبتلا ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ڈیپریشن کسی کو کسی بھی قت ہوسکتا ہے لیکن بعض لوگوں کوڈیپریشن ہونے کا خطرہ اور لوگوں سے زیادہ ہوتا ہے اس کی وجہ ان کی شخصیت بھی ہوسکتی ہےیا پھر بچپن کے حالات وواقعات بھی۔ ڈٰپریشن کی بیماری عورتوں میں زیادہ ہوتی ہے۔بعض خاندانوں میں بھی یہ بیماری زیادہ ہوتی ہے۔اگر آپ کے والدین میں سے کسی کویہ بیماری ہے تو آپ کو ڈیپریشن ہونے کاخطرہ اورلوگوں کے مقابلے آٹھ گناہ زیادہ ہے۔
جس طرح زیابیطس ایک بیماری ہے اور بلڈپریشر کا بڑھ جانا بھی ایک بیماری ہے۔اسی طرح ڈیپریشن بھی ایک بیماری ہے۔یہ بیماری کسی بھی انسان کوہوسکتی ہےچاہے وہ اندر سے کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو جیسے اور بیماریوں کے مریض ہمدردی اور علاج کے مستحق ہوتے ہیں بلکل اسی طرح ڈیپریشن کے مریض بھی ہمدردی اور علاج کے مستحق ہوتےہیں نہ کہ تنقید یا مزاق اڑانے کے۔
ڈیپریشن کا علاج باتوں سے بھی کیا جاسکتا ہے، ادویات کی مدد سے بھی کیا جا سکتا ہے ، یوگا بھی اس کے علاج کا طریقہ ہےاور سائیکو تھرپی سے بھی کیا جاسکتا ہے یانفسیاتی علاج بھی کیا جاسکتا ہے۔
اچھی خبر یہ ہے کہ ڈپریشن کے ایسی فیصد مریض علاج نہ کروانے کے باوجود بھی ٹھیک ہوجاتے ہیں لیکن اس میں چار سے چھ مہینے یا اس سے زائد کاعرصہ لگ جاتا ہے لیکن پھر سوال یہ اٹھتا ہے کہ پھر علاج کرانے کی کیا ضرورت ہے؟؟ وجہ یہ ہے کہ باقی بیس فیصد مریض بغیر علاج کے اگلے دو سال تک ڈپریشن میں مبتلا رہیں گے اورپہلے سے یہ بتانا ممکن نہیں ہوتا کہ کون ٹھیک ہوجائے گا اورکون ٹھیک نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ اگر علاج سے چند ہفتوں میں طبیعت بہتر ہوسکتی ہے تو انسان کئی مہینوں تک اتنی شدید تکلیف کیوں برداشت کرتا رہے کچھ لوگوں کا ڈپریشن اتنا شدید ہوجاتا ہے کہ وہ خودکشی کرلیتے ہیں۔ اسی لیئے اگر آپ کےڈپریشن کی علامت کی شدت بڑھ گئی ہے۔ اور اس میں کوئی کمی نہیں آرہی آپ کے ڈپریشن نے آپ کے کام،دلچسپیوں رشتی داروں اوردوستوں سے تعلقات کومتاثر کر رہا ہےیا اس طرح کے خیالات آنے لگے ہیں کہ آپ کے زندہ رہنے کا کوئی فائدہ نہیں اور دوسرے لوگوں کے حق میں یہ ہی بہتر ہے کہ آپ مرجایئں تو آپ کوفوراََ اپناےعلاج کے لیئے اپنے ڈاکٹر یا کسی سائکائٹرسٹ سے رجوع کرناچاہیئے۔
تحریر : عائشہ امین
لڑکیوں ہوش میں آو
لڑکیوں ہوش میں آوخود کواتنا نہ گراوکہ خود اپنے آپ سے بھی نظریں نہ ملا پاو۔شرم وحیا ہی تمھارا حجاب اور لباس ہےیہ ہی تمھاری عزت ووقار ہےیہ ہی تمھاری حرمت وہتیار ہے۔اور یہ ہی تمھارا دفاع ہے۔اپنے احساسات اورجذبات کوکبھی کسی کے آگے عریاں نہ کروچاہے تمھیں کسی پر کتنا ہی اعتبار کیوں نہ ہوورنہ تمھارے پاس تمھارا اپنا کچھ نہ رہے گاخالی ہاتھ رہ جاو گی خود جس پر اعتبار کروگی خوداس کی نظر وں میں بھی اپنا وقارگنوابیٹھوگی۔
اپنے وقار کوقائم رکھنا خود تمھارے اپنے ہاتھ میں اپنے آپ کوسنبھالے رکھونہ کہ تمھاری روح،تمھاراوجودخود تم سے بیگانہ ہوجائے،تمھارے دل میں ویر انہ کر جائے۔اپنے اندر سے بے حجابی دور کرواور شرم وحیاءسے خود کومنور کرو۔نامحرم اور اجنبیوں کے سامنے اپنے حسن اور ادا کی جلوہ آرائیوں سے گریز کرواور خود کومحفوظ کرو۔اور حسن کےجلووں سے اپنا آپ دوسروں کودکھانے کی خواہش کواپنے دل میں ماردو اس سے پہلے کہ یہ خواہش تمھیں تمھاری موت سے پہلے زندہ درگورکرجائے۔قابورکھواپنے جذبات پر انھیں عریاں نہ ہونے دو اور خود اپنی زندگی کوکھلونا نہ بننے دو۔کسی کے لئے اپنے جذبوں اپنی خواہشوں کواپنے تک محدود رکھو۔اپنے آپ سے باہر نہ آنے دو اپنے جذبات کو ورنہ کہیں کی نہ رہوگی۔
یاد رکھو کہ تمھاری ایک چھوتی سی لغزش ایک چھوٹی سی خطا تمھارے لئے جان کاعذاب بن سکتی ہے۔مان لو کہ جومحتاط ہے و ہی محفوظ ہے۔خود کوسمیٹ کر رکھو اورقائم رکھو اپنا وقار اپنا مقام اور خود کوکسی کے آگے نہ گرنے دو،نہ جھکنے دو،نہ ہی ٹوٹ کر بکھرنے دو۔اسی میں تمھاری عزت ہے۔اور سلامتی ہے کہ تمھیں اللہ رب العزت نے بہت اعلی مقام سے سرفراز فرمایا ہے اس کا خیال کر و اس کی حفاظت کرواس مقام کا حق ادا کروتاکہ خوشی سکون اور عزت سے سر اٹھا کے جی سکواور اپنے رب کی نعمت کا شکر ادا کرو جو اس نے تمھیں عطا فرمائی تاکہ تم اس کی بارگاہ میں بھی سرخرو رہو کیونکہ
اللہ وتعالی نے شرم وحیاء
کو عورت کا لباس کا ہے
صحافت کی اہمیت، مثبت و منفی پہلوؤں پر ایک نظر۔۔۔
بول کے لب آزاد ہیں تیرے
بول زباں اب تک تیری ہے
شاعر مشرق علامہ اقبال نے اظہارِ رائے کے لئے اپنی بے چینی کو یوں رقم کیا۔ "صحافت"یعنی جرنلزم کسی بھی معاملے کے بارے میں تحقیق اور پھر اسے صوتی، بصری یا تحریری شکل میں بڑے پیمانے پر قارئین، ناظرین یا سامعین تک پہنچانے کے عمل کا نام ہے۔ صحافت سے وابستہ افراد کو صحافی کہتے ہیں جنھیں اپنی اظہارِرائے کا پورا حق ہے۔ تکنیکی لحاظ سے شعبہ صحافت کے معنی کے کئی اجزاء ہیں لیکن سب سے اہم نکتہ جو صحافت سے منسلک ہے وہ عوام کو باخبر رکھنے کا ہے۔حکومتی اداروں اور تجارتی منڈیوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے علاوہ صحافت کسی بھی معاشرے کے کلچر کو بھی اجاگر کرتی ہے جس میں فنون لطیفہ، کھیل اور تفریخ کے اجزاء شامل ہیں۔ شعبہ صحافت سے منسلک کاموں میں ادارت، تصویری صحافت، فیچر اور ڈاکومنٹری وغیرہ بنیادی کام ہیں۔جدید دور میں، صحافت مکمل طور پر نیا رخ اختیار کر چکی ہے اور عوامی رائے پر اثرانداز ہوئی ہے۔ عوام کا بڑے پیمانے پر اخباروں پر معلومات کے حصول کے لیے اعتماد صحافت کی کامیابی کی دلیل ہے۔صحافت ایک سماجی خدمت ہے اور اخبار ایک سماجی ادارہ ہے۔ سماج کو آئینہ دکھانے کا کام صحافت کا ہے۔ سماج کی اچھائیاں اور برائیاں صحافت کے ذریعہ ہی سامنے آتی ہیں۔ عوام میں سماجی اور سیاسی شعور بیدار کرنا، صحت مند ذہن اور نیک رجحانات کو پروان چڑھانا، معاشرے کی تشکیل کرنا، حریت اور آزادی کے جذبے کو فروغ دینا، مختلف اقوام میں دوستی کے جذبے کو بڑھانا، جذبہ ہمدردی، رواداری، الفت و محبت کو فروغ دینے کا نام صحافت ہے۔عام طور پر صحافت کو چوتھی مملکت کہا جاتا ہےکسی بھی جمہوری حکومت میں تین ادارےپارلیمنٹ، انتظامیہ اور عدلیہ بے حد ضروری ہوتے ہیں اور ان تینوں کی بقاء اور سلامتی کے لئے صحافت کا وجود ناگزیر ہے۔
صحافت کا اہم مقصد دنیا کے واقعات اور حالات کی تازہ ترین صورتحال سے عوام کو واقف کروانا اور ان واقعات کو پیشکش میں معروضیت، صداقت اور راست بازی سے کام لینا ہے۔ واقعات میں اپنی رائے شامل کرنا یا خبر کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا، صحافت جیسے معزز پیشے کو داغدار بناناہے۔ آج چند تنگ نظر صحافیوں نے اپنے مطلب کے ’’سچ‘‘ کا ڈھنڈورا پیٹنا کیوںشروع کردیا؟ ایک ہی واقعہ ایک اخبار کے یہاں سچ اور دوسرے کے یہاں جھوٹ کیوں ؟؟بعض خبریں یا واقعات ان کے پس منظر کا تقاضہ کرتی ہیں۔ اس لئے صحافی کو چاہئے کہ وہ خبروں اور واقعات کا پس منظر بھی دے لیکن پوری ایمانداری کے ساتھ پس منظر تحریر کرتے ہوئے اپنی پسند و ناپسند کو بالائے طاق رکھے۔آج کا دور تو ابلاغیات کا دور ہے۔ صحافت کی بے پناہ قوت اور اہمیت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ صداقت اور راست بازی صحافت کی وہ بنیادی خصوصیات ہیں جو معاشرے میں اس کی اہمیت کے غماز ہیں۔ صحافت انسانی اقدار کے تحفظ کی ضامن ہوتی ہے۔ مظلوم، مجبور اور مقہور عوام کے جذبات اور احساسات کی پیامبر ہوتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کبھی سماج میں ظلم و ستم نے سر اٹھایا ہےتوصحافی کے نوک قلم نے ظالم کا سر قلم کرکے رکھ دیا۔ اسی لئے جارج ہشتم نے صحافت کی بے پناہ قوت کا اندازہ لگاتے ہوئے کہا تھا کہ’’اخبار ٹائمز (لندن) دریائے ٹائمز سے زیادہ خطرناک ہے۔‘‘ایک اچھا، ذی اثر، حق گو اور بے باک اخبار خود بہ خود معاشرے میں اپنا مقام بنالیتا ہے۔ اخباروں کی بدولت ہی حکومتیں بنتی بھی ہیں اور ٹوٹتی بھی ہیں۔ اسی لئے نپولین نے اخبار کی بے پناہ قوت اور جادوئی اثر سے متاثر ہو کر کہا تھا "میں سوفوجی دوستوں کے مقابلے میں ایک اخبار سے زیادہ ڈرتا ہوں"۔
صحافت ایک جادو ہے جس کے بول میں خیروشر کی بجلیاں روپوش ہیں۔ ایک معمولی سی خبر، ایک افواہ یا ایک غلط بیانی کے وہ خطرناک نتائج مرتب ہوتے ہیں جن پر قابو پانا مشکل ہوجاتا ہے۔ کسی شخص کوشہرت پر پہنچانا ہو یا ذلت کے اندھیرے میں ڈھکیلنا ہو، کسی جماعت یا تحریک کو قبولیت کی سند عطا کرنا ہو لوگوں کو اس سے نفرت کرنا ہو حکومت کی کسی پالیسی کو کامیاب بنانا یا ناکام کرنا ہو یا مختلف اقوام میں جذبات، نفرت یا دوستی پیدا کرنا ہو تو یہ صحافت کا کرشمہ ہے‘‘۔پریس کی آزادی کا بنیادی مقصد خبر رسانی اور حقیقت بیانی ہے۔ سچ کی دریافت اور تلاش اس کی ذمہ داری ہے۔ پریس خواہ کتنا ہی آزاد کیوں نہ ہو اس پر کچھ نہ کچھ اخلاقی پابندیاں ضرور ہوتی ہیں۔ فحاش، غیراخلاقی مواد کی اشاعت اور فرد کی توہین عدالتی دائرہ اختیار میں آتی ہیں۔ چند تنگ نظر صحافیوں نے اپنے مطلب کی ’’سچ‘‘ کا خوب ڈھنڈورا پیٹنا شروع کردیاہے۔فحش اشتہارات اور سودے بازی کی لت کیوں کر پڑ گئی ہے؟مذہبی، علاقائی اور نسلی تعصب نے بھی سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ قرار دینے کے لئے پریس اور اس کی آزادی کا استحصال کیا۔آخرکار آزاد پسند نظریہ بھی عوام میں مشکوک ہونے لگا۔ عوام میں تشویش اور بی چینی کا ماحول پیدا ہونے لگا ہے ۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا؟ ایک ہی واقعہ ایک اخبار کے یہاں سچ اور دوسرے کے یہاں جھوٹ کیوں قرار پاتا ہے ؟ بعض اخبارات اپنی مقبولیت اور اہمیت کو فروغ دینے کے لیے جذباتی تحریر و انداز بیان کا سہارا لے رہے ہیں اور نتیجہ یہ ہے کہ اپنے ہی وضع کردہ خوشنما اصولوں کے پرخچے اڑائے جا رہے ہیں۔ آج سنجیدہ قارئین یہ سوال کیوں کررہےہیں کہ اگرعوام کے اخلاق و کردار کی تعمیر کی بجائے یہ تباہ کرنے کا مشغلہ پروان چڑھتا رہا اورنوجوان نسل غیراخلاقی پن کا شکار ہوتی گئی، تو کیا اخبارات اپنے اس سنگین جرم کو قبول کرنے کو تیار ہیں؟آج یہ فکر پروان چڑھانے کی ضرورت ہے کہ ہم اگر دنیا کو کچھ مثبت مواد دے سکتے ہیں تو پھر آگے بڑھنا چاہیے ورنہ اس دنیا میں منفی فکر اور گھٹیا اخلاق و کردار کو عام کرنے والے بے شمار ہیں۔ اس لیے اگر ہم بھلائی اور خیر کو انجام دینے سے قاصر ہیں تو کم از کم جھوٹ اور غلط بیانی کی تشہیر کے مجرم تو نہ بنیں۔
Saturday, June 23, 2018
دورجدید کا تنزومزاح
ٹی وی اپنی اثرپزیری کی وجہ سے اہم ہے۔ٹی وی اپنے مقاصد اور تکمیل کے لئیے مختلف طرز کی بہت سے پروگرامز پیش کرتا ہے۔ان میں ڈراموں کوخاص اہمیت حاصل ہے۔کہا جاتا ہے کہ ٹی وی کے ڈرامے تربیت کا اہم ذریعہ ہیں اس ذریعے کے تین اہم پہلو ہیں1۔ناظرین کی تعلیم وتربیت کا اہتمام۔2۔ناظرین کوتفریح مہیا کرنا۔3۔سماجی تبدیلی اور اصلاح کی راہ ہموار کرنا۔ٹی وی ڈرامےتفریح کا بھی زریعہ ہوتے ہیں بلکہ ڈرامے میں تفریح کو زندگی کی حقیقتوں پر سے پردہ اٹھانے کے لیئے استعمال کیا جاتا ہے تاکہ لوگ تفریح کے ساتھ ساتھ زندگی کی حقیقتوں کوقریب سے دیکھ کر سمجھ سکیں۔ڈرامے میں تفریح کی فراہمی کا مقصد تفریح نہیں بلکہ ناظرین کوذہنی آسودگی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی خاطر خواہ ذہنی تربیت کرنا بھی ضروری ہوتی ہے۔لہذا تفریح بھی با مقصد اور اخلاقی قدروں کے دائرے میں ہونی چاہیئے
مزاح مزاج کا دوسرا نام ہے۔یہ ایک ایسا فعل ہے جس سے لوگوں کے چہروں پے ہنسی آتی ہےمزاح کے بھی دوپہلوہیں ایک مزاح معیاری زمرے میں آتا ہے جسے دیکھ کرانسان اچھا محسوس کرے اوردوسرا مزاح بیہودگی ہے جسے دیکھ کر انسان شرمندگی محسوس کرے ۔جب طنزومزاح میں بےحیائی شامل ہوجائےتویہ ایک نازیبا فعل بن جاتا ہے۔ہم ایک مسلم معاشرے میں قیام پذیرہیں جس کی ایک تہذیب وثقافت ہے۔ ہمارے ڈ رامے ہماری تہذیب وثقافت کےآئینہ دارہونےچاہیئں۔ہنسی کوزندگی سے مستقل جوڑا نہیں جاسکتاجب یہ بات طے ہی ٹہری کہ غم خوشی نہیں اور خوشی غم نہیں بن سکتا تو انسان اپنے کیئے کچھ فیصلوں پر پچھتاوے یا ملال کوحق بجانب سمجھنے لگتا ہے۔کبھی لبوں پر پھیلی مسکراہٹ زبان سے ادا ہونے والے الفاظ کے معنی پہلے ہی بیان کردیتی ہےتوکسی چہرے پرپڑی شدت غم کی چادرکو پرے دھکیل دیتی ہے،ثقافت کی تاریخ بدل رہی ہے۔مسکراتے چہرے اگر بات بھی ایسے کریں جوہنسی کاسبب بن جائے تویہ فن ہے سوسائٹی میں فنکاربہت ہیں جن میں سرفہرست انورمقصود،معین اختر(مرحوم)، بشری انصاری،عمرشریف لطیف کباڈیا،سکندر صنم،شکیل صدیقی،بہروز سبزواری اورایازسومرو جیسے کئی ایک نام ہیں جوکامیڈی کےنام ور اداکار ہیں۔ آج مزاحیہ پروگراموں کی دوڑ میں ہراخلاق سے گرے ہوئے مزاحیہ ڈرامےباکثرت بنائے جارہےہیں اورمزاحیہ ڈراموں اور پروگراموں کی دوڑ میں سب بھیڑچال کا شکار ہیں۔نامناسب الفاظ،بہیوہ لباس اورغیراخلاقی مناظردیکھائے جارہے ہیں۔مزاحیہ ڈراموں کا مقصد ہنسی ہنسی میں لوگوں کو اچھی اچھی باتیں بتانا اور دن بھر کےتھکے ہوئےذہنوں کودوبارہ تازہ دم کرناتھا
پی ٹی وی پاکستان کا پہلا سرکاری چینل ہےجس کاآغاز 1964 میں ایوب خان کے دور میں ہوا۔پی ٹی وی پرڈراموں کی بات کی جائے تو پی ٹی وی پر دیکھائے جانے والے ڈراموں کا لوگوں پر ویسا ہی اثر ہواجیسے پوری دینا میں ڈرامے کا ہوتا ہے۔لیکن پی ٹی وی کے ڈرامےاپنی طرز میں باقی دنیا میں بنائے جانے والے ڈراموں سے مختلف تھے پی ٹی وی میں سب سے پہلاکامیڈی ڈرامہ1965 میں نشرہواجس کا نام الف نون تھا۔1965 سے لے کر 2000 تک ایک کے بعد ایک بہترین مزاحیہ ڈرامے نشر ہوئے اور عوام ان سے لطف اندوزہوتی رہی ایک وقت تھا جب لوگ اپنے گھروالوں کے ساتھ بیٹھ کرمزاحیہ ڈرامےدیکھ کر لطف اندوز ہوتےجن میں انور مقصود،کمال احمد رضوی،پترس بخاری جو کہ پہلے مزاہ نگار بھی ٹہرے اور محمد یونس بٹ وغیرہ کے ڈرامےشامل ہیں جن میں مشرقی لباس شائستہ کامیڈی اور شگفتہ جملے ہوتے تھے، جن کولوگ مدتوں بلکہ آج بھی یاد کرتے ہیں جن میں الف نون،۔ففٹی ففٹی، ہاف پلیٹ،آنگن ٹیڑھا،تنہایاں، روزی فیملی فرنٹ خالہ خیرن جیسے ڈرامےلوگوں کوآج بھی یاد ہیں۔ان ڈراموں کی کاسٹ اور پروڈکشن بے مثال ہے۔یہ ڈرامےبنانےسے پہلےباقاعدہ منصوبہ بندی کی جاتی تھی۔پی ٹی وی کے ڈراموں میں نہ صرف سماجی اورمعاشرتی بلکہ اسلامی تعلیمات سے بھی روشناس کیا گیا اور مختلف واقع کے ذریعے لوگوں کواسلامی تعلیم بھی دی گئی۔پی ٹی وی نے بھارتی ڈراموں کے مقابلے میں کلاسیکل ڈراموں سےدنیا کی تاریخ میں اپنا بہترین نام رقم کیا۔ مزاحیہ ڈرامے دیکھنے کے لئے سڑکیں سنسان ہوجایا کرتی تھیں ۔گھر کے تمام افراد ایک ساتھ بیٹھ کران مزاحیہ شوزکودیکھا کرتے اور لطف اندوزہوتے تھے۔ اس دور کے مزاحیہ پروگراموں میں خالص مزاح ہوتا تھا جوآج نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک بھی شہرت رکھتے ہیں
مگر اب گذشتہ چند برسوں سےٹی وی کاماحول انتہائی حد تک بگڑ چکا ہے جب سے حکومت نے پرائیوٹ پروڈکشن کوجگہ دی ہے ہمارے ڈراموں کامعیارخراب سے خراب تر ہوتا جارہا ہےخصوصا کامیڈی ڈراموں کا معیارگر چکا ہے اب ہمارے کامیڈی ڈرامے بھی ایسے نہیں رہے کہ ہم انھیں بچوں یا گھروالوں کے ساتھ بیٹھ کرانہیں دیکھ سکیں۔بلبلے،ڈگڈ گی،جکریہ کلثوم کی لو اسٹوری،قدوسی صاحب کی بیوہ ،جوروکاغلام، اور ان جیسے کئی ڈرامےجس میں خاوند اورزوجہ کے رشتےکو ہنسی میں اڑانااورعورت کازیورشرم وحیا کومزاح کے نام پر فروخت کرنااورتواورایسی نازیبا زبان استعمال کرناجوبچوں کی زبان پرآجائے اور وہ بھی اسی زبان ولہجہ میں بات کرنے لگیں۔جہاں پہلے معیارکوترجیح دی جاتی تھی وہاں اب ریٹنگ کو ترجیح دی جاتی ہےجس کی وجہ سے اخلاق سے گرے ہوئے ڈرامے بنائے جارہے ہیں۔
کامیڈی ڈراموں کے ساتھ ساتھ کامیڈی ٹاک شوز کا بھی کچھ ایسا ہی حال ہوگیا ہے وہ بھی پیچھے نہیں ان میں بھی ایسی زبان ولہجہ کا استعمال عام ہے جوغیر اخلاقی ہےاور عورتوں کا نازیبا لباس پہنناہمارے معاشرے میں بیہودگی پھیلا نے میں بہت اہم کردار ادا کررہا ہے۔
آج کل تقریبا ہر گھر میں کیبل سسٹم موجود ہے اوراس پر آنے والے تمام پرائیوٹ چینلز ہر گھر میں دیکھے جاتے ہیں۔آج کل کامیڈی سیکٹرمیں زیادہ پروڈکشن ہورہی ہے۔مزاحیہ ڈرامے زیادہ مقبول ہیں۔مگر مزاحیہ ڈراموں کامعیاردن بہ دن گرتا جارہا ہے۔ ان کے زیرِ اثر آکر ہماری نوجوان نسل اور بچوں کی زبان ،لب و لہجہ پر غلط اثرات مرتب ہورہےہیں۔معاشرے میں جوبڑوں اور چھوٹوں کے درمیان جوایک احترام کا رشتہ تھا اور جوایک جھجک تھی وہ ختم ہوتی جارہی ہے۔ہم اپنی ثقافت اور اخلاقی قدروں کو پامال کر رہے ہیں۔اس طرح کے ڈراموں سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہورہا ہے۔ پیسہ کمانے کی دوڑ نے سب بھلے برے کی تمیز ہی مٹا دی ہے مزاح کے ڈراموں میں بے حیائی کا عنصرمعاشرے میں صرف برائیاں پھیلانے کا ہی زریعہ نہیں بنتا بلکہ معاشرتی اورسماجی برائیوں میں بھی اضافہ کرتا ہے پروڈکشن ہاوس اس طرح کے بے حیائی کے مواد سے سستی شہرت توحصل کررہے ہیں مگر معاشرے میں بے حیائی اور غلط زبان کوبھی فروغ دے رہے ہیں۔
آج کل مزاح کے نام پر فحاشی دیکھائی جارہی ہے۔جس کودوسرے لفظوں میں آزادی کہا جاتا ہے۔۔اب مزاحیہ ڈراموں اور مزاحیہ پروگراموں میں مزاح کم اور بے حیائی کے مناظر اور غلط زبان زیادہ استعمال کی جاری ہے۔پرائیوٹ چینلز نے مزاحیہ ڈراموں کا معیار انتہائی نچلے درجے کا کر دیا ہے۔فحاشی اور بے حیائی کے اس دور میں بڑےبڑے پرائیوٹ چینلز سب سے آگے ہیں۔ جوایسے کامیڈی ڈرامے نشر کر رہے ہیں جس سے اردو ادب اور آنے والی نسلوں کوکافی نقصان پہنچ رہا ہے۔یہ کامیدی ڈ رامے ہمارے کلچر کی بلکل عکاسی نہیں کر رہے اسکے علاوہ ان ڈراموں کے عنوان بھی بیہو دہ ہوتے ہیں جو ہماری ثقافت اورکلچر کے بلکل برعکس ہےہمارے نوجوان بچےغلط طرز کی زبان سے متاثر ہورہے ہیں۔
پیسہ کمانے کی دوڑ میں ہمارےبعض چینلز اتنےآگے نکل آئے ہیں کہ مزاحیہ ڈراموں میں دیکھائی جانےوالی اخلاق سے گری ہوئی حرکات ومکالمات سے کوئی غرض نہیں یہ تک نہیں سوچاجاتا کہ کچےذہنوں پراسکاکیااثرہوگا۔ایک دوسرے سےمقابلے کی دوڑ میں ایسے ڈرامے بنائے جارہے ہیں کہ بس اس میں زیادہ سے زیادہ پیسے کمایا جاسکےچاہےاس سےہمارےمعاشرےاورنئی نسل کوچاہے کتناہی نقصان کیوں نہ ہو۔چینلز کےپروگراموں میں ضابطہ اخلاق کوقائم رکھنے کے لیئےقوائد وضوابط موجود ہیں۔جو کہ ان چینلز کے مالکان کو بھی معلوم ہیں لیکن ہرکوئی آزادی اظہار کے نام پرمعاشرےاورہماری تہذیب کی دیواروں میں دراڑیں ڈالنے پرتلاہواہے۔
تحریر عائشہ امین










