Wednesday, November 25, 2015

پانی کابحران اورعوام پریشان


پانی قدرت کا وہ انمول تحفہ ہے جس کی کمی وہاں محسوس کی جا سکتی ہے جہاں یہ دستیاب نہیں ہے اور اس کی اہمیت پانی کے بغیر تڑپ رہا انسان ہی جان سکتا ہے پانی یےبغیر زندگی گزارنے کا تصور  سوچا بھی نہیں جا سکتا۔یہ وہ بنیاد ی ضرورت  ہے جوہر ایک کے لئے ضروری ہے۔ لیکن کیا یہ نعمت آج کے دور میں میسر ہے؟ یہ وہ ہی بتا سکتے ہیں جنھیں پانی کی کمی کے باعث مسائل درپیش ہیں۔یہ ایک انتہائی قابلِ غور اور پریشان کن مسلہء ہے کہ انسان اپنی ضرورت کی تکمیل کس طرح کرے اور پانی کی اس  نیابی اور عدم فراہمی کوکیسے اورکہاں سے  پورا کرے۔
کراچی کے کچھ علاقوں میں  پانی کی قلت اتنی ہوگئی ہے کہ کبھی کبھار لگتا ہے کی سارے مسائل  اسی شہر میں ہیں۔آج کل  پانی کا مسلہ اپنے عروج پے چل رہا ہے اس مسلہ نے شہریوں کوپریشان کر رکھا ہے۔واٹربورڈ کا کہنا ہے بجلی کی عدم فراہمی کے باعث پانی منم نہیں ہو پارہا جس کی وجہ سے ان  کا   نظا م          بھی متاثر ہو رہا ے اور دوسری طرف یہ عضربھی پیش کیا جارہا ہے کہ ہب ڈیم  خشک ہوگئے ہیں۔فروری ک مہینے میںواٹر بورڈکی طرف سے جوسزا لگائی  گئ ہب ڈیم خشک ہونے پر اس کے بعد ایک نفا نظام متعارف کرایا گیا۔جس میں یہ کیا گیا کہ  کچھ علاقوںمیں کھ دن پانی آئے گا اور پھر دوسرے  علاقوں میں کچھ دن۔لیکن اگر آج ہر طرف پانی کے ٹینکر ہی نظر آیئں گے خواں وہ ان علاقوں میں جارہے وں جہاں بیچارے غریب لوگ ٹینکر افورڈ نہیں کر سکتے۔ یا پھر ان علاقوں میں جہاں  ٹینکر افورڈ کیا جا سکتا ے۔ پانی کی قلت سے بچنے کے لئے جن کے پاس پیسے کی فراوانی ہے وہ تو بورنگ کروالیتے ہیں ایک بار نہیں سو بار لیکن جوبیچارے غریب لوگ ہیں و ہ اس پریشانی سےبری طرح دوچارہیں اور یہ  ہی وہ لوگ یں جواس پریشانی سے بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ پانی نہ آنے کے باوجودکراچی واٹربورڈکی جانب سے بلوں میں کوئی کمی نہیں آئی چاہے پانی آتا ہو یہ نہ آتا ہو۔دو محکمہ ایسے ہیں جو ایک تو کے۔الیکٹرک اور دوسرا کراچی واٹربورڈ جو آپس میں ایک دوسرے پر الزامات لگاتے  پھرتے ہیں آؤر بیچ میں ظاہر ہے بیچاری عوام پیستی ہے۔کے۔الیکٹرک کہتی ہے کی ہم پمنگ اسٹیشن کےی بجلی  کبھی بند نہیں کرتےوہ تو کبھی فنی خرابی ہوگئی تو ہوگئی اور دوسری طرف واٹربورڈ یہ کہتا ہے کہپمپنگ اسٹیشن کی  بجلی بند کردی جاتی ہے جس کے باعث پانی پمپ نہیں کرتا اور عوام کومشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے  بہت نقصان ہوتا ہے۔کچھ سرکاری ہائیڈرنٹس بھی کھولے گئے جہاں سے بہت حد تک پانی کی کمی کو کم کیا جا سکتا ہے،لیکن اگر آپ شہر کا جائزہ لیا جائے تو ہر طرف ٹینکر ہی ٹینکر نظر آتے ہیں۔
شاید ہی کوئی علاقہ ایسا ہوجہاں پانی کا رونا نہ ہو کسی نے بہت سہی کہا ہے کہ  جانور بھی پانی کے بغیر نہیں رہ سکتے
 تو ہم تو پھر انسان ہیں شاید اگر کچھ صاحبے حیثیت لوگوں نے بورنگ نہ کرائی ہوتی تو  ان علاقوں کی صورتحال تھر سے کچھ کم نہ ہوتی۔اس صورت حال  کو دیکھتے ہوئے ان علاقوں کی انتظامیا کو چاہیئے کہ وہ حکومت کی توجہ اس مسلے کی جانب مبذول کر وائیں تاکہ  دیرینہ طور پر اسکا حل  نکالا جا سکے۔
آکر کب تک ہم اس مسلے کی جانب  جکڑے رہیں گے؟؟آکر کب تک عوام  یہ سب کچھ سہتی رہے گی۔میری اپپنی رائے یہ ہے کہ  حکومت جلد از جلد اس مسلے پر غور وفکر کرے اعر عوام کو اس مسے سے نجات دلائی جائے

تحریر عائشہ امین

0 comments:

Post a Comment