آنکھوں سے ہوتی ہوئی کئی کہانیاں دل کے دریچوں تک پہنچتی ہیں اور پھر لفظوں میں ڈھلتے ڈھلتے اکثر دم توڑ جاتی ہیں۔ ہم حقیقت دیکھتے ہیں محسوس تو کرتے ہیں لیکن خوف ہے جو ذہن کو منتشر کیے دیتا ہے، لفظوں کے بے وقعت ہونے کا خوف، لفظوں کی پاداش میں عمرقید کاٹنے کا خوف، لفظوں کی چبھن سے اپنا جسم لُہولہان کرنے کا خوف انہی لفظوں کے ڈراؤنے ہیولے سچائی کو قلم تک آنے سے روکتے ہیں اور یوں زندگی کے بھت کہیں چھپ جاتے ہیں۔






0 comments:
Post a Comment