منفی سوچ،منفی رویہ اور منفی خیالات نے اس قوم کو تباہ کر دیاہ ہے. لوگ اتنے منفی ہوگئے کہ اپنی ذاتی زندگی کے علاوہ دوسروں کی زندگی کے بارے میں حد درجہ منفی ہوگئے ہیں. اور اپنے اس منفی رویے کا دکھاوا سوشل میڈیا کے ذریعے کرتے ہیں. ہر کسی کی زندگی کے حوالے سے منفی رویہ اختیار کرتے ہیں اور منفی سوچ کو فروغ دیتے ہیں.
حالانکہ منفی سوچ ناشکری کی علامت ہے. منفی سوچ ڈیپریشن کو فروغ دیتی ہے.
ہمارے ملک کا المیہ یہی ہے کہ عورت کو اگر کوئ تمغہ مل جائے تو وہ بھی ہضم نہیں ہوتا جیسے کہ مہوش حیات کو ملا اور اگر کسی کی اولاد کو عزت ملنے لگے تو بھی اس حاسد اور منافق قوم کو ہضم نہیں ہوتا..
فوراً سارے اصول و ضوابط یاد آجاتے ہیں... اگر بات نہ بن رہی ہو تو مذہب کو استعمال کرنے لگ جاتے ہیں..
انتہائی گھٹیا سوچ بن گئ ہے اس قوم کی... نہ خود کچھ کر سکتے ہیں نہ دوسرے کو کرتا دیکھ کر دل سے خوش ہو سکتے ہیں.
جاہلوں اپنے پڑوس کے ملکوں کو دیکھو... دنیا کے دوسرے ملکوں کو دیکھو... وہ لوگ بچہ ہو یا بڑا عورت ہو یا مرد پوری دنیا ٹیلنٹ کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں. اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں.
اس قوم سے تو حسد اور جلن کی آگ پھوٹ پڑتی ہے بس. اور حسد بھی اپنوں سے کرتے ہیں اپنوں کو ہی پروان چڑھتا نہیں دیکھ سکتے. اور اپنے بچوں کو بھی اسی آگ میں ڈالا جا رہا ہے. اپنے بچوں کو یہ سیکھانے کی بجائے کہ وہ دشمن سے مقابلہ کر کے اتنی محنت کرے کہ خود کامیاب ہوجائے نہیں بلکہ ہم کیا سیکھا رہے ہیں منفی سوچ سوچنا اور ڈیپریشن کعمو پروان چڑھانا.
















