Monday, May 20, 2019

انسانیت سیاست کی بھینٹ چڑھ رہی ہے

گذشتہ روز ایک وڈیو دیکھی جہاں ایک لائیو پریس کانفرنس کے دوران قمر زمان کو صحافیوں نے   ان کے صاحبزادے کے حوالے سے جان سوز خبر سنائی  ۔ اس خبر کو سننے کے بعد، جس طرح انھوں نےخود کو کمپوز رکھااور  composure کا جو مظاہرہ دیکھنے کو ملا، وہ اپنی مثال آپ ہے۔
کیسی قیامت ٹوٹی ہوگی اس انسان پر جس نے اپنی متاع عمر کو اس حال میں دیکھا ہوگا۔
کیسے ان کندھوں نے دنیا کا سب سے بھاری بوجھ اٹھایا ہوگا۔
ایک صاحبِ اولاد ہی اس دکھ، اس غم کی شدت کو صحیح سے محسوس کرسکتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اندر کوئی قیامت آرہی ہو۔ ٹانگیں جسم کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہوجاتیں ہیں۔ اور  آپکی ساری دنیا ختم ہوجاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ سے صرف یہی دعا کرسکتے ہیں کہ ان کو تھوڑا بہت ہی سہی، صبر آجائے۔ کیونکہ یہ وہ نقصان ہے، جسکا احساس رہتی زندگی نہیں جاتا۔ جو اس کرب سے گزرے ہیں، وہی سمجھ سکتے ہیں۔

اس واقع کے بعد سے کچھ دوست احباب، انتہائی بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ مجھے حیرت ہوتی ہے ان پر جو کسی انسان کے مرنے یا کسی پر کسی بھی قسم کی مشکل پڑنے پر خوشیاں مناتے ہیں۔
اگر آپ کو کسی کے سیاسی نظریات سے مسئلہ ہے تو اس کا مقابلہ سیاسی میدان میں کرنا ہے، ناکہ اس کے خاندان پر پڑنے والے غم کی خوشیاں منا کر۔۔۔
یہ کیسا اخلاق ہے؟
ہم اپنے ملک کو بہتر ایسے کریں گے؟
قومیں ایسے ابھرتی ہیں؟
قوموں کے مسائل ایسے حل ہوتے ہیں؟
موت پر خوشی کیسی؟
اگر آپ کو کسی کے سیاسی نظریات سے مسئلہ ہے، تو میدان میں اسکا مقابلہ کیجیے۔ اسکے نظریات کو چیلنج کیجیے۔ بھرپور جدوجہد کیجیے۔
موت پر تو صرف گدھے خوشیاں مناتے ہیں، دل رکھنے والے انسان نہیں۔
ہم ایک اذیت پسند قوم بنتے جارہے ہیں جو اپنے مخالفین کی بربادی، انکی ناکامی اور اموات پر خوش ہوتے ہیں۔
سوچیئے کہ کہیں آپ انسانی روپ میں گدھے تو نہیں بنتے جارہے۔ اگر یہ ہی سب آپ کے ساتھ ہوا ہوتا  یا آپکا کوئی پیارا جان سے   پیارا شخص اس دنیا فانی  سے رخصت ہوجاتا تو کیا تب بھی آپ اسی بے حسی کا مظاہرہ کرتے.؟؟
اس  شخص سے لاکھ اضتلافات ہی سہی اگر وہ آپکا پیرا ہتا تو یقینا نہیں
خدارا سیاسی اختلاف کو یکطرف کر کے انسانیت کا مظاہرہ کریں.
تحریر:  عائشہ امین

1 comment:

  1. ایک بہترین سوچ کی عکاسی کر رہی ہے یہ تحریر ۔۔ صحافت کا بدترین چہرہ پیش کیا جس طرح ایک موت کی خبر پہنچاٸی گٸی۔

    ReplyDelete