Tuesday, May 22, 2018

ثناء غوری کے آرٹیکل سے ماخوذ اقتباس

آنکھوں سے ہوتی ہوئی کئی کہانیاں دل کے دریچوں تک پہنچتی ہیں اور پھر لفظوں میں ڈھلتے ڈھلتے اکثر دم توڑ جاتی ہیں۔ ہم حقیقت دیکھتے ہیں محسوس تو کرتے ہیں لیکن خوف ہے جو ذہن کو منتشر کیے دیتا ہے، لفظوں کے بے وقعت ہونے کا خوف، لفظوں کی پاداش میں عمرقید کاٹنے کا خوف، لفظوں کی چبھن سے اپنا جسم لُہولہان کرنے کا خوف انہی لفظوں کے ڈراؤنے ہیولے سچائی کو قلم تک آنے سے روکتے ہیں اور یوں زندگی کے بھت کہیں چھپ جاتے ہیں۔

0 comments:

Post a Comment