تحفظ پاکستان کی جنگ ہماری تاریخ کا روشن باب
6
ستمبر1956ہماری عسکری تاریخ کا انتہائی اہم
ترین دن ہےیہ دن ہمیں ان دنوں کی یاد دلاتا ہےجب پاکستان کی مسلح افواج
نے بھارتی جارحیت کے خلاف اپنی آزادی اور قومی
وقار کا دفاع کیا۔ اس روز پوری قوم اورفوج
کے افسروں ،جوانوں نےباہم مل کر رفاقت کےجذبے کے ساتھ بزدل،مکاروعیار
دشمن کےناپاک اور گھناونےعزائم کوخاک میں ملا دیا۔
ان بے مثال اور لازوال قربانیوں کی بدولت آج ہمیں تاریخ میں باوقار مقام حاصل ہے۔درحقیقت 6 ستمبر ہماری قومی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہےاور یہ عزت وقار کے ساتھ زندہ رہنے کی قومی خواہش رکھتا ہے۔ ہماری مسلح افواج کو دنیا کی دوسری افواج سےاس لحاظ سے بھی برتری حاصل رہی ہے کہ اس نے انتہائی کٹھن حالات اور سازشوں کے باوجود اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی بجا لانے میں جرت اور بہادری کا مظاہرہ کیا اور نا ممکن کو ممکن کر دکھایا عسکری جوانوں اورافسروں کو قوت ایمانی کی جس دولت سے اللہ نےنوازرکھا ہے یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ ہم سے دس گناہ طاقت ور دشمن بھی ہم سے خوف زدہ رہتا ہے۔
ان بے مثال اور لازوال قربانیوں کی بدولت آج ہمیں تاریخ میں باوقار مقام حاصل ہے۔درحقیقت 6 ستمبر ہماری قومی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہےاور یہ عزت وقار کے ساتھ زندہ رہنے کی قومی خواہش رکھتا ہے۔ ہماری مسلح افواج کو دنیا کی دوسری افواج سےاس لحاظ سے بھی برتری حاصل رہی ہے کہ اس نے انتہائی کٹھن حالات اور سازشوں کے باوجود اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی بجا لانے میں جرت اور بہادری کا مظاہرہ کیا اور نا ممکن کو ممکن کر دکھایا عسکری جوانوں اورافسروں کو قوت ایمانی کی جس دولت سے اللہ نےنوازرکھا ہے یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ ہم سے دس گناہ طاقت ور دشمن بھی ہم سے خوف زدہ رہتا ہے۔
6 ستمبر کی صبح بھارت
اچانک پاکستان پرحملہ آور ہوا یہ حقیقت ہے
کہ جنگ محض ہتیاروں سے نہں بلکہ جذبوں سے
جیتی جاتی ہے اس وقت یہ جزبہ پاکستانی قوم میں بیدار تھا۔6 ستمبر کو بھارتی فوج
سات مقامات سےپاکستان پر حملہ آورہوئی۔اس کا مقصد پاکستان کو گھیر لینا اور اسکی
شہ رگ کو کاٹ دینا تھا۔ ان کوشایداس بات کا یقین تھا کہ وہ پاکستان کو باآسانی فتح
کر لے گا۔امن اور دوستی کا نقاب چڑھا کر بھارت پاکستان پر حملہ آور ہوناچاہتا تھا۔ لاہور پر تین طرف سے بھارت کا زبردست حملہ لیکن پاکستانی فوج کی
جوابی کاروائی کے بعد دشمن بھاگ کھڑے ہوئےپاکستانی علاقےآزاد کرالیئے گئے۔اس جنگ
میں فوج نے تو جو ہمت وبہادری کا مظاہرہ کیا اس کی مثال تو تاریخ میںنہیںملتی لیکن
یہاں پاکستانی قوم کا جذبہ بھی قابلِ دید تھا جس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
آج ہمارے ملک میں غیرمسلموں کاراج ہے ۔اور آج ہم مسلمان یہ بھولے
بیٹھے ہیں کہ کیسے دوستی کے نام پر ہمارے ملک پر بھارت افواج نے حملہ کیاتھا۔ہمارا تو دین ہمیں یہی تعلیم دیتا ہے کہ یہودی اور مسلمان
کبھی دوست نہیں ہوسکتے۔لیکن پھر بھی ہم جان کہ انجان بیٹھے ہیں۔
تحریر:عائشہ امین
(جناح یونیورسٹی فارومین)






0 comments:
Post a Comment