اللہ تعالی نے مسلمانوں کو دو عیدیں عطا کی ہیں. عید مسلمانوں کے لیے رب کی طرف سے انعام ہے. یہ مبارک دن اپنے بندوں کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے. وہ بندے جو پورا مہینہ اپنے رب کی اطاعت و فرماں برداری بجا لاتے ہیں. اس کی رضا کے حصول کی کوشش کرتے اور روزہ رکھتے، راتوں کو قیام کرتے، قرآن کی تلاوت کرتے، صدقات و خیرات کرتے اور زیادہ سے زیادہ رب کی رضا والے افعال سر انجام دیتے ہیں. اس کے بعد ہی عید کادن بطور تحفہ رب کی کی طرف سے آتا ہے. عید کا دن ایک مومن کے لیے خوشی، بندگی، فرمانبرداری اور شکر بجا لانے کا دن ہوتا ہے.
عید کا دن میل ملاپ، خوشی اور شکر کا دن ہے. روٹھے ہوئے افراد کو منانے کا دن ہے. محبتیں بانٹنے کا دن ہے. اس یادگار دن میں مرجھائے دل کھل اٹھتے ہیں. مایوس اور اداس لوگوں کے چہرے بھی گلاب کی مانند مہک اٹھتے ہیں.عید کی خوشیوں میں غریبوں کو نہ دھتکاریں یہ انکے لئے بھی عید کا دن ہے کسی غریب کو دھتکارنے سے پہلے سوچیے گا ضرور کہیں آپ اپنی پورے ماہ کی عبادات کو تو ضائع نہیں کر رہے.
خوشیان بانٹے اور انھیں بھی عید منانے دیں.
To be free and to live a free life
that is the most beautiful thing there is.
“Yoga means addition – addition of energy, strength and beauty to body, mind and soul.”
photographer gets people to pose for him. A yoga instructor gets people to pose for themselves.”
Be happy for this moment. This moment is your life.
Stay positive and happy. Work hard and don't give up hope. Be open to criticism and keep learning. Surround yourself with happy, warm and genuine people.
If you love life, don't waste time, for time is what life is made up of
Be strong, believe in freedom and in God, love yourself, understand your sexuality, have a sense of humor, masturbate, don't judge people by their religion, color or sexual habits, love life and your family.
Enjoy life while you can
Life is too precious and short to dare to waste it on mediocre dreams.
Tuesday, June 4, 2019
عید مبارک
Saturday, June 1, 2019
خوبصورت تحریر
**بہت خوبصورت تحریر ہے ضرور پڑھیں**
**پتہ ہے ہم جیسے لوگ اداس کیوں رہتے ہیں کیونکہ سب کو خوش رکھتے رکھتے ہم خوشیاں بھول جاتے ہیں ان کی خوشی میں ہی ہمیں اپنی خوشی محسوس کرتے ہیں گھٹ گھٹ کے مر کے جیتے ہیں۔کیوں کہ ہم سب کی پرواہ کرتے ہیں رشتے کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے خود ٹوٹ جاتے ہیں رشتوں کو یوز نہیں کرتے ان کی پرواہ کرتے ہیں ان کو اہمیت دیتے ہیں!!**
**ان کے لیے جینے کی چاہ میں خود کے لیے جینا بھول جاتے ہیں!!**
**اپنے حصے کی خوشیاں بھی ان پہ لٹا دیتے ہیں ہر لمحہ اسی ڈر میں رہتے ہیں کہ کہیں وہ نہ ناراض ہو جائے وہ نہ روٹھ جائے وہ نہ چھوڑ جائے اسی کشمکش میں زندگی گزر جاتی ہے!!**
**ہم جو سب کا دل رکھتے ہیں کیا ہم دل نہیں رکھتے**
**انسان ہیں فرشتے نہیں!!**
**مگر ہر لمحہ کوشش کرتے ہیں سب کچھ قائم رہے**
**گلہ نہیں ہے کسی سے بھی کیوں کہ ہم بنائے ہی ایسے گئے ہیں ہمارا دل ایسا بنایا گیا ہے کہ زرہ سی چوٹ پر درد شدت اختیار کر جاتا ہےکسی ایک کو منانے کے لیے دوسرے کو ناراض کر بیٹھتے ہیں اس کو مناتے ہیں کوئی اور ناراض ہو کے بیٹھا ہوتا ہےزندگی یوں ہی گزرتی رہتی ہے انسان پل پل مرتا رہتا ہے!!**
**شاید ہم جیسے لوگوں کو سکون کی گھڑیاں تب ہی نصیب ہوتی ہیں جب بول دیا جاتا ہے کہ انا للہ و انا الیہ راجعوابدی سکون لمبی اور گہری نیند نہ کوئی اٹھانے والے نہ کوئی تنگ کرنے والا نہ کسی کے لہجے کی پرواہ نہ کسی کی ناراضگی کی پرواہ نہ کسی کے روٹھنے کا ڈر نہ کچھ ٹوٹنے کا ڈر زندگی میں بھی مسافر ہوں تیری کشتی کا تو جہاں مجھ سے کہے گی میں اتر جاؤں گا !!**
منفی سوچ
منفی سوچ رکھنے والے افراد نہ خود کبھی کامیاب ہوسکتے ہیں اور نہ ہی دوسروں کو کامیاب ہونے دیتے ہیں۔
ان کی زندگی منفی سوچوں، خیالات اور جذبات سے بھری ہوتی ہے جو ان کی تمام ذہنی و جسمانی توانائی کو کھا جاتی ہے جس کے باعث یہ اپنی زندگی میں کچھ بھی اچھا نہیں کرسکتے۔
یہی نہیں یہ اپنے آس پاس موجود افراد کو بھی اپنی منفیت پرستی کا شکار بناتے ہیں جس کے باعث دیگر افراد بھی ان کے خیالات کی شر انگیزی کے باعث ناکام اور مایوس ہوجاتے ہیں۔
عقلمند افراد کا کہنا ہے کہ اگر آپ زندگی میں کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ منفی سوچ رکھنے والے دوست اور احباب سے دور رہیں
منفی سوچ رکھنے والے افراد کے آس پاس اگر کوئی محنتی شخص کامیابی حاصل کرے اور خوش ہو تو یہ کبھی بھی ان کی خوشی میں خوش نہیں ہوتے۔
یہ کبھی بھی خود کو غلط نہیں سمجھتے۔ یہ اپنی غلطی ماننے کے بجائے ہمیشہ دوسروں کو الزام دیتے ہیں۔
منفیت پرست افراد مباحثہ کرنے کے بجائے ہمیشہ اپنی رائے کو حرف آخر سمجھتے ہیں اور ہمیشہ بحث جیتنا چاہتے ہیں۔
یہ لوگوں سے مدد اور فوائد حاصل کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے، مگر جب ان سے مدد مانگی جائے تو یہ کبھی کسی کے کام نہیں آتے۔
ایسے لوگ بے معنی گپ شپ کرنے کے شوقین ہوتے ہیں اور ان کا موضوع گفتگو دوسرے افراد کی خامیاں اور ناکامیاں ہوتی ہیں۔
ان کی زندگی جذباتیت سے بھرپور ہوتی ہے اور یہ اپنے جذباتی ڈراموں اور فیصلوں میں آپ کو بھی شامل کر لیتے ہیں۔
منفی سوچ رکھنے والے افراد آس پا موجود افراد کو اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتے ہیں اور اگر کوئی ان کی مرضی کے خلاف کچھ کرنا چاہے تو انہیں سخت ناگوار گزرتا ہے۔
کہیں آپ کا شمار بھی منفی سوچ رکھنے والے افراد میں تو نہیں ہوتا؟
Tuesday, May 28, 2019
منفی سوچ اور ڈیپریشن
منفی سوچ،منفی رویہ اور منفی خیالات نے اس قوم کو تباہ کر دیاہ ہے. لوگ اتنے منفی ہوگئے کہ اپنی ذاتی زندگی کے علاوہ دوسروں کی زندگی کے بارے میں حد درجہ منفی ہوگئے ہیں. اور اپنے اس منفی رویے کا دکھاوا سوشل میڈیا کے ذریعے کرتے ہیں. ہر کسی کی زندگی کے حوالے سے منفی رویہ اختیار کرتے ہیں اور منفی سوچ کو فروغ دیتے ہیں.
حالانکہ منفی سوچ ناشکری کی علامت ہے. منفی سوچ ڈیپریشن کو فروغ دیتی ہے.
ہمارے ملک کا المیہ یہی ہے کہ عورت کو اگر کوئ تمغہ مل جائے تو وہ بھی ہضم نہیں ہوتا جیسے کہ مہوش حیات کو ملا اور اگر کسی کی اولاد کو عزت ملنے لگے تو بھی اس حاسد اور منافق قوم کو ہضم نہیں ہوتا..
فوراً سارے اصول و ضوابط یاد آجاتے ہیں... اگر بات نہ بن رہی ہو تو مذہب کو استعمال کرنے لگ جاتے ہیں..
انتہائی گھٹیا سوچ بن گئ ہے اس قوم کی... نہ خود کچھ کر سکتے ہیں نہ دوسرے کو کرتا دیکھ کر دل سے خوش ہو سکتے ہیں.
جاہلوں اپنے پڑوس کے ملکوں کو دیکھو... دنیا کے دوسرے ملکوں کو دیکھو... وہ لوگ بچہ ہو یا بڑا عورت ہو یا مرد پوری دنیا ٹیلنٹ کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں. اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں.
اس قوم سے تو حسد اور جلن کی آگ پھوٹ پڑتی ہے بس. اور حسد بھی اپنوں سے کرتے ہیں اپنوں کو ہی پروان چڑھتا نہیں دیکھ سکتے. اور اپنے بچوں کو بھی اسی آگ میں ڈالا جا رہا ہے. اپنے بچوں کو یہ سیکھانے کی بجائے کہ وہ دشمن سے مقابلہ کر کے اتنی محنت کرے کہ خود کامیاب ہوجائے نہیں بلکہ ہم کیا سیکھا رہے ہیں منفی سوچ سوچنا اور ڈیپریشن کعمو پروان چڑھانا.
Sunday, May 26, 2019
صحافی اور انسانی اخلاقیات کا معیار
ہمارے ہاں صحافت کا معیار کتنا گر چکا ھے کہ قمر زمان کائرہ کے بیٹے کی موت کی خبر انہیں کس طرح کس انداز میں دی گئی...
ایک بیوقوف صحافی نے یہ کہا کہ آپ کے لیے خبر لائے ہیں کہ آپ کا بیٹا ایکسپائر ہوگیا ہے
کائرہ نے پوچھا کیا کس کا بیٹا
اتنے میں ایک اور صحافی نے جلدی سے کہا خبر آئی ہے کہ آپ کے بیٹے کا ایکسڈینٹ ہوا ہے
کائرہ صاحب نے تھکنس کہا اور پھر گھر کال کی
کیسا ضبط تھا ایک باپ کا اپنے اعصاب پر قابو رکھنا پھر جوان بیٹے کی اچانک موت پر ۔۔۔۔آہ
خدایا جوان اولاد کا دُکھ... ممکن نہیں کوئی ماں اور باپ بهول جائے خدایا صبر دینا ماں باپ بہن بھائیوں کو ...اور ہدایت دے ان صحافیوں کو جنھیں صحافہ اخلاقیات کا علم نہیں اور صحاگی بنے پھرتے ہیں.
Stop being child abuse
Here is a list of things you need to teach your Child(ren) at early age:
1: Warn your Girl Child Never to sit on anyone's laps no matter the situation including uncles.
2: Avoid Getting Dressed in front of your child once he/she is 2 years old. Learn to excuse them or yourself.
3. Never allow any adult refer to your child as 'my wife' or 'my husband'
4. Whenever your child goes out to play with friends make sure you look for a way to find out what kind of play they do, because young people now sexually abuse themselves.
5. Never force your child to visit any adult he or she is not comfortable with and also be observant if your child becomes too fond of a particular adult.
6. Once a very lively child suddenly becomes withdrawn you may need to patiently ask lots of questions from your child.
7. Carefully educate your grown ups about the right values of sex . If you don't, the society will teach them the wrong values.
8: It is always advisable you go through any new Material like cartoons you just bought for them before they start seeing it themselves.
9. Ensure you activate parental controls on your cable networks and advice your friends especially those your child(ren) visit(s) often.
10. Teach your 3 year olds how to wash their private parts properly and warn them never to allow anyone touch those areas and that
includes you (remember, charity begins from home and with you).
11: Blacklist some materials/associates you think could threaten the sanity of your child (this includes music, movies and even friends and families).
12. Let your child(ren) understand the value of standing out of the
crowd.
13: Once your child complains about a particular person, don't keep quiet about it.
Take up the case and show them you can defend them.
Remember, we are either parents or parents-to-be.
and remember "THE PAIN LASTS A LIFETIME"
Have a Nice day and Great Week Ahead
And possible forward to all friends who have children.
Monday, May 20, 2019
انسانیت سیاست کی بھینٹ چڑھ رہی ہے
گذشتہ روز ایک وڈیو دیکھی جہاں ایک لائیو پریس کانفرنس کے دوران قمر زمان کو صحافیوں نے ان کے صاحبزادے کے حوالے سے جان سوز خبر سنائی ۔ اس خبر کو سننے کے بعد، جس طرح انھوں نےخود کو کمپوز رکھااور composure کا جو مظاہرہ دیکھنے کو ملا، وہ اپنی مثال آپ ہے۔
کیسی قیامت ٹوٹی ہوگی اس انسان پر جس نے اپنی متاع عمر کو اس حال میں دیکھا ہوگا۔
کیسے ان کندھوں نے دنیا کا سب سے بھاری بوجھ اٹھایا ہوگا۔
ایک صاحبِ اولاد ہی اس دکھ، اس غم کی شدت کو صحیح سے محسوس کرسکتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اندر کوئی قیامت آرہی ہو۔ ٹانگیں جسم کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہوجاتیں ہیں۔ اور آپکی ساری دنیا ختم ہوجاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ سے صرف یہی دعا کرسکتے ہیں کہ ان کو تھوڑا بہت ہی سہی، صبر آجائے۔ کیونکہ یہ وہ نقصان ہے، جسکا احساس رہتی زندگی نہیں جاتا۔ جو اس کرب سے گزرے ہیں، وہی سمجھ سکتے ہیں۔
اس واقع کے بعد سے کچھ دوست احباب، انتہائی بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ مجھے حیرت ہوتی ہے ان پر جو کسی انسان کے مرنے یا کسی پر کسی بھی قسم کی مشکل پڑنے پر خوشیاں مناتے ہیں۔
اگر آپ کو کسی کے سیاسی نظریات سے مسئلہ ہے تو اس کا مقابلہ سیاسی میدان میں کرنا ہے، ناکہ اس کے خاندان پر پڑنے والے غم کی خوشیاں منا کر۔۔۔
یہ کیسا اخلاق ہے؟
ہم اپنے ملک کو بہتر ایسے کریں گے؟
قومیں ایسے ابھرتی ہیں؟
قوموں کے مسائل ایسے حل ہوتے ہیں؟
موت پر خوشی کیسی؟
اگر آپ کو کسی کے سیاسی نظریات سے مسئلہ ہے، تو میدان میں اسکا مقابلہ کیجیے۔ اسکے نظریات کو چیلنج کیجیے۔ بھرپور جدوجہد کیجیے۔
موت پر تو صرف گدھے خوشیاں مناتے ہیں، دل رکھنے والے انسان نہیں۔
ہم ایک اذیت پسند قوم بنتے جارہے ہیں جو اپنے مخالفین کی بربادی، انکی ناکامی اور اموات پر خوش ہوتے ہیں۔
سوچیئے کہ کہیں آپ انسانی روپ میں گدھے تو نہیں بنتے جارہے۔ اگر یہ ہی سب آپ کے ساتھ ہوا ہوتا یا آپکا کوئی پیارا جان سے پیارا شخص اس دنیا فانی سے رخصت ہوجاتا تو کیا تب بھی آپ اسی بے حسی کا مظاہرہ کرتے.؟؟
اس شخص سے لاکھ اضتلافات ہی سہی اگر وہ آپکا پیرا ہتا تو یقینا نہیں
خدارا سیاسی اختلاف کو یکطرف کر کے انسانیت کا مظاہرہ کریں.
تحریر: عائشہ امین
Wednesday, April 24, 2019
ظلم کی ایک اور داستان ذمہ دار کون؟
9 ماہ کی ننھی کلی نشوا جو 6 اپریل2019کوصرف پیٹ درد کی شکایت کے ساتھ دارالصحت ہسپتال آئی جہاں7اپریل 2019 کی صبح کو عملے کی غیر ذمہ داری اور لاپرواہی کی وجہ سے اسے غلط انجکشن دیا گیا جس کے بعد اسکی سانس اکھڑنے لگی اور ہسپتال کے عملے نے اسے سی پی آر دیا(cardiopolmonry rescuitation) جس کے بعد نشوا کو دوسرے ہسپتال منتقل کر دیا گیا. نشوا کے والد کے مطابق 12 اپریل کو جب نشوا کو وینٹیلیٹر سے ہٹا یا تو ڈاکٹرز کے مطابق سی پی آر کی وجہ سے اسکے دماغ کو نقصان پہنچاتھا اور سی ٹی اسکین کی رپورٹ کے مطابق اس وجہ سے معصوم کلی کے ہاتھ پاؤں آنکھیں اور منہ مفلوج( paralyzed) ہوگیا تھا.
5 دن آئی سی یو میں رہنے کے بعد وہ اس جہان فانی سے رخصت ہو گئی معصوم کلی دنیا میں کھلنے سے پہلے ہی مرجھا گئی
لاپرواہی اور غفلت کی بھینٹ چڑھ کر معصومہ کبھی نہ آنے کے لیے چلی گئی. افسوس! ان لوگوں پے جو دوسروں کی زندگیوں کے ساتھ کھیلتے ہیں انسان کے روپ میں بھیڑیے ہیں
کیوں ان لوگوں کو ڈر نہیں لگتا. کیا ان کے دلوں میں خوف خدا نہیں ہے.
سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن جنھوں نے 5 لاکھ نشوا کی قیمت لگا دی. کیا یہ انکا فرض نہیں تھا کہ عملہ کے لائسینس کو ظبط کر کے کنسیل کیا جائے اور ہسپتال کے خلاف کاروائی کی جائے اور اسے سیل کیا جائے تاکہ کوئی اور لاپرواہی کی وجہ سے موت کی بھینٹ نہ چڑھے بلکہ انھوں نے تو خاموش تماشائی بن کہ نشوا کی قیمت لگا دی. ہم انھیں اسکی دگنی رقم دیتے ہیں اپنے پیاروں کو یہ انجکشن لگوا دیں صرف ایک بار.
ہماری حکومت بھی خاموش تماشائی بنے سب دیکھ رہی ہے کاش یہ سب ان کے اپنے پیاروں کے ساتھ ہوتا تواگلے ہی لمحے ہسپتال بند کروایا جاتا. یہاں تو ایف آئی آر کے بعد نشوا کے والد کو سندھ پولیس کی جانب سے دھمکیاں دی گئیں رشوت دینے کی کوشش کی کہ معاملہ کو دبا ک یہیں ختم کر دیا جائے.
نشوا کا ذمہ دار کون ؟؟؟
سندھ حکومت؟
پولیس؟
سندھ ہیلتھ کئیر کمیشن
یا صرف ہسپتال کا نا اہل عملہ؟؟؟















