To be free and to live a free life
that is the most beautiful thing there is.
“Yoga means addition – addition of energy, strength and beauty to body, mind and soul.”
photographer gets people to pose for him. A yoga instructor gets people to pose for themselves.”
Be happy for this moment. This moment is your life.
Stay positive and happy. Work hard and don't give up hope. Be open to criticism and keep learning. Surround yourself with happy, warm and genuine people.
If you love life, don't waste time, for time is what life is made up of
Be strong, believe in freedom and in God, love yourself, understand your sexuality, have a sense of humor, masturbate, don't judge people by their religion, color or sexual habits, love life and your family.
Enjoy life while you can
Life is too precious and short to dare to waste it on mediocre dreams.
Thursday, March 29, 2018
Wednesday, March 28, 2018
شام میں جاری خانہ جنگی اور اقوامِ عالم کی مجرمانہ خاموشی
قیامت سے پہلے قیامت کا منظر اگر کوئی دیکھنا چاہے تو شام میں جاری آگ اور خون کی ہولی کو دیکھ لے ۔شام وہ ملک جہاں 15 مارچ 2011 کو اس ہولناک کھیل کا آغاز ہوا۔اور اب سات سال مکمل ہونے کے باوجود نام نہاد جمہوریت کے دیوتاؤ کو لاشوں کا انبار کا لگانے سے سکون نہیں ملا ۔۔شام میں برپا قیامت نے اب تک پانچ لاکھ شامیوں کی جانیں لی ہیں جبکہ ایک کروڑ تیس لاکھ لوگ کسمپرسی کی حالت میں ہیں جنہیں انسانی مدد کی اشد ضرروت ہے۔یہ وہی پندرہ مارچ دوہزار گیار ہے جب شام میں جمہوری اصلاحات لانے کے لیے شامی شہریوں نے دمشق اور حلب اور دیگر بڑے شہروں میں حکومت مخالف مظاہروں کا انعقاد کیا۔شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کا ردِعمل ان مظاہرین کے خلاف ایک کڑا آپریشن کرنا تھا۔ اسی دوران ملک میں جہادی ملیشیاؤں نے بھی فروغ پایا اور حکومتی ردعمل سخت تر ہوتا گیا۔
احتجاج ،دہائیاں ،آنسو ،خون ،مذمت ،بیانا ت اور لاشوں کی سیاست کب تک اور کہاں تک؟ خطے میں موجود مختلف ممالک امریکہ اور روس سب نے اس جنگ میں اپنے مفادات کے لیے کام جاری رکھا ہوا ہے اور اس کی وجہ سے یہ جنگ انتہائی پیچیدہ اور خطرناک ہو گئی ہے۔
بشارالاسد کی مطلق العنان حکومت کے خلاف شام کے عوام سات سالوں سے برسر پیکار ہیں اور ہر ظلم برداشت کررہے ہیں۔جب حکومت مخالف تحریک نے زور پکڑاا ور اس پر مظالم میں شدد آگئی تو اس لڑائی میں مظلوم شامی عوام کی مدد کے لیے مختلف جہادی تنظموں اور گروہوں کے ارکان بھی شریک ہوگئے ،جس کے ساتھ ہی بشاالاسد کی حکومت نے ظلم کی نئی داستانیں رقم کرنا شروع کردیں۔جلے ہوئے جسم ،کٹی پھٹی لاشیں ،تصویروں اور ویڈیوز کی صورت دنیا کے سامنے آتی اور انسانیت کے حامل ہر شخص کے دماغ میںُ چبھتی رہیں۔مخالفین سے اتنا بھیانک سلوک ،بے خطا شہریوں پر اتنے ہولناک مظالم ،آخر دنیا کب تک بے حس بنی رہے گی اور نظریں چراتی رہے گی۔
انسانیت کی بھیانک تصویر پیش کرتے شامی مسلمانوں کے درندہ صفت دشمن اپنے نوکیلے ناخنوں سے لاشے نوچ لیتے ہیں ۔یہ کس جرم کی پاداش میں شامی مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹایا جارہا ہے۔شام میں اس وقت دارالحکومت دمشق کے مشرق میں واقعہ مضافاتی علاقے غوطہ میں شدید لڑائی جاری ہے۔غوطہ کا شمار اُن چند علاقوں میں ہوتا ہے جہاں باغیوں کی اکثریت ہے اور اس علاقے کو سنہ 2013 سے شامی افواج نے محصور کیا ہوا ہے اور گذشتہ ماہ فورسز نے مشرقی غوطہ کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کے لیے کارروائی کا آغاز کیا تھا۔اگرچہ یہ علاقہ باغی فورسز کے کنٹرول میں ہے تاہم وہاں سے عام شہریوں کے انخلا کے حوالے سے مذاکرات میں تھوڑی بہت کامیاببی ہوئی ہے۔حکومتی فورسز نے تقریباً نصف علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور اس دوران ہونے والی کارروائیوں میں 900 سے زیادہ شہری مارے جا چکے ہیں۔کہاں ہے دنیا میں امن کے ٹھیکدار جو امن کے ایسے عاشق ہیں کہ امن کے نام پر جنگ مسلط کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے کہاں ہیں انسانی حقو ق کے نعرے لگانیوالے جو اس نعرے کی آڑ میں کسی ملک کو ہدف بنالیں تو تجارتی پابندیوں سے فضائی حملوں تک سب کچھ کر گزرتے ہیں۔شام میں جاری خانہ جنگی کو انسانی المیہ قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق زید رعد الحسین نے اپنے حالیہ بیان میں کہا’’شام کی خانہ جنگی کے آغاز سے جو کچھ ہو رہا ہے، سخت شرمناک ہے، اس صورتحال کو روکنے میں ناکامی دراصل عالمی ڈپلومیسی کی ناکامی ہے‘‘۔اور ایسے بیان ہر کچھ عرصے بعد ان کی طرف سے سامنے آتے رہتے ہیں جو لفظوں کی ہیر پھیر کے سوا اور کچھ نہیں۔
شامی حکومت کی حکمت عملی بڑی واضح ہے جس میں مشرقی غوطہ کو مختلف حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے یہاں موجود باغیوں کی حمایت اور رسد کے نیٹ ورک کو ختم کرنا ہے اور حکومت کو اب بظاہر اس مقصد میں
کامیابی حاصل ہو گئی ہے۔مشرقی غوطہ میں موجود باغیوں کا تعلق کسی ایک گروہ سے نہیں بلکہ یہ کئی چھوٹے گروہ ہیں جن میں جہادی بھی شامل ہیں۔ یہ گروہ آپس میں بھی لڑ رہے ہیں اور اس کا فائدہ شامی حکومت کو ہوا ہے۔علاقے میں سب سے بڑا گروہ جیش الاسلام اور اس کا حریف گروہ فیلک الرحمان ہے۔فیلک الرحمان ماضی میں جہادی گروہ حیات الشام کے ساتھ لڑتا رہا ہے جو کہ النصرہ فرنٹ کا ایک دھڑا ہے۔
شام میں بربریت فتح یاب ہو رہی ہے کیونکہ جمہوری طاققتیں اس کا سامنا کرنے سے ڈرتی ہیں۔اسد حکومت کے اتحادی روس اور ایراناپنی جارحانہ پالیسی پر ڈٹے ہوئے ہیں۔شامی فوجی مشرقی غوطہ کا گھراؤکرتی ہے جس کے نتیجے میں پانچ سو سے زائد افراد ہلاک ہوتے ہیں جن میں سے اکثریت عام شہرویوں کی ہوتی ہے۔شام میں گھر گھر لاشے ہیں جگہ جگہ تباہی ہے لیکن دنیاکے طاقتوروں کو نہ خون میں نہاتا امن نظر آتا ہے نہ انسانی حقوق کی بد ترین پامالی دکھائی دیتی ہے۔روس نے ہمیشہ اسد حکومت کے اقدامات کا دفاع کیا حالانکہ شامی فوج نے کیمیائی ہتھیار بھی استعمال کیے اور ہسپتالوں کو نشانہ بھی بنایا جو جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔55 لاکھ سے زائد شامی دیگر ملکوں میں پناہ گزین ہیں، جبکہ 60لاکھ داخلی نقل مکانی کا شکار ہیں۔
روح کانب اٹھتی ہے شامی مسلمانوں کی حالت دیکھ کر دل میں آتا ہے کہ خدا کوئی وسیلہ بنادے اور میں اپنے بھائیوں بہنوں کی مدد کے لیے شام پہنچ جاوں ۔میں وہاں نہیں ہوں لیکن میرا قلم لکھتا رے گا ۔ہر اس ظلم کے خلاف جو انسانیت پر ہوگا جب تک سینے میں دل دھڑک رہا ۔سانسوں کی روانی باقی ہے ،میرا قلم ظلم کے خلاف لکھتا رہے گا ۔بشارالاسد کی حمایت کرنیوالے امن کے امین،اپنی اس بے رحمی اور منافقت کے لاکھ جواز پیش کریں ،خدا کی عدالت میں انھیں اسی بے دردی سے کچلا جائے گا جو ظلم آج انسانیت پر وہ کر رہے ہیں اور اس کا جواب انھیں دینا ہوگا۔شام کی سرزمین ان سات سالوں میں خون
سے نہا کر اور بھیانک تباہی سے گزر کر ہماری دنیا کے تضادات ،منافقت اور بے حسی کا پردہ چاکررہی ہے۔یہ کسی فرقے کی جنگ نہیں،یہ ظالم اور مظلوم کے درمیان معرکہ ہے ،غاصب و جابر حکمراں اور عوام کے درمیان لڑائی ہے،جس میں نہتے شہریوں کو بے دردی سے قتل کیا اور سفاکی کی نئی کہانیاں رقم کی جارہی ہیں ۔بشارالاسد کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم میں کوئی اس کا ساتھ دے رہا ہے ۔کوئی مذمت کی رسم ادا کررہا ہے اورکوئی چب چاپ خون بہتے اور جسم جلتے دیکھ رہا ہے۔یوں اس ظلم میں سب شریک ہیں۔
بشار الاسد،خمینائی اورر پوتن خانہ جنگی کا خاتمہ فوجی طریقے سے کرنا چاہتے ہیں جو کسی صورت ممکن نہیں۔اقوامِ متحدہ اور مغربی ممالک کو جلد ازجلد شام کے مسئلے کا سنجیدگی سے حل نکالنا ہوگا ۔ورنہ شام میں ہر روز قیامت مچتی رہے گی ،جنازے اٹھائے جاتے رہیں گے اور بستیاں کی بستیاں تباہ ہوتی رہیں ۔
Tuesday, March 27, 2018
Ek talkh haqiqat
Agar aurtain bhi mardon ko ghairat k nam py qatal krtin ..
Tu mard sirf Biology ki kitabon main milty
Ref:Bano Qudsia
Sunday, March 25, 2018
پیسے کی کیا اوقات ھے.
عوام کا ایک بڑا زبردست ڈائیلاگ ھے کہ جناب پیسے کی کوئی اوقات نہیں ھے پیسے کو میں کچھ نہیں سمجھتا
ایک جگہ پر میرا جانا ھوا تو وہاں دو لوگ پانچ ہزار روپے کیلئے لڑ رہے تھے ان میں سے ہر ایک کا یہی کہنا تھا کہ پیسے کی کیا اوقات ھے میں لاکھ روپے کو کچھ نہیں سمجھتا میں کروڑ روپے تے لعنت بھیجدا واں
مگر ایک گھنٹہ وہ پانچ ہزار کی خاطر لڑتے رہے اور پھر دوسرا وقت طے کیا اس پانچ ہزار والے مسئلے کیلئے مگر کہہ یہی رھے تھے کہ پیسے کی کوئی اوقات ھے پیسہ کچھ نہیں ھے
میری سامنے کی بات ھے باپ کو پیسے کی خاطر مرنے کے بعد بھی گلے میں رسے ڈال کر گھسیٹا اور ہڈیاں توڑیں تاکہ فریق مخالف پر ڈال کر ان سے زمین ہتھیائی جاسکے.
مگر پیسے کی کیا اوقات ھے
آئے دن باپ کو بھائی کو پیسے کی خاطر گولیوں سے چھلنی کردینے کی خبریں اخباروں کے ورق کالے کرتی ہیں
مگر پیسے کی کیا اوقات ھے
ایک خبر کے مطابق قندیل بلوچ کا قتل بھی بھائی کو پیسے نا دینے پر ہوا
مگر پیسے کی کیا اوقات ھے
ہر روز کتنی عزتیں نیلام ہوتی ہیں اس پیسے کی خاطر کتنوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوگا یہ بازار حسن یوں ہی تو نہیں قائم ہوجاتے کسی غریب کی بیٹی نیلام ہوتی ھے
مگر پیسے کی کیا اوقات ھے.
مسلمان مرزائی بن جاتے ہیں
ہر ایک پیسے کے پیچھے مارا مارا پھرتا ھے مگر پیسے کی کیا اوقات ھے
مگر زمانہ بتاتا ھے پیسے کی کیا اوقات ھے
پیسہ انسان کو کفر تک پہنچا دیتا ھے
ہر انسان پیسہ پیسہ کررہا ھے مال مال روپیہ روپیہ بس صبح و شام اسی کے خواب اسی کو اوڑھنا بچھونا بنایا ہوا ھے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ھے جسکا مفہوم ھے
کہ آدمی کہتا ھے کہ میرا مال میرا مال میرا مال مگر آدمی کا مال وہی ھے جو اس نے کھا لیا پہن لیا یا آگے صدقہ کردیا..!
Saturday, March 24, 2018
کہتے ہیں انسانیت کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ حقیقتاً اس بات میں ذرا بھی صداقت نہیں۔ انسانیت مسلمان بھی ہوتی ہے، عیسائی بھی، یہودی بھی اور ہندو بھی۔ اور ہمارے ہاں تو انسانیت کئی اور طبقوں میں بھی بٹی ہوئی ہے، فرقہ ورانہ انسانیت اس جذبے کی لسانی اور علاقائی تقسیم اس کے علاوہ ہے۔جی ہاں،کم سے کم ہمارے پاکستان میں تو ایسا ہی ہے انسانیت کا مذہب بھی ہوتا ہے، فرقہ بھی اور زبان بھی۔
ثناءغوری
اسلام کی تعلیمات درندوں کے شر سے بچنے کیلئےسب سے زیادہ محافظ ہیں
عورت سب کچھ کرے لیکن پردہ میں رہ کر یہی پاکیزگی ہے۔
پردہ عورت کو قید نہیں کرتا بلکہ پردہ عورت کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔
عورت بے پردہ ہوکر مرد کے صرف شانہ بشانہ ہو سکتی ہے لیکن باپردہ ہوکر وہ مردوں سے دو ہاتھ آگے نکل سکتی ہے۔
اللہ تعالی ہماری ماوں بہنوں بیٹیوں کو ایسی آزمائشوں اور پریشانیوں سے اپنی پناہ خاص میں رکھے۔اور ان کی عزتوں کی حفاظت فرمائے۔آمین یارب العالمین
message for girls
Maa baap k dar, haqiqat mn badal jatey hain or phir bht nuqsan hojata hai
mohbt karna gunah nahi hai
Mohbat mn behak jana gunah hai
Kehty hain mohbat man sb jaiz hy
ghalt kehty hain
Mohbt wo jaiz hai jis mn pakezgi ho
Pak mhbt jaiz hai
Koi mhbt izat or maa pbaap k man sy barh k ni hoti
mohbt jeetny ki khatir apna sab kuch qurban na kijiye maa baap ka man tootny na dijiye wrna hath kuch ni aye ga
Friday, March 23, 2018
بیٹی کو بولنے کی اجازت دیجئے
بیٹی کو بولنے کی اجازت دیجئے تاکہ اگر اس کے ساتھ کچھ غلط ہورہا ہے تو وہ آپ کو اعتماد میں لے کر احوال بیان کر سکے۔ آخر وہ ایسی غلطی کا خمیازہ بھگتے ہی کیوں جو اُس نے کی ہی نہ ہو۔ یاد رکھئے بے باکی اور حساب بے باک کرنے میں فرق ہے۔ روزانہ ایسے کتنے ہی لوگ مجھے نظر آتے ہیں جو عورت کے حوالے سے اپنی سوچ کی گندگی کو نہ ظاہر کر پاتے ہیں اور نہ ہی چھپا پاتے ہیں۔ جب آپ کسی برے فعل کو اپنی نگاہوں کے سامنے ہوتا ہوا دیکھیں اور آگے بڑھ جائیں تو یاد رکھیے گا کہ کل وہی سب کچھ آپ کے اپنے گھر کے فرد کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ کہنے کو ہم سب کی زندگی کے دائرے مکمل میں لیکن کہیں نہ کہیں غور کیجئے کے ہم نے اپنی بیٹیوں کے معاملے میں یہ دائرے نامکمل چھوڑ دیے ہیں۔ بیٹی ایک نعمت ہے اسے بولنے کی اجازت دیجئے تاکہ اگر اس کے ساتھ کچھ غلط ہورہا ہے تو وہ آپ کو اعتماد میں لے کر اپنااحوال بیان کر سکے۔ ورنہ معاشرے سمیت آپ کے اور آپ کی بچی کے درمیان بھی ایک طویل خلیج حائل ہو جائے گی۔ آخر وہ ایسی غلطی کا خمیازہ بھگتے ہی کیوں جو اُس نے کی ہی نہ ہو۔ یاد رکھئے بے باکی اور حساب بے باق کرنے میں فرق ہے۔ عورت جس روپ میں ہو عزت کیے جانے کا قابل ہوتی ہے۔ وہی عورت جس کے بطن سے ہمیں پیدا کیا گیا، وہی عورت جو اپنے سینے سے رزق اپنے بچوں کے منہ میں ڈالتی ہے۔ وہی عورت جو بولنا سکھاتی ہے۔ ماں! رب کی رضا سے رب کا زمین پر اتارا جانے والا ایک وہ نمائندہ جسے شاید رب نے اپنے ہونے کا یقین دلانے کے لیے زمین پر پیدا کیا کہ دیکھو تمھارا رب اتنا رحیم و کریم اور اتنا مہربان ہے جیسے تمھاری ماں۔ رب کی محبت کو ماں کی محبت سے تشبیہہ دی گئی اور لوگوں کو سمجھایا گیا کہ تمھارا رب تم سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے۔استاد جیسے باپ کا دوجہ حاصل ہے ان کی طرف سے ایسے ناقابلَ برداشت رویے کی جتنی مظاہمت کی جائے وہ کم ہے میں خود تدریس کے پیشے سے وابستہ ہوں۔ چند اساتذہ کی وجہ سے ہم سب کی گردنیں شرم سے جھک گئی ہیں احساس ِدرد کی شدد سے روح کانپ جاتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں اخلاقیات کی قدریں متعین کردی گئی ہیں اُن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ عورت اپنی زبان بند رکھے اور ہم اُسی دائرے کے گرد چکر لگا رہے ہیں۔ کائینات کے ہر مظہر کو ننگی آنکھ سے دیکھنے کا حوصلہ رکھیے پھر آپ کو اندازہ ہوگا کہ ہمارا معاشرہ کس حد تک اخلاقی پستی کا شکار ہوچکا ہے۔
Be A Pakistani Instead of being Sindhi Punjabi Baloch or Muhajir
Today, my country, Pakistan is more divided than the subcontinent was in the 1960s amongst Hindus and Muslims. Today, people call themselves Balochis, Punjabis, Pashtuns and Sindhis instead of just Pakistanis; they put their provincial ethnicity before their nationality. People consider people from other provinces – who speak different languages -as their enemies; they forget that they all belong to the same country! Pakistanis blame the government for all their problems, but they refuse to consider their own wrong doings. They litter and then they complain about how dirty the city is. They bribe the police officers and then complain about the police force being corrupt. They carry guns and then create a hue and cry over how everyone carries a weapon and how the law and order conditions here are bad. People like to blame other people who speak different languages for their own problems. For example, Punjabis blame Sindhis for the shortage of water. People also like to stereotype people. For instance, if one Sindhi is not a good person, they would consider the entire Sindhi population as ‘bad.’ If one Pathan is an extremist about religion, then people would consider the entire Pathan population to be the same. If one Baloch is a gun enthusiast and enjoys shooting, then the entire Baloch population must be the same. People are hypocrites; they call themselves patriotic “Pakistanis” and in the same breath they call Sindhis thieves, Punjabis selfish, Balochis dangerous and the Pashtuns stupid and extremist. At 15 years of age, If I am able to see the stupidity of these statements, why can’t others? In Pakistan there are around 105 political parties contesting for the elections; this goes to show just how divided Pakistan is and how people only think about themselves and not the country. Who they will vote for in the elections depends mostly on whether they are Punjabi, Sindhi, Balochi or Pashtun, and whether it will be any good for their province. They think that if they are Punjabi then they should also vote for a Punjabi because he/she will provide them (Punjabis) with employment and food. Similarly, Sindhis, Pashtuns and Balochis will vote for their ‘own kind’ too. The good of the country as a whole is not considered. Keeping in mind this type of thinking, our country’s politicians have also adopted a way that just placates the people of one particular province that they belong to, even if it means sacrificing the rights of other Pakistani citizens. Today Pakistan is in such a state that people have lost their faith. They try their best to run away from these problems rather than facing them. Over 50% of our population didn’t vote in the previous elections. It shows you just how much we as a nation care for our country. The day Pakistanis unite and truly sacrifice themselves for the sake of Pakistan, only then will they have Quaid’s Pakistan. We need to get rid of these politicians who only promote their provinces and get ourselves a leader who cares for the whole country.
‘Pakistan needs a leader, not a politician!’
Wednesday, March 21, 2018
خدارا قدر کریں اپنے والدین کی
کلاس لے کر گاڑی کا انتظار کر رہا تھا کہ نظر ایک بزرگ پر پڑی جو ایک کاغذ ہاتھ میں لیے علی حسنین کا پتہ پوچھ رہے تھے.مجھ پر نظر پڑتے ہی ہاتھ سے روکنے کا اشارہ کیا اور پاس آئے.کپڑوں کی خستہ حالی اور چہرے پر جھریاں بہت کچھ بتا رہی تھی.
بولے بیٹا یہ میرے پتر کا نام ہے.سنا ہے وہ اسی شہر میں اپنے بچوں کے ہمراہ کچھ سال پہلے آیا تھا.پھر کاغذ میں لپٹی کوئی چیز نکالی .یہ کسی کی تصویر تھی.مگر تصویر میں نظر انے والا شخص بہت کم عمر نظر آ رہا تھا.میں نے پوچھا بابا جی یہ ہیں آپکے بیٹے ؟مگر یہ تو بہت کم عمر نظر آ رہے ہیں. بولے پتر یہ تو آرمی میں ٹیسٹ دینے کے لیئے اس نے تصویر بنائی تھی. اب تو سنا ہے وہ کرنل بن چکا ہے. تو بابا جی آپ سے کوئی رابطہ نہیں اور کب سے ؟ لرزتے ہونٹوں سے بولے بیٹا تاریخ یاد نہیں مگر بہت سال پہلے اس نے اپنی مرضی سے شادی کی تھی تب اسکی نوکری نہیں تھی .آرمی میں ٹیسٹ دیا پھر بیوی کو لے کر شہر آگیا تھا کہ اگر آرمی میں بھرتی نہ ہوا تو شہر میں نوکری ڈھونڈے گا.تو پھر سے پتہ نہیں.
پہلے تو ماں زندہ تھی اب وہ بھی نہیں رہی.میں بھی کوئی کام نہیں کر سکتا.بڑی مشکل سے پتہ لگا کہ وہ اس شہر میں رہتا ہے.میں بڑی مشکل سے یہاں آیا ہوں.زندگی کا کیا بھروسہ بس ایک بار اس سے ملنا چاہتا ہوں.
مگر بابا جی آپ کب سے اپنے بیٹے کو ڈھونڈ رہے ہیں؟
بولے کئی دن ہو گئے پتر.بس چلتا رہتا ہوں اور پوچھتا رہتا ہوں لوگوں سے.جہاں رات پڑے سڑک کنارے ہی سو جاتا ہوں.
اتنے میں ایک سرد ہوا کا جھونکا میرے جسم کو ٹھٹھرا گیا.بابا جی آپکے پاس کوئی ایڈرس نہیں ایسے کیسے آپکو ؟ابھی لفظ منہ میں ہی تھے بولے تو خیر ہے پتر اپنے بیٹے کے شہر میں موت آئی تو اس سے آگے کیا ہے؟
باپ ہوں نا زندگی میں دیکھنا چاہتا ہوں.حشر میں تو پتر سنا ہے اپنی اپنی پڑی ہوگی...
میں نے تو حشر نہیں دیکھی بابا جی مگر حشر دیکھ رہا ہوں.
آنسو میرا چہرہ بھگو رہے تھے. .کہیں اس باپ کی محبت کی قیمت اس شہر کے بیٹوں کو نہ دینی پڑ جاے...
بس ایک ہی فقرہ زہن میں گونج رہا ہے . باپ ہوں نا,,,
دنیا میں ملنا چاہتا ہوں حشر میں تو پتر اپنی اپنی پڑی ہو گی .
۔
Saturday, March 17, 2018
بیٹی کو بولنے کی اجازت دیجئے
بیٹی کو بولنے کی اجازت دیجئے تاکہ اگر اس کے ساتھ کچھ غلط ہورہا ہے تو وہ آپ کو اعتماد میں لے کر احوال بیان کر سکے۔ آخر وہ ایسی غلطی کا خمیازہ بھگتے ہی کیوں جو اُس نے کی ہی نہ ہو۔ یاد رکھئے بے باکی اور حساب بے باک کرنے میں فرق ہے۔
روزانہ ایسے کتنے ہی لوگ مجھے نظر آتے ہیں جو عورت کے حوالے سے اپنی سوچ کی گندگی کو نہ ظاہر کر پاتے ہیں اور نہ ہی چھپا پاتے ہیں۔ جب آپ کسی برے فعل کو اپنی نگاہوں کے سامنے ہوتا ہوا دیکھیں اور آگے بڑھ جائیں تو یاد رکھیے گا کہ کل وہی سب کچھ آپ کے اپنے گھر کے فرد کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ کہنے کو ہم سب کی زندگی کے دائرے مکمل میں لیکن کہیں نہ کہیں غور کیجئے کے ہم نے اپنی بیٹیوں کے معاملے میں یہ دائرے نامکمل چھوڑ دیے ہیں۔ بیٹی ایک نعمت ہے اسے بولنے کی اجازت دیجئے تاکہ اگر اس کے ساتھ کچھ غلط ہورہا ہے تو وہ آپ کو اعتماد میں لے کر اپنااحوال بیان کر سکے۔ ورنہ معاشرے سمیت آپ کے اور آپ کی بچی کے درمیان بھی ایک طویل خلیج حائل ہو جائے گی۔ آخر وہ ایسی غلطی کا خمیازہ بھگتے ہی کیوں جو اُس نے کی ہی نہ ہو۔ یاد رکھئے بے باکی اور حساب بے باق کرنے میں فرق ہے۔
عورت جس روپ میں ہو عزت کیے جانے کا قابل ہوتی ہے۔ وہی عورت جس کے بطن سے ہمیں پیدا کیا گیا، وہی عورت جو اپنے سینے سے رزق اپنے بچوں کے منہ میں ڈالتی ہے۔ وہی عورت جو بولنا سکھاتی ہے۔ ماں! رب کی رضا سے رب کا زمین پر اتارا جانے والا ایک وہ نمائندہ جسے شاید رب نے اپنے ہونے کا یقین دلانے کے لیے زمین پر پیدا کیا کہ دیکھو تمھارا رب اتنا رحیم و کریم اور اتنا مہربان ہے جیسے تمھاری ماں۔ رب کی محبت کو ماں کی محبت سے تشبیہہ دی گئی اور لوگوں کو سمجھایا گیا کہ تمھارا رب تم سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے۔استاد جیسے باپ کا دوجہ حاصل ہے ان کی طرف سے ایسے ناقابلَ برداشت رویے کی جتنی مظاہمت کی جائے وہ کم ہے میں خود تدریس کے پیشے سے وابستہ ہوں۔ چند اساتذہ کی وجہ سے ہم سب کی گردنیں شرم سے جھک گئی ہیں احساس ِدرد کی شدد سے روح کانپ جاتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں اخلاقیات کی قدریں متعین کردی گئی ہیں اُن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ عورت اپنی زبان بند رکھے اور ہم اُسی دائرے کے گرد چکر لگا رہے ہیں۔ کائینات کے ہر مظہر کو ننگی آنکھ سے دیکھنے کا حوصلہ رکھیے پھر آپ کو اندازہ ہوگا کہ ہمارا معاشرہ کس حد تک اخلاقی پستی کا شکار ہوچکا ہے۔
Written by Sana Ghori
ہم چاہے کتنی ہی دل کو تسلی دے دیں عورت کی دلیری کبھی بھی کسی بھی معاشرے میں قبولیت کا درجہ نہیں رکھتی۔ ہمارے معاشرے میں لاشعوری طور پر ہم، بچیوں کی اٹھان کیسی رکھیں کیا، تربیت کریں جیسے سوالوں میں الجھے رہتے ہیں۔ یوں سوالوں کی جمع تقسیم ضرب سے لڑکی کے پیدا ہونے سے لے کر شادی تک اور اُس کے بعد کی زندگی پر بچیوں کے ماں باپ اور گھر والے خود کو مطمئن کرتے اور الجھے نظر آتے ہیں۔
ایثار قربانی لحاظ اور مروت کا پیکر بنا کر معاشرے کے سامنے ایک مجسمہ بناتے ہیں اور اس مجسمے کی خوبصورتی کو قائم رکھنے میں اپنی عزت اور وقار کے لیے لازم تصور کرتے ہیں۔ موم کے مجسمے سے بنی ہماری بیٹیاں جب معاشرے کی حقیقتوں کا سامنا کرتیں ہیں تو اکثر حیرت اور دکھ کی شدت سے منجمد ہوتے رویے ان کی زندگی کا حصہ قرار پاتے ہیں۔ گھر کے سکون کی نرم چادر جب کھنچتی ہے تو معاشرے کی گرم ہواوں کے تھپڑے زیادہ شدت سے محسوس ہوتے ہیں۔ ہمارا معاشرہ بھی عجب نہج پر اپنے اصول مرتب کررہا ہے۔ ہم لڑکیوں کو پڑھانے لکھانے کے تو حامی ہوگئے لیکن اُن کا زبان کھولنا ہمیں کسی صورت برداشت نہیں۔ اپنے گھر کی بیٹی کے ساتھ ہمارا رویہ کچھ بھی ہو لیکن باہر نکلنے والی عورت کو اکثر پبلک پراپرٹی تصور کیا جاتا ہے۔
آپ میں سے اکثر یہ تحریر پڑھ کر شاید ناگواری کے احساس میں مبتلا ہو جائیں، لیکن یقین جانیے ایسا ہی ہے۔ ہم ان برائیوں کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں اور نہ ہی ان پر بات کرنا چاہتے ہیں جو ہمارے آس پاس بکھری ہیں۔
یونیورسٹی میں بڑھنے والی معصوم بچیاں ہوں یا اپنے فکرِ روزگار میں الجھی خواتین، نجانے کتنے ہی زخم ہراساں کرنے کے باب میں لکھے جاتے ہیں اور زبان پر قفل اس لئے لگالیا جاتا ہے کہ کہیں ہمیں ہمارا وہ حق جو ہم نے بہت مشکل سے چھین کر معاشرے سے حاصل کیا ہے، لے نہ لیا جائے۔ اور کچھ ہونے کی کسر باقی تھی جو ماپ کا درجہ رکھنے والے اساتذہ کے گھناونے رویے کی صورت میں بھی سامنے آگئی۔ یہ کوئی اسکول میں پڑھانے والے اساتذہ نہیں تھے یونیورسٹی میں پڑھانے والے اعلی تعلیم یافتہ مرد تھے۔ اس کے پیجھے ہمارے معاشرے میں پنپنے والی اس سوچ کی کارفرمانی ہے جو عورت کے حوالے سے ہم رکھتے ہیں۔ بہت آرام سے اپنے دامن کو بچاکر نکل جاتے ہیں یہ سوچ کر کہ ہم تو ایسے نہیں ہیں ناں تو ہمیں کیا فرق پڑتا ہے، اگر کوئی ایسا ہے تو خداسے ہدایت دے لیکن ایسا نہیں ہے معاشرے کی برائیوں سے آنکھیں چُرا کر آگے نکل جانا دراصل اس سے بڑی برائی ہے جو برائی آپ ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ معصوم لڑکیوں سے انھیں امتحان میں پاس کرنے کی شرط لگا کر، اپنے پاس بلاکر فائدہ اٹھانے کی لالچ لئے یہ بے ضمیر لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کی اپنی گھر میں موجود عورت کے ساتھ بھی یہی کچھ ہو سکتا ہے اور وہ بھی انھیں لڑکیوں کی طرح چپ سادھ کر مجبوری میں کسی کو کچھ نہ بتانے کے دباو میں زندگی گزار سکتی ہیں۔ ان کی زندگیاں بھی اپنے دائروں میں محصور ہو کر ان سے قوتِ پرواز چھین سکتی ہیں۔ اور اس دائرے کی شکستگی کابوجھ ان موم کے مجسموں کے لیے اٹھانا مشکل ہوجائے گا جو مجسمے بڑے پیار سے گھر کی چار دیواری میں بنائے گئے تھے۔ ہم چونکہ بچیوں کو ایسے تربیت دیتے ہیں کہ بدزبانی دلیری اور بے لحاظی ان کو چھو کر بھی نہ گزر پائے تو نتیجتا جب ان کے ساتھ غلط ہو رہا ہوتا ہے وہ تب بھی برداشت کے اعلی نمونہ بن کر بیٹھ جاتی ہیں۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺳﻠﻄﻨﺖ
ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﺩﺭﺍﺯ ﻋﻼﻗﮯ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﭼﺮﻭﺍﮨﺎ ﺑﮭﺎﮔﺘﺎ ﮨﻮﺍ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭﭼﯿﺦ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ
...
’’ﻟﻮﮔﻮ ! ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔‘‘ ﻟﻮﮔﻮﮞ
ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ’’ﺗﻢ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﺳﮯ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﻣﯿﻞ ﺩﻭﺭ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ
ﮨﻮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﺎﻧﺤﮯ ﮐﯽ ﺍﻃﻼﻉ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺩﯼ۔‘
ﭼﺮﻭﺍﮨﺎ ﺑﻮﻻ ’’ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺯﻧﺪﮦ
ﺗﮭﮯ، ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮭﯿﮍﯾﮟ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﺧﻮﻑ ﭘﮭﺮﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ
ﺩﺭﻧﺪﮦ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺁﻧﮑﮫ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺗﮭﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﺁﺝ ﭘﮩﻠﯽ
ﺑﺎﺭ ﺍﯾﮏ ﺑﮭﯿﮍﯾﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮭﯿﮍ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﯿﮍﯾﮯ
ﮐﯽ ﺟﺮﺃﺕ ﺳﮯ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﺁﺝ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ
ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ۔‘
( ﺑﺤﻮﺍﻟﮧ : ﺳﯿﺮﺕ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ۔










