ٹی وی اپنی اثرپزیری کی وجہ سے اہم ہے۔ٹی وی اپنے مقاصد اور تکمیل کے لئیے مختلف طرز کی بہت سے پروگرامز پیش کرتا ہے۔ان میں ڈراموں کوخاص اہمیت حاصل ہے۔کہا جاتا ہے کہ ٹی وی کے ڈرامے تربیت کا اہم ذریعہ ہیں اس ذریعے کے تین اہم پہلو ہیں1۔ناظرین کی تعلیم وتربیت کا اہتمام۔2۔ناظرین کوتفریح مہیا کرنا۔3۔سماجی تبدیلی اور اصلاح کی راہ ہموار کرنا۔ٹی وی ڈرامےتفریح کا بھی زریعہ ہوتے ہیں بلکہ ڈرامے میں تفریح کو زندگی کی حقیقتوں پر سے پردہ اٹھانے کے لیئے استعمال کیا جاتا ہے تاکہ لوگ تفریح کے ساتھ ساتھ زندگی کی حقیقتوں کوقریب سے دیکھ کر سمجھ سکیں۔ڈرامے میں تفریح کی فراہمی کا مقصد تفریح نہیں بلکہ ناظرین کوذہنی آسودگی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی خاطر خواہ ذہنی تربیت کرنا بھی ضروری ہوتی ہے۔لہذا تفریح بھی با مقصد اور اخلاقی قدروں کے دائرے میں ہونی چاہیئے
مزاح مزاج کا دوسرا نام ہے۔یہ ایک ایسا فعل ہے جس سے لوگوں کے چہروں پے ہنسی آتی ہےمزاح کے بھی دوپہلوہیں ایک مزاح معیاری زمرے میں آتا ہے جسے دیکھ کرانسان اچھا محسوس کرے اوردوسرا مزاح بیہودگی ہے جسے دیکھ کر انسان شرمندگی محسوس کرے ۔جب طنزومزاح میں بےحیائی شامل ہوجائےتویہ ایک نازیبا فعل بن جاتا ہے۔ہم ایک مسلم معاشرے میں قیام پذیرہیں جس کی ایک تہذیب وثقافت ہے۔ ہمارے ڈ رامے ہماری تہذیب وثقافت کےآئینہ دارہونےچاہیئں۔ہنسی کوزندگی سے مستقل جوڑا نہیں جاسکتاجب یہ بات طے ہی ٹہری کہ غم خوشی نہیں اور خوشی غم نہیں بن سکتا تو انسان اپنے کیئے کچھ فیصلوں پر پچھتاوے یا ملال کوحق بجانب سمجھنے لگتا ہے۔کبھی لبوں پر پھیلی مسکراہٹ زبان سے ادا ہونے والے الفاظ کے معنی پہلے ہی بیان کردیتی ہےتوکسی چہرے پرپڑی شدت غم کی چادرکو پرے دھکیل دیتی ہے،ثقافت کی تاریخ بدل رہی ہے۔مسکراتے چہرے اگر بات بھی ایسے کریں جوہنسی کاسبب بن جائے تویہ فن ہے سوسائٹی میں فنکاربہت ہیں جن میں سرفہرست انورمقصود،معین اختر(مرحوم)، بشری انصاری،عمرشریف لطیف کباڈیا،سکندر صنم،شکیل صدیقی،بہروز سبزواری اورایازسومرو جیسے کئی ایک نام ہیں جوکامیڈی کےنام ور اداکار ہیں۔ آج مزاحیہ پروگراموں کی دوڑ میں ہراخلاق سے گرے ہوئے مزاحیہ ڈرامےباکثرت بنائے جارہےہیں اورمزاحیہ ڈراموں اور پروگراموں کی دوڑ میں سب بھیڑچال کا شکار ہیں۔نامناسب الفاظ،بہیوہ لباس اورغیراخلاقی مناظردیکھائے جارہے ہیں۔مزاحیہ ڈراموں کا مقصد ہنسی ہنسی میں لوگوں کو اچھی اچھی باتیں بتانا اور دن بھر کےتھکے ہوئےذہنوں کودوبارہ تازہ دم کرناتھا
پی ٹی وی پاکستان کا پہلا سرکاری چینل ہےجس کاآغاز 1964 میں ایوب خان کے دور میں ہوا۔پی ٹی وی پرڈراموں کی بات کی جائے تو پی ٹی وی پر دیکھائے جانے والے ڈراموں کا لوگوں پر ویسا ہی اثر ہواجیسے پوری دینا میں ڈرامے کا ہوتا ہے۔لیکن پی ٹی وی کے ڈرامےاپنی طرز میں باقی دنیا میں بنائے جانے والے ڈراموں سے مختلف تھے پی ٹی وی میں سب سے پہلاکامیڈی ڈرامہ1965 میں نشرہواجس کا نام الف نون تھا۔1965 سے لے کر 2000 تک ایک کے بعد ایک بہترین مزاحیہ ڈرامے نشر ہوئے اور عوام ان سے لطف اندوزہوتی رہی ایک وقت تھا جب لوگ اپنے گھروالوں کے ساتھ بیٹھ کرمزاحیہ ڈرامےدیکھ کر لطف اندوز ہوتےجن میں انور مقصود،کمال احمد رضوی،پترس بخاری جو کہ پہلے مزاہ نگار بھی ٹہرے اور محمد یونس بٹ وغیرہ کے ڈرامےشامل ہیں جن میں مشرقی لباس شائستہ کامیڈی اور شگفتہ جملے ہوتے تھے، جن کولوگ مدتوں بلکہ آج بھی یاد کرتے ہیں جن میں الف نون،۔ففٹی ففٹی، ہاف پلیٹ،آنگن ٹیڑھا،تنہایاں، روزی فیملی فرنٹ خالہ خیرن جیسے ڈرامےلوگوں کوآج بھی یاد ہیں۔ان ڈراموں کی کاسٹ اور پروڈکشن بے مثال ہے۔یہ ڈرامےبنانےسے پہلےباقاعدہ منصوبہ بندی کی جاتی تھی۔پی ٹی وی کے ڈراموں میں نہ صرف سماجی اورمعاشرتی بلکہ اسلامی تعلیمات سے بھی روشناس کیا گیا اور مختلف واقع کے ذریعے لوگوں کواسلامی تعلیم بھی دی گئی۔پی ٹی وی نے بھارتی ڈراموں کے مقابلے میں کلاسیکل ڈراموں سےدنیا کی تاریخ میں اپنا بہترین نام رقم کیا۔ مزاحیہ ڈرامے دیکھنے کے لئے سڑکیں سنسان ہوجایا کرتی تھیں ۔گھر کے تمام افراد ایک ساتھ بیٹھ کران مزاحیہ شوزکودیکھا کرتے اور لطف اندوزہوتے تھے۔ اس دور کے مزاحیہ پروگراموں میں خالص مزاح ہوتا تھا جوآج نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک بھی شہرت رکھتے ہیں
مگر اب گذشتہ چند برسوں سےٹی وی کاماحول انتہائی حد تک بگڑ چکا ہے جب سے حکومت نے پرائیوٹ پروڈکشن کوجگہ دی ہے ہمارے ڈراموں کامعیارخراب سے خراب تر ہوتا جارہا ہےخصوصا کامیڈی ڈراموں کا معیارگر چکا ہے اب ہمارے کامیڈی ڈرامے بھی ایسے نہیں رہے کہ ہم انھیں بچوں یا گھروالوں کے ساتھ بیٹھ کرانہیں دیکھ سکیں۔بلبلے،ڈگڈ گی،جکریہ کلثوم کی لو اسٹوری،قدوسی صاحب کی بیوہ ،جوروکاغلام، اور ان جیسے کئی ڈرامےجس میں خاوند اورزوجہ کے رشتےکو ہنسی میں اڑانااورعورت کازیورشرم وحیا کومزاح کے نام پر فروخت کرنااورتواورایسی نازیبا زبان استعمال کرناجوبچوں کی زبان پرآجائے اور وہ بھی اسی زبان ولہجہ میں بات کرنے لگیں۔جہاں پہلے معیارکوترجیح دی جاتی تھی وہاں اب ریٹنگ کو ترجیح دی جاتی ہےجس کی وجہ سے اخلاق سے گرے ہوئے ڈرامے بنائے جارہے ہیں۔
کامیڈی ڈراموں کے ساتھ ساتھ کامیڈی ٹاک شوز کا بھی کچھ ایسا ہی حال ہوگیا ہے وہ بھی پیچھے نہیں ان میں بھی ایسی زبان ولہجہ کا استعمال عام ہے جوغیر اخلاقی ہےاور عورتوں کا نازیبا لباس پہنناہمارے معاشرے میں بیہودگی پھیلا نے میں بہت اہم کردار ادا کررہا ہے۔
آج کل تقریبا ہر گھر میں کیبل سسٹم موجود ہے اوراس پر آنے والے تمام پرائیوٹ چینلز ہر گھر میں دیکھے جاتے ہیں۔آج کل کامیڈی سیکٹرمیں زیادہ پروڈکشن ہورہی ہے۔مزاحیہ ڈرامے زیادہ مقبول ہیں۔مگر مزاحیہ ڈراموں کامعیاردن بہ دن گرتا جارہا ہے۔ ان کے زیرِ اثر آکر ہماری نوجوان نسل اور بچوں کی زبان ،لب و لہجہ پر غلط اثرات مرتب ہورہےہیں۔معاشرے میں جوبڑوں اور چھوٹوں کے درمیان جوایک احترام کا رشتہ تھا اور جوایک جھجک تھی وہ ختم ہوتی جارہی ہے۔ہم اپنی ثقافت اور اخلاقی قدروں کو پامال کر رہے ہیں۔اس طرح کے ڈراموں سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہورہا ہے۔ پیسہ کمانے کی دوڑ نے سب بھلے برے کی تمیز ہی مٹا دی ہے مزاح کے ڈراموں میں بے حیائی کا عنصرمعاشرے میں صرف برائیاں پھیلانے کا ہی زریعہ نہیں بنتا بلکہ معاشرتی اورسماجی برائیوں میں بھی اضافہ کرتا ہے پروڈکشن ہاوس اس طرح کے بے حیائی کے مواد سے سستی شہرت توحصل کررہے ہیں مگر معاشرے میں بے حیائی اور غلط زبان کوبھی فروغ دے رہے ہیں۔
آج کل مزاح کے نام پر فحاشی دیکھائی جارہی ہے۔جس کودوسرے لفظوں میں آزادی کہا جاتا ہے۔۔اب مزاحیہ ڈراموں اور مزاحیہ پروگراموں میں مزاح کم اور بے حیائی کے مناظر اور غلط زبان زیادہ استعمال کی جاری ہے۔پرائیوٹ چینلز نے مزاحیہ ڈراموں کا معیار انتہائی نچلے درجے کا کر دیا ہے۔فحاشی اور بے حیائی کے اس دور میں بڑےبڑے پرائیوٹ چینلز سب سے آگے ہیں۔ جوایسے کامیڈی ڈرامے نشر کر رہے ہیں جس سے اردو ادب اور آنے والی نسلوں کوکافی نقصان پہنچ رہا ہے۔یہ کامیدی ڈ رامے ہمارے کلچر کی بلکل عکاسی نہیں کر رہے اسکے علاوہ ان ڈراموں کے عنوان بھی بیہو دہ ہوتے ہیں جو ہماری ثقافت اورکلچر کے بلکل برعکس ہےہمارے نوجوان بچےغلط طرز کی زبان سے متاثر ہورہے ہیں۔
پیسہ کمانے کی دوڑ میں ہمارےبعض چینلز اتنےآگے نکل آئے ہیں کہ مزاحیہ ڈراموں میں دیکھائی جانےوالی اخلاق سے گری ہوئی حرکات ومکالمات سے کوئی غرض نہیں یہ تک نہیں سوچاجاتا کہ کچےذہنوں پراسکاکیااثرہوگا۔ایک دوسرے سےمقابلے کی دوڑ میں ایسے ڈرامے بنائے جارہے ہیں کہ بس اس میں زیادہ سے زیادہ پیسے کمایا جاسکےچاہےاس سےہمارےمعاشرےاورنئی نسل کوچاہے کتناہی نقصان کیوں نہ ہو۔چینلز کےپروگراموں میں ضابطہ اخلاق کوقائم رکھنے کے لیئےقوائد وضوابط موجود ہیں۔جو کہ ان چینلز کے مالکان کو بھی معلوم ہیں لیکن ہرکوئی آزادی اظہار کے نام پرمعاشرےاورہماری تہذیب کی دیواروں میں دراڑیں ڈالنے پرتلاہواہے۔
تحریر عائشہ امین






0 comments:
Post a Comment