Tuesday, June 26, 2018

لباس بیچیں۔۔۔غیرت نہیں

لان کے مقبول ترین برانڈز کے درمیان مقابلہ اپنے عروج پرپہنچ چکا ہےاوران برانڈز کے اسٹورز کے اپنے نت نئے ڈیزائن سے بھرپورہیںوقت انتہائی تیزی سے گزر رہاہے۔لان کی اشتہاری مہم کے لئے بالی وڈکی اداکاراوںجیسے کرین کپوراور جیکولین فرنینڈس وغیرہ کوپاکستان کے پہترین ماڈلز پر ترجیح دی جانے لگی ہے۔ہر برانڈ اپنے لان  کی تشہیر کے لئےخوب سے خوب تر ماڈل کی تلاش میں رہتا ہے جس کا منہ بولتا ثبوت شہر کی مشہورترین شاہراوں پر آویزاںبل بورڈزہیں یہ طرز عمل اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہےکہ لان کاکاروباراپنے عروج پر پہنچ چکا ہے۔سڑکوں اورہائی وےپر لگے بل بورڈزچیخ چیخ کرلان فروخت کرتے نظر آتے ہیں۔معروف ماڈلز کا استعمال اپنی مصنوعات کی فروخت بڑھانےکے لئےکیا جاتا ہےیا پھر صنف مخالف کو متاثر کرنے کے لئے،خیر یہ ایک طویل بحث ہے۔

اس میں کوئی دورائے نہیں ک لان کی اشتاری مہم خواتین سے زیادہ مردوں کومتار کرتی ہےجواپنی گاڑیوں اور موٹ  رسائیکلوں پر سوار ہوکر بل بورڈز کے پا س سے روز گزرتے ہیں۔کرینہ کپور اور دیگرماڈلزجولان کی ماڈلنگ کرتی ہیںوہ لان سے زیاد خود نمایاں ہورہی ہوتی ہیںجس کی فروخت کے لئے انھیں منتخب کیا گےہوتا ہے۔یون اشتہارکاری کا اصل مقصد ختم ہوجاتا ہے۔دوسرسی جانب اگر خواتین چاہیں تووہ آنلائن یا پھر اسٹور پر جاکر بھی نئے ڈیئزائن پسند کرکے خرید سکتیں ہیں۔

یہ سلسلہ سرف بل بورڈز تک ی محدود نیں بلکہ ٹی وی پر چلائے جانے والی اشتہار مہم بھی اسی سوچ کی عکاسی کرتی ے۔مثلاََ گل احمد یا الکرم کے اشتہارات  جوکہ گلیمرس اور بولڈمناظر پر مبنی ہیںان کے اشتہارات Backless اور sleeveless کہ خواتین ماڈلز کی خصوصیات یہ ی ہوتی ہیں

 کے ساتھ پیش کی جاتی ہیں۔یہ طریقہ کار؎خواتین کوتولان خرید نے پر مجبور نہیں کر سکتاالبتہ یہ ضرور ہوسکتا ہے ہے ک ان خواتین کے مرد حضرات ان اسٹورز  پر ان ماڈلز کوتلاش کرتے نظر  آئیں۔پاکستان کی کئی سڑکیں ان غیر اخلاقی بل بورڈز سے   آلود ہ  ہوچکی ہیں جن میں خواتین غیرمناسب لباس پہنے دکھائی دیتی ہیں۔کتنی عجیب بات ہے کہ  لان کا پرنٹ فروخت کرنے کے لئے پیش کیا جاتا ہے  جبکہ وہ ی ماڈلز کے جسم پر کم دیکھائی دیتا ہے۔

مصنوعات کی تشہر کوئی بری بات نہیں یہ ہی وہ ذریعہ ہےجس کے ذریعہ مشہورکمپنیاں عوام میں اپنی مصنوعات کے حوالے سے آگاہی پیدا کرتی ہیں لیکن مصنوعات کی تشہیر کے لئے خواتین ماڈلز کا استعمال نہ کیا جائے ہمارے سامنے ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جن کے اشتہار  میں خواتین ماڈلز کی ضرورت نہیں ہوتی مگر پھر بھی خواتین ماڈلز کا ستعمال کیا جاتا ہے۔کمپنیوں کوچاہیے کہ اپنی   مصنوعات کی فروخت بڑھانے کے لئےمنفرد ڈیئزائن متعار کرائے جایئں نہ کہ نت نئی ماڈلز 

0 comments:

Post a Comment