To be free and to live a free life

that is the most beautiful thing there is.

“Yoga means addition – addition of energy, strength and beauty to body, mind and soul.”

photographer gets people to pose for him. A yoga instructor gets people to pose for themselves.”

Be happy for this moment. This moment is your life.

Stay positive and happy. Work hard and don't give up hope. Be open to criticism and keep learning. Surround yourself with happy, warm and genuine people.

If you love life, don't waste time, for time is what life is made up of

Be strong, believe in freedom and in God, love yourself, understand your sexuality, have a sense of humor, masturbate, don't judge people by their religion, color or sexual habits, love life and your family.

Enjoy life while you can

Life is too precious and short to dare to waste it on mediocre dreams.

Saturday, April 28, 2018

Think about yourself

یاد رکھئے کامیاب وہ ہے جو اپنے اندر نہ صر ف تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ اپنی اُس تبدیلی سے لوگوں کو آگاہ کرکے اُن میں بھی بدلاو لانے کا موجب بنے۔اصل مہارت یہی ہے اور اصل بہادری بھی یہ کہ آپ اپنے سامنے خود اپنی ذات کے اچھے اور برے پہلو کا وقتا فوقتا تجزیہ کرتے رہیں۔اور اپنے اندر بدلاو کو خوش دلی سے اپنائے۔۔

Thursday, April 26, 2018

ڈاکٹر ابراہام کے انسانی روح کا وزن معلوم کرنے کے لئیے نزع کے شکار لوگوں پرپانج سال میں بارہ سو تجربے

لاس اینجل کے ڈاکٹر ابراہام انسانی روح کا وزن معلوم کرنے کے لئیے نزع کے شکار لوگوں پر پانج سال میں بارہ سؤ تجربے کیئے۔اس سلسلے میں اس نے شیشے کے باکس کا ایک انتھائی حساس ترازو بنایا،وہ مریض کو اس ترازو پر لٹاتا،مریض کی پھیپھڑوں کی آکسیجن کا وزن کرتا، مریض کا کے جسم کا وزن کرتا ہے اور اس کے مرنے کا انتظار کرتا ہے مرنے کے فورن بعد اس کا وزن نوٹ کرتا ہے۔ڈاکٹر ابراہام نے سینکڑوں تجربات کے بعد اعلان کیا کہ انسانی روح کا وزن 21 گرام ہے ابراہام کا کھنا تھا کہ انسانی روح اس 21 گرام آکسیجن کا نام ہے جو پھیپھڑوں کے کونوں،کھدروں،درزوں اور لکیروں میں چھپی رہتی ہے،موت ہچکی کی صورت میں انسانی جسم پر وار کرتی ہے اور پھیپھڑوں کی تہوں میں چھپی اس 21 گرام آکسیجن کو باہر دھکیل دیتی ہے اس کے بعد انسانی جسم کے سارے سیل مر جاتے ہیں اور انسان فوت ہوجاتا ہے ۔۔۔
ہم نے کبھی سوچا ہے کہ یہ 21 گرام کتنے ہوتے ہیں ۔۔؟؟
21 گرام لوہے کے 14چھوٹے سے دانے ہوتے ہیں ،ایک ٹماٹر ،پیاز کی ایک پرت،ریت کی چھہ چٹکیاں اور پانج ٹشو پیپر ہوتے ہیں ۔۔ یہ آپ اور ہماری اوقات ہے لیکن ہم بھی کیا لوگ ہیں ہم 21 گرام کے انسان خود کو کھربوں ٹن وزنی کائنات کا خدا سمجھتے ہیں .
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر روح کا وزن 21 گرام ہے تو ان 21 گراموں میں ہماری خواھشوں کا وزن کتنا ہے؟؟؟
اس میں ہماری نفرتیں،لالچ،ہیراپھیری،چالاکی،سازشیں،ہماری گردن کی اکڑ ،ہمارے لھجے کے غرور کا وزن کتنا ہے ؟؟؟؟؟۔۔۔
میں نے کسی جگہ پڑھا تھا کہ تبت کے لوگ 21 گرامون کی اس زندگی کو موم سمجھتے ہیں،یہ لوگ صبح کے وقت موم کے دس بیس مجسمے بناتے ہیں ان میں ہر مجسمہ ان کی کسی نا کسی خواھش کی نمائندگی کرتا ہے،دن کو سورج کی تپش میں اضافہ ہوتا ہے تو یہ مجسمے پگھلتے ہیں شام تک ان کی دھلیز پر موم کے چند آنسؤں کی سوا کچھ نہیں بچتا یہ لوگ ان آنسؤں کو دیکھتے ہیں اور اپنے آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ تھی میری ساری خواھشیں اور اس کے بعد ان کی آنکھیں نم ہوجاتی ہیں۔۔
ہم 21 گرام کے انسان جوخود کو 21 گرام کے کروڑوں انسانوں کا حکمران سمجھتے ہیں ہم وقت کو اپنا غلام اور زمانے کو اپنا ملازم سمجھتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں بس ذرا سی تپش ،بس ذرا سی ایک ہچکی ہمارے اختیار ہمارے اقتدار ہماری اکڑ،غرور اور چلاکی کی موم کو پگھلا دے گی ،اور جب یہ 21 گرام ھوا ہمارے جسم سے باہر نکل جائی گی تو ہم تاریخ کی سلوں تلےدفن ہوجائیں گے اور 21 گرام کا کوئی دوسرا انسان ہماری جگہ لے لے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماخوذ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

روح کا نکلنا

جب روح نکلتی ہے توانسان کامنہ کھل جاتاہے ہونٹ کسی بھی قیمت پرآپس میں چپکے ہوہے رہ نہیں سکتے روح پیرکوکھینچتی ہوہی اوپرکی طرف آتی ہے جب پھپڑوں اوردل تک روح کھینچ لی جاتی ہے اور انسان سانس ایک ہی طرف یعنی باہر ہی چلنے لگتی ہے یہ وہ وقت ہوتاہےجب چند لمحوں میں انسان شیطان اورفرشتوں کودنیامیں اپنے سامنے دیکھتاہے.

ﺍﺳﻼﻡ ، ﻣﻨﺎﻓﻘﺖ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ۔۔۔

ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺗﮭﺎﻧﮯ ﺭﺷﻮﺕ ﮐﺎ ﮔﮍﮪ ﮨﯿﮟ ۔۔۔ ﻣﮕﺮ ﻭﮨﺎﮞ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ '' ﺭﺷﻮﺕ ﻟﯿﻨﮯ ﻭﺍﻻﺍﻭﺭ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺟﮩﻨﻤﯽ ﮨﯿﮟ '' ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮐﭽﮩﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﺳﻮ ﺭﻭﭘﮯ ﻣﯿﮟ ﮔﻮﺍﮦ ﻣﻞ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ۔۔۔ ﻣﮕﺮ ﻭﮨﺎﮞ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ '' ﺟﮭﻮﭨﯽ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﺷﺮﮎ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﮯ '' ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻋﺪﺍﻟﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﻧﯿﻼﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ۔۔۔۔ ﻣﮕﺮ ﻭﮨﺎﮞ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ '' ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺣﻖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﺮﻭ '' ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺩﺭﺳﮕﺎﮨﯿﮟ ﺟﮩﺎﻟﺖ ﺑﯿﭽﺘﯽ ﮨﯿﮟ ۔۔۔۔ﻣﮕﺮ ﻭﮨﺎﮞ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ '' ﻋﻠﻢ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻭ، ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﮔﻮﺩ ﺳﮯ ﻟﯿﮑﺮ ﻗﺒﺮ ﮐﯽ ﮔﻮﺩ ﺗﮏ '' ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍﺳﭙﺘﺎﻝ ﻣﻮﺕ ﺑﺎﻧﭩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔۔۔۔ ﻣﮕﺮ ﻭﮨﺎﮞ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ '' ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﭽﺎﺋﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮔﻮﯾﺎ ﺳﺎﺭﮮ ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﭽﺎﯾﺎ '' ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﺟﮭﻮﭦ ، ﺧﯿﺎﻧﺖ ، ﻣﻼﻭﭦ ﮐﮯ ﺍﮈﮮ ﮨﯿﮟ ۔۔۔۔ ﻣﮕﺮ ﻭﮨﺎﮞ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ '' ﺟﺲ ﻧﮯ ﻣﻼﻭﭦ ﮐﯽ ﻭﮦ ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ '' ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻣﺴﺠﺪﯾﮟ ﺫﺍﺗﯽ ﭘﺮﺍﭘﺮﭨﯽ ﮨﯿﮟ ۔۔۔۔ ﻣﮕﺮ ﻭﮨﺎﮞ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ '' ﻭﺍﻥ ﺍﻟﻤﺴﺎﺟﺪ ﻟﻠﮧ ۔۔۔ '' ‏) ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺠﺪﯾﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﮨﯿﮟ ۔۔۔ ﮨﻢ ﺟﻮ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﮧ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻋﻘﯿﺪﮦ ﮨﮯ ۔۔۔۔ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﮧ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻋﻤﻞ ﮨﮯ ۔ ﺟﺐ ﻋﻤﻞ ﻋﻘﯿﺪﮮ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻣﻨﺎﻓﻘﺖ ﮨﮯ ۔ ﻣﻨﺎﻓﻘﻮﮞ ﮐﺎ ﭨﮭﮑﺎﻧﮧ ﺟﮩﻨﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻣﻘﺎﻡ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﻭﻧﭽﺎ ﮐﯿﺴﮯ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ! !؟

Tuesday, April 24, 2018

ﺩﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﮭﯿﺪ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮨﯽ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ

ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺳﺮﺥ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ، ﻧﯿﻨﺪ ﺳﮯ ﺑﮯﺣﺎﻝ ﭼﮩﺮﮦ ﺍﻭﺭ ﺑﮑﮭﺮﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﺎﻝ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮨﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﺍﺋﮯ ﺩے ﮔﺎ..
ﻃﺎﻟﺒﻌﻠﻢ ﮐﮩﮯ ﮔﺎ.. "ﺩﯾﮑﮭﻮ ! ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﺳﺎﺭﯼ ﺭﺍﺕ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ ﮐﯽ ﺗﯿﺎﺭﯼ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ.."
ﻋﺎﺑﺪ ﮐﮩﮯ ﮔﺎ.. "ﻣﺎﺷﺎﺀ ﺍﻟﻠﮧ ! ﮐﯿﺴﺎ ﻧﯿﮏ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮨﮯ.. ﺳﺎﺭﯼ ﺭﺍﺕ ﻋﺒﺎﺩﺕِ ﺍﻟﮩﯽ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺍﺭ ﺩﯼ.."
ﻣﺰﺩﻭﺭ ﮐﮩﮯ ﮔﺎ.. "ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺟﯽ ! 100 ﻓﯿﺼﺪ ﭘﮑﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺍﻭﻭﺭ ﭨﺎﺋﻢ ﻟﮕﺎﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ.."
ﺷﺮﺍﺑﯽ ﮐﮩﮯ ﮔﺎ.. "ﺑﺎﺅ ﺟﯽ ! ﺍﻟﻠﮧ ﺟﮭﻮﭦ ﻧﮧ بلواﺋﮯ.. ﯾﮧ ﺳﺎﺭﯼ ﺭﺍﺕ ﻧﺸﮧ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ.."
ﻋﺎﺷﻖ ﮐﮩﮯ ﮔﺎ.. "ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻤﺪﻡ ! ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮﻧﮯ ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﮔﮩﺮﯼ ﭼﻮﭦ ﮐﮭﺎﺋﯽ ﮨﮯ.."
ﻇﺎﮨﺮﯼ ﺣﺎﻟﺖ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﯿﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺭﺍﺋﮯ ﺩﮮ ﻟﯿﮑﻦ ﺩﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﮭﯿﺪ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮨﯽ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﻮﻥ ﮐﺘنا ﭘﺎﺭﺳﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﻥ ﮐﺘﻨﺎ ﺳﯿﺎﮦ ﮐﺎﺭ ___ ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮩﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺕ ﺗﻮ ﻃﮯ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨر ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﯿﺴﺎ ﮨﯽ ﻗﯿﺎﺱ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ..
ﻧﯿﮏ ﺍﻭﺭ ﺍﭼﮭﮯ ﺍﻧﺴﺎن ﮐﻮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺑﮭﯽ ﻧﯿﮏ ﻧﻈﺮ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ ﺍﻭر ﺑُﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺎﮦ ﮐﺎﺭ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﯿﺴﺎ ﮨﯽ ﻟﮕﮯ ﮔﺎ.. ﺍِﺱ ﻟﯿﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ رائے دیتے ہوئے ﯾﮧ ﺩﮬﯿﺎﻥ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﮨﯽ ﺳﻮﭺ ﮐﺎ ﻋﮑﺲ ﻧﻈﺮ ﺁ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ..!!

Sunday, April 22, 2018

ایک زمانہ تھا

ایک زمانہ تھا کہ دودھ پیتے بچے جب رویا کرتے تھے تومائیں انہیں بہلانےکےلیے لوری سنایا کرتی تھیں، بچوں کی نظمیں گایا کرتی تھیں، ان کاجی بہلانے کےلیے بچوں کےسے توتلے انداز میں باتیں کیاکرتی تھیں، فضاؤں میں اڑتے پرندے دکھاکر بہلانے کی کوشش کرتی تھیں، پیار بھرے انداز میں بچوں کوکبھی چاند کبھی پھول کبھی تارے نیز طرح طرح کےخوبصورت ناموں سے پکارا کرتی تھیں کہ سننے والے کا بھی دل واری ہوہو جاتا تھا۔انہیں پریوں، شہزادیوں اور بادشاہوں کی چھوٹی چھوٹی دلچسپ کہانیاں سنایا کرتی تھیں ۔
اس میں شک نہیں کہ ان چیزوں کی بچے کوسمجھ تونہ آتی تھی لیکن بچہ بہل ضرور جاتا تھا، لاشعوری طور پر متوجہ رہتاتھا کہ ماں اس کےساتھ پھر اٹکھیلیاں کرے اور پیار بھرے معصومانہ انداز میں اس سے مخاطب ہو، بچوں کو والدین کی محبت کااحساس ہوتا تھا، اپنائیت بڑھتی تھی، احترام اور انس میں اضافہ ہوتاتھا، باتوں باتوں میں بچے کئی کچھ سیکھ جایاکرتے تھے
یہ تمام ماحول اور طریقہ کار عین فطری تھا
لیکن جدید دور کی برق رفتاری نے والدین سے بچوں کاوقت بھی چھین لیا
اب بچہ روتاہے تو ماں ٹی وی کےسامنے بٹھا دیتی ہے، موبائل پر گیم لگاکر چپ کروانے کی کوشش کرتی ہے، طرح طرح کےکارٹون دکھاکر بہلانے کےنام پر جان چھڑا لیتی ہے
یہی وجہ ہے کہ بچہ جب ذرا بڑا ہوتا ہے تو والدین کےساتھ اس کاتعلق روایتی نہیں ہوتا
انس اپنائیت محبت کاوہ عالم نہیں ہوتا جس کےنظارے ہمارے بچن میں ہوا کرتے تھے
بچوں کےاندر معصومیت اور بچپنا وقت سے کہیں پہلے معدوم ہوجاتاہے
جوسوال بچے کو پندرہ سال کی عمر میں کرنے تھے چھ سال کی عمر میں کرنے لگتاہے
ہم بے شک جدید دور کی تمام ایجادات اور سہولیات سے فائدہ اٹھائیں لیکن خدارا بچوں کو ان کافطری ماحول فراہم کریں
ان کوان کےبچپنے سے محظوظ ہونےدیں
ان کی تربیت کی ذمہ داری خود اٹھائیں، موبائل ٹی وی انٹرنیٹ کےحوالے نہ کریں
اگرہم نے ایسا نہ کیا تو اس کاسب سے زیادہ نقصان ہم والدین ہی کو اٹھانا پڑےگا کیونکہ ہم نے بچوں پر والدین کے حقوق ازبرکیے ہوئےہیں اور بہت ساری توقعات کےساتھ زندگی گزار رہےہیں۔۔۔!!

        ازقلم عائشہ امین

BITTER TRUTH OF OUR MEDIA INDUSTRY

We don't have stories or actors who can show case their acting talent without being involved in intimate relationships with female counterparts in the movies or in Dramas. Every other actor of our industry has started to promote nudity in ever other movie. And even Female Drama Actors are taking off their clothes to sell themselves.

May it be AliZafar, MahiraKhan, AyeshaOmar, FerozeKhan, FahadMustafa, ShahryarMunawar, HumayunSaeed, MahwishHayat, Sohaiabro and all others.

Cant we have movies, without having all this bullshit happening between 2 Na Mahrams who later claim sexual harrassment after being so damn close to other persons chest. I mean WTH

Shame on such writers and producers and every other person who is promoting such vulgar content in the name of growing Media Industry.

I hope we can make such content which is clear of all this Nudity and stop promoting such unethical actors and writers of our industry who are selling Nudity in the name of Pakistani Cinema.

#SayNotoNudity #SayNotoBullshit #BoycottUnethicalActors

Sunday, April 15, 2018

Friday, April 13, 2018

Innovation in islam is bidat follow your prophet not families tradition

۲۷ رجب کی شب کو عبادت کا اہتمام
دیگر بدعت کے علاوہ ۲۷ رجب کی رات جاگ کر عبادت کرنے اوردن کو روزہ رکھنے کو بھی بہت اہمیت دی جاتی ہے اور اس نسبت واقعہ معراج سے کی جاتی ہے ۔{واقعہ معراج نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اور روح کے ساتھ کے سفر کو کہتے ہیں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک سفر کیا اور سدرۃ المنتھیٰ کی سیر کی اور اسی رات اللہ العزت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر فرض کی}۔
واقعہ معراج کے ظہور کی حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس واقعہ کے رونما ہونے کی تاریخ کے بارے میں کم ع بیش ۲۰ سے زائد اقوال ہیں۔جیسا کہ بعض کے نزدیک یہ واقعہ جیسا کہ بعض کے نزدیک یہ واقعہ رمضان میں ہوا۔بعض کے نزدیک ربیع الاول میں،بعض نے حجرت کے بعد ،بعض نے حجرت سے پہلے کہا۔غرض یہ کہ اس واقعہ کی صحیح تاریخ ،صحیح مہینہ کسی صحیح حدیث سے یقینی طور پر ثابت نہیں ۔ لہذا ۲۷ رجب کو شب معراج سمجھنابلکل غلط ہے۔ اور اگر بالفرض یہ ثابت ہو بھی جائے کہ ۲۷ رجب یہ شب معراج ہے تب بھی اس رات چراغاں کرنا ،نئے کپڑے بنانا ،حلوہ بنانا نا جائز اور حرام ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات مبارکہ میں واقعہ معراج کے بعد اس رات کسی خصوصی عبادت کا نہ تو اہتمام کیا اور نہ ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی قول یا عمل ۲۷ رجب کی شب خصوصی عبادت کےبارے میں ہے ۔نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ،نہ امہات المومنین ،نہ عشرہ مبشرہ نے اس رات خاص کر جاگ کر عبادت کی ۔نئے کپڑے بنائے ،چراغاں کیے ، حلوے بنائے ،قبرستان گئے اور نہ دن کو روزہ رکھا ۔لہذا ایسے تمام طریقوں اور کاموں سے بچنے کی ضرورت ہے جو دین کے نام پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایجاد کر لیے گئے ہوں۔
شیخ محمد صالح العثمین رحمۃاللہ فرماتے ہیں۔

"۲۷ رجب یا ۱۵ شعبان کی رات کے دن خوشی و مسرت کے اظہار کی کوئی دلیل نہیں ہے ،بلکہ اس طرح کے کاموں کی مخالفت کی دلیل موجود ہے ۔لہذا جب اس طرح کی محفلوں میں شرکت کی دعوت دی جائے تو ان میں کسی مسلمان کو شرکت نہیں کرنی چاہیے ،کیونکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔
وإياکم ومحدثات الأمور فإن کل محدثة بدعة وکل بدعة ضلالة

{ دین میں نئے امور نکالنے سے بچتے رہو کیونکہ ہرنئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔}
سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 121

Wednesday, April 11, 2018

Tuesday, April 10, 2018

‏قوم کی بیٹیاں

‏قوم کی بیٹیاں مختاراں مائی ، مریم نواز اور ملالہ جیسی ہی کیوں کہلاتی ہیں ؟
ارفع کریم اور مریم شہید جیسی کیوں نہی کہلاتیں ؟

Friday, April 6, 2018

Settings for Indoor Photography

Put you camera onto M for manual (this is the setting on Canon’s, not sure about other models).
Set you aperture to as big as it will go eg. F4.0 or F2.8.
Set your shutter speed to around 1/60. It is hard to shoot handheld with anything below 1/60. As a rule of thumb you should never shoot lower than your focal distance while handheld. Eg on a 50mm lense you should never shoot lower than 1/50 sec.
You will then need to use you external flash, if you can bounce your flash do this, if you have a catch light reflector built into your flash even better.
Take a few shots and see what they look like.
If they are not bright enough try bumping up your ISO to 200 then 400 and so on until you achieve an acceptable result.
This style of photography will have great lighting on people in the foreground and still have the impact of the room lighting and features in the shot. Just a plain old photo with the flash will normally burn out people in the foreground and black out the background. Give it a go!ĺ

Wednesday, April 4, 2018

سوشل میڈیا دنیا بدل رہا ہے


صحت سے سیاست تک سماجی ویب سائٹس کے گہرے اثرات۔
سوشل ویب سائٹس زندگی کے کن شعبوں میں کیا تبدیلیاں لاچکی ہیں اور لارہی ہیں۔

دنیا بھر میں کروڑوں افراد روزانہ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس استعمال کرتے ہیں ور یہ تعداد دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے۔ ایک تخمینے کے مطابق 2018 تک 2.44 بلین افراد مختلف سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارمز استعمال کررہے ہوں گے۔

سماجی ویب سائٹس کو محض کسی ایک ضرورت کے تحت استعمال نہیں کیا جارہا، بل کہ ہم اپنی زندگی کے ہر گوشے کی ضروریات اور تسکین کے لیے ان سائٹس سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ دائرہ ذاتی تعلقات سے تفریح و شغل، پیشہ ورانہ ضروریات اور تعلیم سمیت ہر شعبے تک محیط ہے۔ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ سے ہماری وابستگی اور ان سائٹس پر ہماری مصروفیات کا اندازہ ان اعداد و شمار سے بہ خوبی لگایا جاسکتا ہے کہ فیس بک پر یوزرز ہر ایک منٹ کے اندر 30 ملین پیغامات ایک دوسرے کے ان باکس میں بھیجتے ہیں، جب کہ ہر منٹ کے دوران ٹوئٹر پر 3 لاکھ 50 ہزار ٹوئٹس کیے جاتے ہیں۔
سماجی میڈیا سے ہماری یہ بڑھتی ہوئی محبت اور فروغ پاتا تعلق صرف ہمارے کمیونیکشن کے راستوں ہی کو تبدیل نہیں کر رہا بل کہ یہ ہماری زندگی کے ہر شعبے میں بدلائو لارہاہے، پاکستان میں تو خیر ابھی انٹرنیٹ اور سماجی میڈیا اتنے موثر نہیں ہوئے ہیں، لیکن پھر بھی ہمارے ملک میں اس میڈیا کے اثرات بڑھتے جارہے ہیں تاہم دنیا میں سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس سے لوگوں کا تعلق تجارت، حکم رانی اور سماجی زندگی میں تبدیلیاں لارہا ہے اور یہ سب بہت تیز رفتاری کے ساتھ وقوع پذیر ہورہا ہے۔

سوشل میڈیا کے ماہرین، تجزیہ کاروں اور ماہرین سماجیات نے دنیا میں سماجی نیٹ ورکنگ پلیٹ فارمز کے بڑھے ہوئے اثر و رسوخ اور زندگی کے مختلف شعبوں میں ان کے فروغ پاتے اثرات کے حوالے سے کچھ مشاہدات پیش کیے اور پیش گوئیاں کی ہیں جو یہ بتاتی ہیں کہ سماجی میڈیا کس طرح دنیا میں تبدیلیاں لارہا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ یہ تبدیلیاں کیا ہیں اور کن شعبوں میں رونما ہورہی ہیں۔

Tuesday, April 3, 2018

ائے رے مڈل کلاس طبقہ···

ہ
تحریر:ثناء غوری
جیب اجازت دے یا نہ دے اپنے بچے کو اس عزم کے ساتھ مہنگے پرائیویٹ اسکول میں داخل کرایا جاتا ہے کہ پیٹ بھر کے روٹی نہیں کھائیں گے مگر اپنے بچے کو کم سے کم ایسے اسکول میں تو ضرور پڑھائیں گے جہاں ہر کوئی انگریزی زبان میں بات کرتا ہو۔ یہ الگ مسئلہ ٹھہرا کہ اسکول میں داخلے والے دنوں میں تو چپراسی بھی انگریزی بولتا نظر آتا ہے۔ بعد ازاں داخلے کے چند ماہ بعد یہ راز کھلتا ہے کہ انگریزی پڑھانے والی ٹیچر بھی انگریزی پڑھانے سے قاصر ہے۔ لیکن معاشرے میں اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے ساتھ ساتھ اس پر اسٹیٹس کا گوٹہ ٹانکنا بھی تو ضروری ٹھہرا۔ سو انگریزی اسکول جیسا بھی ہو اپنے بچے پر انگلش میڈیم کا ٹیگ ہونا ہی چاہیے۔ پاکستان میں معاشی حالات جس ڈگری پر چل رہے ہیں ان میں یہ ہر گھر کی کہانی ہے، کہ انگریزی کا ٹیگ ہی بچے کا معاشی مستقبل سنوار سکتا ہے۔ اسکول فیس اور اخراجات کے بڑھنے کی صدا گھر گھر سے آتی ہے۔ امیر طبقہ امیر سے امیر تر اور غریب غربت میں دھنستا جارہا ہے۔ رہی مڈل کلاس تو وہ ایسی دلدل میں پھنسی ہے کہ بس دم نکلنے کی دیر ہے۔
اپنی اولاد کو اچھی تعلیم دینے کے خواب کو تعبیر دینے کے لیے جسم کا لہو دان کرنا پڑتا ہے اور یوں فیس دینے کی آخری تاریخ یعنی ہر ماہ کی دسویں خون خشک کرجاتی ہے۔ جو نہ دے سکے تو پندرہ کو جرمانے کے بعد،20تاریخ کو ڈبل جرمانے کے ساتھ فیس جمع کروانا ضروری ہوتا ہے، ورنہ 21  کو  تو بچے کا نام ہی اسکول سے خارج کردیا جاتا ہے۔ اب وہ کون ہوگا جو اپنے بچے کو اسکول میں رسوائی کا سامنا کرنے دے۔ لہٰذا کہیں سے بھی رقم کا انتظام کرکے فیس ادا کی جاتی ہے۔
معاملہ یہی ختم نہیں ہوتا۔ بڑا انگریزی میڈیم اسکول ہو یا چھوٹا، چونچلے اپنے عروج پر ہوتے ہیں۔ گوروں کے تمام تہوار منانا تو ہم پر فرض ٹھہرا۔ مذہبی ”فنکشنز“ میں بھی پیسے کو پانی کی طرح بہا یا جاتاہے اور یہ افسوس ناک حقیقت سامنے آتی ہے دین کی اصل روح تو کہیں فنا ہوچکی ہے، جب کہ اخراجات کی مد میں آنے والا تمام خرچہ والدین کی جیب سے پورا کیا جاتا ہے۔ پانچ سو، ہزار، منگوانا تو عام سی بات ہے، پھر ارتھ ڈے سے لے کر یلو، گرین، بلو، ریڈ ڈے پر دن کی مناسبت سے لباس کی تیاری الگ۔ ان سب پر رقم دان کرنے کے بعد سکون کا سانس لینا کسے نصیب ہے۔ کبھی بچے کو خرگوش بنانے کے لیے کپڑے ضروری ہیں، تو کبھی شیر اور بھالو کے مختلف اقسام کے فینسی ڈریس خریدنا۔ والدین کی مجبوری ٹھہری، جیب چاہے چیخ اٹھے لیکن اپنے بچے کو اسٹیٹس مینٹین رکھنے کی دوڑ میں شامل کرنا ضروری ہے۔ سو اس قسم کے فینسی ڈریس جن کی قیمت 500 روپے سے تین ہزار تک ہوتی ہے اور جنھیں بچہ فقط 15 سے 20 منٹ پہنتا ہے، خریدنا ہی پڑتے ہیں۔
یہ الگ بحث ہے کہ اسکولوں کے ساتھ اس طرح کے فینسی ڈریسز بنانے والوں کے باقاعدہ معاہدے ہوتے ہیں اور ہر لباس پہ اسکول انتظامیہ اپنا کمیشن رکھتی ہے۔ جو اسکول کمیشن نہیں لیتے وہ پروگرام تو بہر حال ضرور منعقد کرتے ہیں تاکہ اپنے اسکول کے طالب علموں کو جانوروں ···· معاف کیجیے گا، میرا مطلب ہے اینیملز سے مشابہت رکھنے والی پر فارمینس دکھانے پر ان کی تصاویر بنائیں اور نئے آنے والے گاہکوں ··· میرا مطلب ہے والدین کو ان تصاویر کی مدد سے پھانسا جاسکے۔
اب لیجیے کورس کی کتابوں کو، جو ادارہ زیادہ مراعات اور کمیشن کی بات کرے جناب! اسی کی کتاب خریدنا ضروری ہے۔ میں آج تک یہ بات نہ سمجھ سکی کہ اردو اور انگریزی میڈیم اسکولز میں کتابوں کا معیار مختلف ہوسکتا ہے، لیکن ہر انگریزی اسکول دوسرے سے مختلف کورس کیوں پڑھا رہا ہے۔ پیسے بٹورنے کا نیا حربہ یہ اپنا یا گیا ہے کہ وہ اسکول جن کی لاتعداد برانچز ایک ہی شہر میں قائم ہیں،ان اسکولزمیں سال شروع ہوتے ہی فیس چالان کے ساتھ ایک اور چالان تھما دیا جاتاہے اور یہ چالان کتابوں کی خرید کی مد میں جمع کروائی جانے والی رقم کا ہوتا ہے۔
زیادہ پرانی بات نہیں کہ کسی کو یاد نہ ہو، کتابوں کی ایک فہرست اسکول کی طرف سے مہیا کی جاتی تھی اور وہ والدین جو نئی کتابیں خریدنے سے قاصر تھے وہ پرانی کتابیں اور نئی کاپیاں دے کر بچے کی پڑھائی کے خواب کو آگے بڑھاتے تھے۔ اب انھیں کتابوں کی فہرست ہی نہیں دی جاتی جس کی مدد سے وہ جان سکیں کہ کون سی کتاب خریدنی ہے اور کون سی نہیں؟ وہ اس پر مجبور ہیں کہ اسکول کے بک اسٹور یا بتائے گئے مخصوص بک اسٹور ہی سے کتابیں خریدی جائیں، یہ بھی اچھی رہی کہ کتابوں کا نام ہی نا بتایا جائے۔کیونکہ اس صورت میں تو والدین پرانی کتابیں خرید لیں گے۔ اور اس طرح نا ہی اسکول انتظامیہ کی روزی میں برکت ہوگی اور نا ہی والدین پر مہنگائی کا عذاب نازل ہوگا۔
کتابوں کے معیار اتنے اعلیٰ ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ چھوٹا سا بچہ کس طرح اس فلاسفی کو سمجھ سکے گا۔ اب مسئلہ سمجھنے نہ سمجھنے کا تو رہا ہی نہیں۔ سمجھانے کی ذمے داری تو ماں باپ کی ہے۔ لہٰذا ٹیوشن کا سہارا لیا جاتا ہے۔ ٹیوشن کی فیس کی ادائیگی ایک چھوٹے اژدہے کی مانند گلے میں لٹکی ہوتی ہے اور اسکول کی فیس کا بڑا اژدہا دو دو ماہ کی اکٹھی فیسوں کے ساتھ زبان لٹکائے ڈرا رہا ہوتا ہے۔ پھر جیسے ہی سالانہ فیس دینے کا مہینہ یعنی اپریل شروع ہوتا ہے، یہ اژدہا پورا منہ کھول کر والدین کو نگلنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ اسکول وین کی فیس ادا کرنا تو واجب قرار پایا۔ اب ہمارا وین ڈرائیور جون جولائی میں اپنا گھر کیسے چلائے گا۔ سو بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا اس کے لیے بھی لازم ٹھہرا۔ پہیہ چلے نہ چلے دو ماہ کی تعطیلات میں یہ فیس ادا کرنا بھی ضروری ہے۔ ایک اور رواج چل نکلا ہے، اسکول کی امتحان کی کاپیاں فائلیں رنگ اور رنگ برنگی شیٹیں، جو کہ اسٹیشنری کے زمرے میں آتی ہیں، وہ بھی اسکول سے سال شروع ہوتے ہی خریدنا ہوتی ہیں۔ اب اس سامان سے بچہ فائدہ اٹھاتا ہے یا اسکول کا مالک، اس کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔
ایک معیاری انگریزی میڈیم اسکول کی فیس کم سے کم ڈھائی ہزار روپے ہے، جب کہ اس سے کم فیس والے اداروں کو معیار کی فہرست میں ہم والدین ہی نہیں لاتے اور زیادہ سے زیادہ فیس 20ہزار ہے۔ اتنی فیس لینے کے باوجود ان ٹیچرز کو بھرتی کیا جاتاہے جو کم سے کم تنخواہ میں کام کرنے پر آمادہ ہوجائیں۔ اپنے اپنے شعبے میں مہارت رکھنے والے اساتذہ تو جیسے ناپید ہوچکے ہیں۔ آج سب سے آسان دھندا اسکول کھول کر کمائی کرنے کا بن گیا ہے۔ میں مانتی ہوں کہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں۔ ایسے مخلص لوگ بھی موجود ہیں جو اس شعبے سے ایمان داری برت رہے ہیں، لیکن ایسے لوگوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ رہا گورنمنٹ اسکولز کا معاملہ، تو اس کا احوال میں اپنے گلے کالم میں بیان کروں گی۔
انگریزی میڈیم اسکولز کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ میں پرائیویٹ اسکولوں کی تنظیموں سے سوال کرتی ہوں کہ آخر کیوں ایسے اصول و ضابطے مقرر نہیں کیے گئے جن کی رو سے اسکول انتظامیہ جوابدہ ہوں کہ وہ فیس کس پیمانے پر مقرر کرتے ہیں۔ کتابیں کیوں اسکول سے خریدنا ضروری ہیں۔ آئے دن ہونے والے فنکشنز پر اٹھنے والا پیسہ کس کی جیب سے جاتا ہے۔ چلیں آپ کچھ نہ کریں اتنا تو بتادیجیے کہ انگریزی اسکولز کو آپ جتنی کیٹگریز میں تقسیم کرتے ہیں، آخر ان کیٹٹیگریز کی فیسیں کیوں مختلف ہوتی ہیں؟
اس اندھیر نگری میں اسکول کا کاروبار کرنے والوں کی پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہے۔ تو اب کوئی بھی میٹرک فیل بے روزگار اپنے گھر کے احاطے میں اسکول کھول سکتا ہے، کیوں کہ یہاں قابلیت کون پوچھتا ہے۔ ہر بچہ اس بھٹی میں قابلیت کی آگ میں نہیں جلتا، بل کہ اسکول مالکان کے ہاتھوں میں ایک نئے کرارے نوٹ کی حرارت بنا رہتا ہے۔
اب وقت آگیا ہے کہ والدین متحد ہو کر تعلیم کے نام پرکاربارکرنے والے نجی اسکولزکا بائکاٹ کریں تاکہ ان اسکولز کی انتظامیہ من مانی فیس نہ لیں سکیں۔تبدیلی لانے کی خواہش تو ہم سب کرتے ہیں لیکن اس کے لیے کوشش نہیں کرتے۔ بدلاؤ کا عمل قربانی چاہتا ہے، اس کے لیے نقصان اٹھانا پڑتا ہے، جدوجہد کرنا ہوتی ہے، لیکن ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں کچھ نہ کرنا پڑے، بس ہم ایک دن سو کر اٹھیں اور ملک میں انقلاب آچکا ہو، سب کچھ بدل چکا ہو۔ کہنا صرف اتنا ہے کہ جب تک ہم ظلم اور استحصال کے خلاف باقاعدہ جدوجہد نہیں کریں گے اور تسلسل کے ساتھ آواز نہیں اٹھائیں گے، اس وقت تک کچھ نہیں بدلے گا۔