کوئی آپ سے کہے کہ اسے ڈپریشن ہے تواس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی طبیعت اداس ہے ڈپریشن انگریزی کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں سطح سے نیچے ہوناعام طور پر جب کوئی بری خبر سنتے ہیں توطبیعت اداس ہوجاتی ہے مگر کچھ عرصے بعد پھر ٹھیک ہوجاتے ہیں لیکن اگر طبیعت مسلسل اداس رہنے لگے اور طبیعت میں بیزاری اوربوجھل پن ہو تو اساکا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ آپ ڈپریشن کا شکار ہوچکے ہیں ۔
وقتاََ فوقتاََہم سب اداسی،مایوسی اور بیزاری میں مبتلا ہوتے ہیں۔عموماََ یہ علامت ایک یا دو ہفتے میں ٹھیک ہوجاتی ہیں۔ اور ہماری زندگیوں میں ان سے کوئی بہت زیادہ فرق نہیں پڑتا۔کبھی یہ اداسی کسی وجہ سے شروع ہوتی ہے اورکبھی بغیر کسی وجہ کے ہی شروع ہوجاتی ہے۔عام طور سے ہم خود ہی اس اداسی کا مقابلہ کر لیتے ہیں بعض دفعہ دوستوں سے بات کرنے سے یہ اداسی ٹھیک ہوجاتی ہے اور کسی علاج کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن طبی طور سے اداسی اس وقت ڈپریشن کی بیماری کہلانے لگتی ہے جب اداسی کا احساس بہت دنوں تک رہے اور ختم ہی نہ ہو اداسی کی شدت اتنی زیادہ ہو کہ روزمرہ کے معاملات اس سے متاثر ہوں۔ ڈپریشن کی چند علامتیں درج ذیل ہیں۔ 1۔ہر وقت اداس رہنا،2۔خوداعتمادی کم ہوجانا۔3۔کسی چیز میں دل نہ لگنا۔4۔ہر وقت مایوس خیلات کا آنا۔5۔نیند اور بھوک میں کمی واقع ہونا۔۔وغیرہ
ڈپریشن صرف نفسیاتی علامات سے ہی ظاہر نہیں ہوتا بلکہ جسمانی طور پر بھی یہ بیماری آپ پر ظاہر ہوتی ہے۔مثلاََ دل کازورزور سے دھڑکنا،،سردرد اور بھاری پن جیسے۔یہ اور اس قسم کی دوسری علامات جس میں مریض بیمار نہ ہونے کے باوجود اپنے آپ کو بیمار محسوس کرتا ہے۔ڈیپریشن کی خاص بات یہ ہے کہ مریض خود کویوں محسوس کرتا ہے جیسےاس نے کوئی گناہ کیا ہوحالانکہ اس نے کوئی جرم کیا نہیں ہوتا مگر پھر بھی وہ اپنے آپ کو سزا کے قابل سمجھتا ہے۔ شروع میں ڈپریشن کے مریض کو احساس نہیں ہوتا کہ وہ اس خطرناک بیماری کا شکار ہورہا ہےمعمولی باتوں پر اسکا دل ڈوبنے لگتا ہے۔خاص طور پرخواتین اس مرض کے حملے کی ضد میں زیادہ ہوتی ہیں۔کیونکہ مردوں کے مقابلے میں خواتین زیادہ جذباتی اور حساس ہوتی ہیں اس لیے عورتیں مردوں کے مقابلے میں زیادہ ذہنی دباوکا شکار ہوتی ہیں۔
ڈپریشن کا شکار وہ لوگ بھی ہوسکتے ہیں جن کے خاندان میں کوئی اورشخص اس ذہنی بیماری شکار ہو۔بعض دفعہ جسم میں شکر کی کمی اور دوسری بیماریوں سے بھی ڈپریشن ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر آپ کسی اور بیماری مثلا بلڈپریشر وغیرہ کی ادویات لے رہے ہوں تو اس دوائی کے اثرات کے تحت ڈیپریشن کی بیماری آپ کو لگ سکتی ہے۔
اگر ہم تنہا ہوں۔ہمارےآس پاس کوئی دوست نہ ہو۔ہم ذہنی دباوکا شکار ہوں یا پھر ہم بہت زیادہ جسمانی تھکن کا شکار ہوں ان صورتوں میں ڈیپریشن کی بیماری میں مبتلا ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ڈیپریشن کسی کو کسی بھی قت ہوسکتا ہے لیکن بعض لوگوں کوڈیپریشن ہونے کا خطرہ اور لوگوں سے زیادہ ہوتا ہے اس کی وجہ ان کی شخصیت بھی ہوسکتی ہےیا پھر بچپن کے حالات وواقعات بھی۔ ڈٰپریشن کی بیماری عورتوں میں زیادہ ہوتی ہے۔بعض خاندانوں میں بھی یہ بیماری زیادہ ہوتی ہے۔اگر آپ کے والدین میں سے کسی کویہ بیماری ہے تو آپ کو ڈیپریشن ہونے کاخطرہ اورلوگوں کے مقابلے آٹھ گناہ زیادہ ہے۔
جس طرح زیابیطس ایک بیماری ہے اور بلڈپریشر کا بڑھ جانا بھی ایک بیماری ہے۔اسی طرح ڈیپریشن بھی ایک بیماری ہے۔یہ بیماری کسی بھی انسان کوہوسکتی ہےچاہے وہ اندر سے کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو جیسے اور بیماریوں کے مریض ہمدردی اور علاج کے مستحق ہوتے ہیں بلکل اسی طرح ڈیپریشن کے مریض بھی ہمدردی اور علاج کے مستحق ہوتےہیں نہ کہ تنقید یا مزاق اڑانے کے۔
ڈیپریشن کا علاج باتوں سے بھی کیا جاسکتا ہے، ادویات کی مدد سے بھی کیا جا سکتا ہے ، یوگا بھی اس کے علاج کا طریقہ ہےاور سائیکو تھرپی سے بھی کیا جاسکتا ہے یانفسیاتی علاج بھی کیا جاسکتا ہے۔
اچھی خبر یہ ہے کہ ڈپریشن کے ایسی فیصد مریض علاج نہ کروانے کے باوجود بھی ٹھیک ہوجاتے ہیں لیکن اس میں چار سے چھ مہینے یا اس سے زائد کاعرصہ لگ جاتا ہے لیکن پھر سوال یہ اٹھتا ہے کہ پھر علاج کرانے کی کیا ضرورت ہے؟؟ وجہ یہ ہے کہ باقی بیس فیصد مریض بغیر علاج کے اگلے دو سال تک ڈپریشن میں مبتلا رہیں گے اورپہلے سے یہ بتانا ممکن نہیں ہوتا کہ کون ٹھیک ہوجائے گا اورکون ٹھیک نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ اگر علاج سے چند ہفتوں میں طبیعت بہتر ہوسکتی ہے تو انسان کئی مہینوں تک اتنی شدید تکلیف کیوں برداشت کرتا رہے کچھ لوگوں کا ڈپریشن اتنا شدید ہوجاتا ہے کہ وہ خودکشی کرلیتے ہیں۔ اسی لیئے اگر آپ کےڈپریشن کی علامت کی شدت بڑھ گئی ہے۔ اور اس میں کوئی کمی نہیں آرہی آپ کے ڈپریشن نے آپ کے کام،دلچسپیوں رشتی داروں اوردوستوں سے تعلقات کومتاثر کر رہا ہےیا اس طرح کے خیالات آنے لگے ہیں کہ آپ کے زندہ رہنے کا کوئی فائدہ نہیں اور دوسرے لوگوں کے حق میں یہ ہی بہتر ہے کہ آپ مرجایئں تو آپ کوفوراََ اپناےعلاج کے لیئے اپنے ڈاکٹر یا کسی سائکائٹرسٹ سے رجوع کرناچاہیئے۔
تحریر : عائشہ امین






0 comments:
Post a Comment