To be free and to live a free life

that is the most beautiful thing there is.

“Yoga means addition – addition of energy, strength and beauty to body, mind and soul.”

photographer gets people to pose for him. A yoga instructor gets people to pose for themselves.”

Be happy for this moment. This moment is your life.

Stay positive and happy. Work hard and don't give up hope. Be open to criticism and keep learning. Surround yourself with happy, warm and genuine people.

If you love life, don't waste time, for time is what life is made up of

Be strong, believe in freedom and in God, love yourself, understand your sexuality, have a sense of humor, masturbate, don't judge people by their religion, color or sexual habits, love life and your family.

Enjoy life while you can

Life is too precious and short to dare to waste it on mediocre dreams.

Tuesday, January 29, 2019

چائلڈ لیبر اور انکے ساتھ ہونے والے ظلم کی ایک اور داستان


بچے جو کسی ملک کا مستقبل،سرمایہ اور اثاثہ ہوتے ہیں جب حالات سے مجبور ہو کرہنسنے اور کھیلنے کے دنوں میں کام کرنے نکل کھڑے ہوتے ہیں تو یقیناَ اس معاشرے کے لئے ایک المیہ پا رہا ہوتا ہے۔یہ المیہ ہر گزرتے دن کے ساتھ زخم کی صورت اختیار کرتا ہے اور پھر نا سور بن کر سماج کا چہرہ ساغ دار اور بد صورت کر دیتا ہے۔ پاکستان میں بھی معاشی بدحالی سہولیات سے محرومی بے روزگاری،غربت اور وسائل کی کمی نے جگہ جگہ اس المیہ کو جنم دے رکھا ہے۔ ساری دنیا اس کا شکار ہیں لیکن پاکستان میں چائلڈ لیبر ایک ضرورت بن چکی ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے غریب ادمی اپنے معصوم اور کمسن بچوں کو شروع سے ہی کام پے لگا دے تے ہیں تا کہ ان کا گھر کا چولھا جلتا رہے۔ لیکن جن امیرون کے گھر یہ معصوم اور کمسن بچے کام کرنے جاتے ہیں ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے کبھی سوچا ہے کسی نے ؟؟؟؟؟
پیسا کا غرور انسانوں کو جلاد بنا رہا ہے انسانیت کانپ اٹھتی ہے ایسے واقعات کو دیکھ کر۔ کیسے تڑپا تڑپا کے بے دردی سے کمسن ملازمہ 16برس کی اٌزمہ کو جان سے ہی مار دیا۔ دم توڑتی بچی کا مذاق اڑایا گیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پے وائرل ہوگئی۔ چینل 24 کے ایک پروگرام انکشاف میں اس واقعہ کی رپوٹ کی گئی تو پتہ چلا یہ بچی یہاں 8ماہ سے کام کر رہی تھی اور یہ کوئی پہلی بچی نہ تھی بلہ اس سے پہلے بھی جتنی بچیاں یہاں کام کرنے آتیں ان کو اسی طرح ظلم و جبر کا نشانہ بنایا جاتا لین اٌزمہ کا کیا قصور تھا کہ اس کو جان سے ہی ہاتھ دھونا پڑگیا آخر ایسا کونسا گھنونا کام اسنےکر دیا تھا۔
ایسی بات نہیں اٗزمہ کی غلطی صرف اتنی تھی کہ اس نے اپنی مالکن کی بیٹی کی پلیٹ سے قیمہ لے لیا تھا تھوڑا سا جس کی اتنی برہ سزا اسے ملی کے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اٗزمہ کے سر کے پیچے کسی بھاری چیز سے وار کیا گیا جس کی وجہ سے اس کے دماغ کے اندروی حصہ میں خن ریستا رہا لیکن مالکان نے اسے ہسپتال یا ڈاکٹر کے پاس لے جانے کی بجائے گھر میں اسکا علاج بجلی کے جھٹکے دینے سے کیا جس کے بعد اس کی موت واقع ہوگئی اور درندوں نے معصوم بچی کو بوری میں بند کر ک پھینک دیا ۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں اس طرح کے کئی واقعات پہلے بھی رونما ہوچکے ہیں لیکن انصاف تو ہمارے ملک میں کسی کو مل جائے ایسا ممکن نہیں ۔ امید کرتے ہیں اس بار حکومت ان درندوں کے خلاف سخت سے سخت ایکشن لے اور انھیں انک انجام تک پہچائے۔

Sunday, January 27, 2019

معصوم بچیوں کے ساتھ بدفعلی اور ہمارا کردار



کبھی کبھی ہم اتنے مجبور ہوجاتے ہیں کہ اپنے قلم کی آواز اٹھاۓ بغیر ہمیں سکون نہیں ملتا ہمارا ضمیر ہمیں سونے نہیں دیتا ۔ کل رات بھی کچھ ایسا ہی ہوا جب میں انٹرنیٹ سرفنگ میں مصروف تھی تو کراچی کے ایک شاپنگ مال میں ہونے والے چلڈرن فیشن شو کی چند تصاویر میری نظر سے گزریں،فیشن شو ایک انٹرنیشنل اسٹور" کلیر" کی افتتاحی تقریب کے موقع پےکیا گیاجس کا افتتاح امریکی جرنل کونسل نے کیا۔ افتتا حی تقریب کے موقع پے فیشن شو بھی منقد کیا گیا جس کی تصاویر جب میری نظر سے گزریں تو میرے ضمیر نےمجھ سے سوال کیا۔ کیا ہم اسلامی فلاحی ریاست کے باشندے ہیں ؟ کیا ہم اپنے بچوں کو زندگی گزارنے کے صحیح طریقے سے روشناس کروارہے ہیں؟ کیا یہ صحیح ہے ؟فیشن شو کے نام پے جو کچھ ہو رہا ہے اسکا علم ہم سب کو ہے،پہلے تو بڑے بڑے برانڈز کا ٹارگٹ صرف نوجوان نسل ہوتی تھی لیکن اب تو حد ہی ہوگئی ان لوگوں نے اپنا بزنس چمکانے کے لئے بچوں کو بھی نہ چھوڑا حیرت تو ان ماوں پے ہوتی ہے جنھوں نے نہ صرف اپنی معصوم بچیوں کو ایسا لباس پہنایا بلکہ انھیں ریمپ پے واک بھی کروائی ان کے معصوم اور کچے ذہنوں پے اسکے کیا اثرات مرت ہوں گے اسکا اندازا ہم اور آپ نہیں لگا سکتے۔فیشن شو کو دیکھنے کے بعد میرے ذہن میں اٹھنے والا پہلا سوال یہ تھا کہ زینب اور اس جیسی کئی معصوم بچیاں جو حوانیت اور بربریت کا نشانہ بنیں انکا ذمہ دار کون؟؟؟؟ میں؟ آپ؟ حکومت؟ میڈٰیا؟ یا پھر وہ مائیں جو اپنی معصوم ننھی کلیوں کو ایسا لباس زیبِ تن کرا کے یہ کہہ کہ کیا ہوا بچی ہی تو ہے باہر بھیجتی ہیں ۔ زینب بھی تو بچی تھی نا؟
آخر کیوں ہم اس معاشرے میں مغربی کلچر کو فروغ دے رہے ہیں؟ جہاں حوانیت اور بربریت کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا ہم خود ایسے کلچر کو اپنی اسلامی ریاست میں فروغ دے کر زینب جیسی کئی معصوم لڑکیوں کو اسکا شکار بنا رہے ہیں۔
مغربی کلچر کو فر و غ دینے والی ہماری لبل سوسائٹی ہے جو صرف شورکرنا جانتی ہے۔
ان ماؤں سے میری گزارش ہے خدارا ہوش کے ناخن لیں اپنی بیٹی کی حفاظت خود کریں اس سے پہلے دیر ہوجائے۔ اپنی بیٹی کوہوس بھری نگاہوں کا نشانہ نہ بننے دیں ۔آپ اپنی بیٹی کو حوانیت اور درندگی سے خود بچا سکتی ہیں۔