Tuesday, May 22, 2018
Home »
» دوسروں کےنظریات کا احترام کریں
دوسروں کےنظریات کا احترام کریں
کسی کی ذاتی رائے اور حرکات کا نظریات سے قطعاً کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اسلامی نظریاتی ریاست ہو یا سیکولر ریاست ہو انتہاپسندی کہیں بھی قابلِ قبول نہیں۔ حافظ بننے کی غرض سے مدرسے جانے والے بچوں کو جاہل ہونے کا لقب دینا یا کوُ ایجوکیشن میں تعلیم حاصل کرنے والے کو بے حیا قرار دے دینا، ہمارے ہاں ایک عام سی بات ہے۔ داڑھی رکھنے والے کو ملا کا خطاب دے کر طنز کے تیر برسانا جب کہ بڑے بال رکھنے والے مردوں کو زنانہ کہنا ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ برقعہ پہنے والی عورت ایک کی نظر میں جنتی اور دوسرے کی نظر میں جاہل ہوتی ہے، جب کہ بنا دوپٹے کی عورت ایک طبقہ کے لیے قابل احترام اور دوسرے کے لیے گندے لفظوں کی حق دار ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ میں یا آپ کون ہوتے ہیں جو یہ فیصلہ کریں کہ کون کیا ہے اور کیا کرسکتا ہے۔ اس معاملے میں ہم تمام حدود پار کرچکے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ معاشرے کو بنانے والے صحت مند دماغ خود ہی شدید کنفیوژن کا شکار ہیں۔
ہمارا معاشرہ جس تنزلی کا شکار ہے اس کی ایک وجہ ان اخلاقی شعار کا معاشرہ سے ناپید ہوجانا ہے جو مد مقابل کا احترام سکھاتے ہیں۔ مختلف نظریے سے تعلق رکھنے والے شخص کی رائے کو مکمل سیلف کنٹرول کے ساتھ سننا اور پھر علمی بنیادوں پر بحث کو کسی منطقی انجام تک پہنچانا ایک صحت مند معاشرے کی پہچان ہے۔ ہم بحث برائے بحث کے اصول کو اپنائے ہوئے ہیں۔ اپنی سوچ کو خود ہی اپنی انا اور ذاتی رجحانات کی بنا پر کچل رہے ہیں۔ لمحہ بھر کے لیے سوچا جائے تو جو ماحول اس وقت ہمیں اپنے اردگرد نظر آرہا ہے اور جس ماحول کو بنانے کے، میں اور آپ سب ہی ذمے دار ہیں اور اس کے مزید بگاڑ میں اپنا اپنا حصہ شب و روز ادا کررہے ہیں، اس ماحول میں کیا ہم تصور کرسکتے ہیں کہ ہم اپنی آنے والی نسل کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ جب ہم دن رات اذیت کا شکار ہیں تو آنے والی نسلوں کا کیا ہوگا۔ ہم خود ہی اس سارے ماحول کو ٹھیک کر سکتے ہیں۔
یہ ایک غلط سوچ ہے کہ اسلام نے عورت کو آزادی نہیں دی۔ دراصل ہم دو انتہاؤں میں گھر چکے ہیں۔ اسلام نے عورت کو ہر طرح سے آزادی دی ہے۔ اسے اپنے طور سے زندگی کے فیصلے کرنے کا اختیار دیا ہے۔ حضرت بی بی خدیجہؓ تجارت کے پیشے سے وابستہ تھیں۔ آج کی لغت کو استعمال کرکے کہا جائے تو وہ ایک بزنس وومن تھیں۔ حضرت عائشہؓ اپنے اونٹ کی خود سواری کرتی تھیں اور لوگوں کی راہ نمائی کرتی تھیں۔ آپؓ نہایت اعلیٰ ذہن کی مالک تھیں طب کے شعبے میں آپ کو مہارت حاصل تھی۔ نبی کریم ﷺ کی کتنی ہی احادیث آپ سے روایت ہیں، کیوں کہ نہایت ذہن تھیں لہٰذا آپ کو واقعات اور حضورؐ کے کہے ہوئے الفاظ لفط بہ لفظ یاد تھے۔ اسی طرح اور بھی بہت سی صحابیاتؓ کا ذکر ہے جنھوں نے اسلام کے پرچم تلے ہی اپنے آپ کو منوایا۔






0 comments:
Post a Comment