ہر مسلمان کوماہِ رمضان
کا شدت سے انتظارہوتا ہےگنہگار لوگ اپنے رب کے حضور سجدہ کر کے اپنے گنہاوں کی
معافی کی بھینک مانگتے ہیں اور یہ ماہ تو
شروع سے ہی رحمت وبرکت کا مہینہ رہا ہےغریب
کو اس ماہ میںاللہ وہ نعمتیںعطا کرتا ہےجو عام دنوں میں میسر نہیں ہوتیں۔لوگ اللہ
کی رضا کی خاطر اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس ماہ مین خرچ کرنے کا مزہ ہی کچھ اور
ہے اس ماہ میں نیکیوں کا جوصلہ ملتا ہے وہ باقی مہینوں کی نسبتاََ دکنا ہوتا
ہے۔مساجد نمازیوں سے بھری
ہوئی ہوتی ہیں۔رمضان کی رونقیں مزید بڑھ کاتی ہیں۔افطار کا سماںایمان میں مزیدجلا بخشتا ہے۔
ہوئی ہوتی ہیں۔رمضان کی رونقیں مزید بڑھ کاتی ہیں۔افطار کا سماںایمان میں مزیدجلا بخشتا ہے۔
ہم ایک اسلامی فلاحی
ریاست میں قیام پزیر ہیں جہاں رمضان المبارک کے آتے ہی اشیئاِ خوردنوش کی
قیمتوںمیںاضافہ کر دیا جاتا ہے۔شکلیں مومنوں والی اور کرتوت یہودیوں والے یہاں ہندوں کا نام نہیں لوں گی۔ کیونکہ
انکی حکومت کاطرزِ تجارت ظالمانہ نہین ہوتا۔حتا کہ اس ماہ میں توبرٹش گورنمنٹ بھی
اشیاء کی قیمتوںمیںناقابلِ یقین حد تک نفع کم کردیتی ہے تاکہ ہر چیز ہر کسی کی خرید میں ہو اس کے برعکس اگر
ہم مسلمان حکمران کی بات کریں احساس ہوگا کہ
یہ کیا کرتی ہے۔ مسلمان کھجور سے روزہ افطار کرتے ہیں تو یہ کھجوروں
کورمضان آنے سے قبل زخیرہ کر لیتےاور رمضان آنے پر انھیں مہنگے داموں فروخت کرتے۔
ساتھ ہی پھل وغیرہ کی مانگ میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے تو ان کے داموں میں بھی دگنا
اضافہ کر دیا جاتا ہے پھر اگر کپرا مارکیٹ کی بات کی جائے تو وہاں نورانی چہرے
والے حضرات لوگوں کوسیل کے نام پر لوٹتےاورمنہ مانگے دام منگتے۔عید کے نئے کپڑوں
کی خریداری پر لوگوں کونہایت بے دردی سے ذبح کرتے ہیں۔رمضان مین یہ دکانداراتنی
عبادت کر لیتے ہیں کہ بے خوف اور نڈر ہوکر لوگوں سےناجائز منافع حاصل کرتے ہیں۔یہ
لوگ اس لیئے بھی اتنے دلیرہیں کیونکہ آج
تک کوئی زمہ دار حکمران نہیں آئے جو انکے خلاف کوئی ایکشن لیں کیونکہ پھلوںو
سبزیوں کے باگات اور چاول چینی وگیرہ کی ملیں تو حکمران اور دیگر سیاسی جماعتوں کے
پاس ہیں جن کی وجہ سے عوام کو کئی گناہ زیادہ مہنگی اشیاء فراہم کی جاتی ہیں۔مدد
کے نام پر عوام کوبے واقوف بنا ک لوٹا جاتا ہے یہ کہ کر حکومت کی جانب سے سبسڈی دی
جائے گی،رمضان بچت بازار لگائے جایئں گے۔
جہاں اشیاء کوسستے ریٹس پر اشیاء کو فروخت کیا جائے گا۔ کبکہ ایسا ہوتا نہیں۔
خوفِ خدا تو دور تک نظر
نہیں آتا اگر ہماری حکومتیں ایمانداری سے کام کریں اور اپنی آخرت کو یاد رکھیں اور
پورے ملک میں ناجائز منافع خوری کو بند کریں اور رمضان المبارک کی ابتداء سے قبل
ذخیرہ کیا گیا مال بازاروں میں آجائے تو عوام بھی خوشحال ہوجائے گی۔۔اللہ کا خوف
کریں اس ماہ میں تو مسلمانوں کو نہ لوٹیں۔ورنہ اللہ کے عزاب سے کوئی نہہیں بچ
سکتا۔
تحریر : عائشہ امین
جناح یونیورسٹی برائے
خواتین






0 comments:
Post a Comment