Saturday, September 19, 2015

published in Daily Express on 14th September

دورِ جدید کا تنز ومزاح اور ہماری تہذیب
مزاح مزاج کا دوسرا نام ہے۔یہ ایک ایسا فعل ہے جس سے لوگوں کے چہروں پے ہنسی آتی ہےمزاح کے بھی دوپہلوہیں ایک مزاح معیاری زمرے میں آتا ہے  جسے دیکھ کرانسان اچھا محسوس کرے اوردوسرا مزاح بیہودگی ہے جسے دیکھ کر انسان شرمندگی محسوس کرے ۔جب طنزومزاح میںبےحیائی شامل ہوجائےتویہ ایک نازیبا فعل بن جاتا ہے۔
ایک وقت تھا جب  لوگ اپنی گھروالوں کے ساتھ مزاحیہ اورمعیاری ڈرامےدیکھتےاور لطف اندوز ہوتے۔لیکن اب مزاحیہ ڈرامےایسے ہوگئے ہیں کہ انہیںبچوں کے ساتھ بیٹھ کر نہیں دیکھاجاسکتا۔'۔بلبلے'اور' میں اور تم'  جیسے کئی ڈرامے جس میں خاوند اورزوجہ کے رشتےکو ہنسی میں اڑانااورعورت کازیورشرم وحیا کو مزاح کے نام پر فروخت کرنااورتواورایسی زبان استعمال کرناجوبچوں کی زبان پرآجائے اور وہ بھی اسی زبان و لہجہ میں بات کرنے لگیں۔
۔یہ سب معاشرے میں بےحیائی کا نامور پھیلا تا ہے۔ مگر پیسہ کمانے کی دوڑ نےبھلے برے کی تمیزہی مٹا دی ہےمزاحیہ ڈراموںمیںبےحیائی کاعنصرمعاشرے میں برایئاں پھیلانے کاہی زریعہ نہیں بنتا بلکہ معاشرتی اورسماجی برائیوںمیںبھی اضافہ کرتا ہے۔مزاحیہ ڈراموں کا مقصد لوگوں کو ہنسی ہنسی میں کچھ نہ کچھ سیکھانا اور ہلکے پھلکے طریقوں سےاپناپیغام لوگوں تک پہنچانااور دن بھرکے تھکے ہوئے زہنوں کودوبارہ تازہ دم کرنا ہوناچاہیئے۔الف نون،ہالف پلیٹ آنگن تیڑھا جیسےکئی ایک ڈرامے آج بھی لوگوں کویاد ہیں۔ان ڈراموں کی کاسٹ اور پروڈیکشن اپنی مثال آپ ہے۔معین اختر،بہروز سبزواری،قاضی واجد اور ان جیسے کئی ایک نام جن کے مزاحیہ پروگرام دیکھنے کے لئے سڑکیں سنان ہوجایا کرتی تھیں ۔گھر کے تمام افراد ایک  ساتھ بیتھ کر ان مزاحیہ شوز کو دیکھا کرتے تھے۔ لیکن اب کچھ برسوں سے ٹی وی کا ماحول انتہائی حد تک بگڑچکا ہے۔جب سے حکومت نے پرائیوٹ پروڈکشن کوجگہ دی ہے۔ہمارے ڈراموں کا معیار خراب سے خراب تر ہوتا جا رہا ہے۔خصوصاََ مزاحیہ ڈراموں کا معیار گر چکا ہے۔اب ہمارے کامیڈی ڈرامے بھی ایسےنہیں رہےکہ وہ ہم سب کے ساتھ بیٹھ کر دیکھ سکیں آج کل مزاح کے نام پر فحاشی دیکھائی جاتی ہے۔جس کودوسرے لفظوں میں آزادی کہا جاتا ہے۔اب مزاحیہ ڈراموںمیں مزاح کم اور بے حیائی کے مناظر اور غلط زبان زیادا استعمال کی جاری ہے۔پرائیوٹ چینلز نے مزاحیہ ڈراموں کا معیار انتہائی نچلے درجے کا کر دیا ہے۔فحاشی اور بے حیائی کے اس دور میں  بڑےبڑے پرائیوٹ چینلز سب سے آگے ہیں۔ جوایسے کامیڈی ڈرامے نشر کر رہے ہیں جس سے اردو ادب اور آنے والی نسلوں کوکافی نقصان ہو رہا ہے۔ہمارے نوجوان بچےغلط طرز کی زبان سے متاثر ہورہے ہیں۔پیسہ کمانے کی دوڑ میں ہمارےبعض چینلز اتنےآگے نکل آئے ہیں کہ مزاحیہ ڈراموں میں دیکھائی جانےوالی اخلاق سے گری ہوئی حرکات ومکالمات سے کوئی غرض نہیں  یہ تک نہیںسوچاجاتا کہ کچےزہنوں پراسکاکیااثرہوگا۔
                  چینلز کےپروگراموںمیںضابطہ اخلاق کوقائم رکھنے کے لیے قوائد وضوابط موجود ہیں جو کہ ان چینلز کےمالکان کوبھی معلوم ہیںمگرنہ معلوم کیوں پیمپرا جس کہ پاس پروگراموں کو کنٹرول کرنے کی اتھارٹی ہے۔قواعد وضوابط کی خلاف ورزی پر کوئی اقدام کیوں نہیں اٹھاتی۔ہرکوئی آزادی اظہار کے نام پرمعاشرےاورہماری تہذیب کی دیواروں میںدراڑیں ڈالنے پرتلاہواہے۔

تحریر: عائشہ امین
جناح یونیورسٹی برائے خواتین



0 comments:

Post a Comment