To be free and to live a free life

that is the most beautiful thing there is.

“Yoga means addition – addition of energy, strength and beauty to body, mind and soul.”

photographer gets people to pose for him. A yoga instructor gets people to pose for themselves.”

Be happy for this moment. This moment is your life.

Stay positive and happy. Work hard and don't give up hope. Be open to criticism and keep learning. Surround yourself with happy, warm and genuine people.

If you love life, don't waste time, for time is what life is made up of

Be strong, believe in freedom and in God, love yourself, understand your sexuality, have a sense of humor, masturbate, don't judge people by their religion, color or sexual habits, love life and your family.

Enjoy life while you can

Life is too precious and short to dare to waste it on mediocre dreams.

Tuesday, May 28, 2019

منفی سوچ اور ڈیپریشن


منفی سوچ،منفی رویہ اور  منفی خیالات نے  اس قوم کو تباہ کر دیاہ ہے. لوگ اتنے منفی ہوگئے  کہ اپنی ذاتی زندگی کے علاوہ دوسروں کی زندگی کے بارے میں حد درجہ  منفی ہوگئے ہیں. اور اپنے اس منفی رویے کا  دکھاوا سوشل میڈیا کے ذریعے کرتے ہیں. ہر کسی کی زندگی کے حوالے سے   منفی   رویہ اختیار کرتے ہیں اور منفی سوچ کو فروغ  دیتے ہیں.
حالانکہ منفی سوچ  ناشکری کی علامت ہے. منفی سوچ ڈیپریشن کو فروغ دیتی ہے.

ہمارے ملک کا المیہ یہی ہے کہ عورت کو اگر کوئ تمغہ مل جائے تو وہ بھی ہضم نہیں ہوتا جیسے کہ مہوش حیات کو ملا اور اگر کسی کی اولاد کو عزت ملنے لگے تو بھی اس حاسد اور منافق قوم کو ہضم نہیں ہوتا..
فوراً سارے اصول و ضوابط یاد آجاتے ہیں... اگر بات نہ بن رہی ہو تو مذہب کو استعمال کرنے لگ جاتے ہیں..
انتہائی گھٹیا سوچ بن گئ ہے اس قوم کی... نہ خود کچھ کر سکتے ہیں نہ دوسرے کو کرتا دیکھ کر دل سے خوش ہو سکتے ہیں.
جاہلوں اپنے پڑوس کے ملکوں کو دیکھو... دنیا کے دوسرے ملکوں کو دیکھو... وہ لوگ بچہ ہو یا بڑا عورت ہو یا مرد پوری دنیا ٹیلنٹ کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں. اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں.
اس قوم سے تو حسد اور جلن کی آگ پھوٹ پڑتی ہے بس. اور حسد بھی  اپنوں سے کرتے ہیں اپنوں کو ہی  پروان چڑھتا نہیں دیکھ سکتے.  اور اپنے بچوں کو  بھی اسی آگ میں ڈالا جا رہا ہے.    اپنے بچوں کو یہ سیکھانے کی بجائے کہ وہ  دشمن سے مقابلہ کر کے اتنی محنت  کرے کہ خود کامیاب ہوجائے نہیں بلکہ ہم کیا سیکھا رہے ہیں  منفی سوچ سوچنا اور ڈیپریشن کعمو پروان چڑھانا.

Sunday, May 26, 2019

صحافی اور انسانی اخلاقیات کا معیار

ہمارے ہاں  صحافت کا معیار کتنا گر چکا ھے کہ قمر زمان کائرہ کے بیٹے کی موت کی خبر انہیں کس طرح  کس انداز میں دی گئی...
ایک   بیوقوف صحافی نے یہ کہا کہ آپ کے لیے خبر لائے ہیں کہ آپ کا بیٹا ایکسپائر ہوگیا ہے
کائرہ نے پوچھا کیا کس کا بیٹا
اتنے میں ایک اور صحافی نے جلدی سے کہا خبر آئی ہے کہ آپ کے بیٹے کا ایکسڈینٹ ہوا ہے
کائرہ صاحب نے تھکنس کہا اور پھر گھر کال کی
کیسا ضبط تھا ایک باپ کا اپنے اعصاب پر قابو رکھنا پھر جوان بیٹے کی اچانک موت پر ۔۔۔۔آہ
خدایا جوان اولاد کا دُکھ... ممکن نہیں کوئی ماں اور باپ بهول جائے خدایا صبر دینا  ماں باپ بہن بھائیوں کو ...اور ہدایت دے ان صحافیوں کو جنھیں صحافہ اخلاقیات کا   علم نہیں اور صحاگی بنے پھرتے ہیں.

Stop being child abuse

Here is a list of things you need to teach your Child(ren) at early age:

1: Warn your Girl Child Never to sit on anyone's laps no matter the situation including uncles.

2: Avoid Getting Dressed in front of your child once he/she is 2 years old. Learn to excuse them or yourself.

3. Never allow any adult refer to your child as 'my wife' or 'my husband'

4. Whenever your child goes out to play with friends make sure you look for a way to find out what kind of play they do, because young people now sexually abuse themselves.

5. Never force your child to visit any adult he or she is not comfortable with and also be observant if your child becomes too fond of a particular adult.

6. Once a very lively child suddenly becomes withdrawn you may need to patiently ask lots of questions from your child.

7. Carefully educate your grown ups about the right values of sex . If you don't, the society will teach them the wrong values.

8: It is always advisable you go through any new Material like cartoons you just bought for them before they start seeing it themselves.

9. Ensure you activate parental controls on your cable networks and advice your friends especially those your child(ren) visit(s) often.

10. Teach your 3 year olds how to wash their private parts properly and warn them never to allow anyone touch those areas and that
includes you (remember, charity begins from home and with you).

11: Blacklist some materials/associates you think could threaten the sanity of your child (this includes music, movies and even friends and families).

12. Let your child(ren) understand the value of standing out of the
crowd.

13: Once your child complains about a particular person, don't keep quiet about it.

Take up the case and show them you can defend them.

Remember, we are either parents or parents-to-be.
and remember "THE PAIN LASTS A LIFETIME"

Have a Nice day and Great Week Ahead

And possible forward to all friends who have children.

Monday, May 20, 2019

انسانیت سیاست کی بھینٹ چڑھ رہی ہے

گذشتہ روز ایک وڈیو دیکھی جہاں ایک لائیو پریس کانفرنس کے دوران قمر زمان کو صحافیوں نے   ان کے صاحبزادے کے حوالے سے جان سوز خبر سنائی  ۔ اس خبر کو سننے کے بعد، جس طرح انھوں نےخود کو کمپوز رکھااور  composure کا جو مظاہرہ دیکھنے کو ملا، وہ اپنی مثال آپ ہے۔
کیسی قیامت ٹوٹی ہوگی اس انسان پر جس نے اپنی متاع عمر کو اس حال میں دیکھا ہوگا۔
کیسے ان کندھوں نے دنیا کا سب سے بھاری بوجھ اٹھایا ہوگا۔
ایک صاحبِ اولاد ہی اس دکھ، اس غم کی شدت کو صحیح سے محسوس کرسکتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اندر کوئی قیامت آرہی ہو۔ ٹانگیں جسم کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہوجاتیں ہیں۔ اور  آپکی ساری دنیا ختم ہوجاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ سے صرف یہی دعا کرسکتے ہیں کہ ان کو تھوڑا بہت ہی سہی، صبر آجائے۔ کیونکہ یہ وہ نقصان ہے، جسکا احساس رہتی زندگی نہیں جاتا۔ جو اس کرب سے گزرے ہیں، وہی سمجھ سکتے ہیں۔

اس واقع کے بعد سے کچھ دوست احباب، انتہائی بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ مجھے حیرت ہوتی ہے ان پر جو کسی انسان کے مرنے یا کسی پر کسی بھی قسم کی مشکل پڑنے پر خوشیاں مناتے ہیں۔
اگر آپ کو کسی کے سیاسی نظریات سے مسئلہ ہے تو اس کا مقابلہ سیاسی میدان میں کرنا ہے، ناکہ اس کے خاندان پر پڑنے والے غم کی خوشیاں منا کر۔۔۔
یہ کیسا اخلاق ہے؟
ہم اپنے ملک کو بہتر ایسے کریں گے؟
قومیں ایسے ابھرتی ہیں؟
قوموں کے مسائل ایسے حل ہوتے ہیں؟
موت پر خوشی کیسی؟
اگر آپ کو کسی کے سیاسی نظریات سے مسئلہ ہے، تو میدان میں اسکا مقابلہ کیجیے۔ اسکے نظریات کو چیلنج کیجیے۔ بھرپور جدوجہد کیجیے۔
موت پر تو صرف گدھے خوشیاں مناتے ہیں، دل رکھنے والے انسان نہیں۔
ہم ایک اذیت پسند قوم بنتے جارہے ہیں جو اپنے مخالفین کی بربادی، انکی ناکامی اور اموات پر خوش ہوتے ہیں۔
سوچیئے کہ کہیں آپ انسانی روپ میں گدھے تو نہیں بنتے جارہے۔ اگر یہ ہی سب آپ کے ساتھ ہوا ہوتا  یا آپکا کوئی پیارا جان سے   پیارا شخص اس دنیا فانی  سے رخصت ہوجاتا تو کیا تب بھی آپ اسی بے حسی کا مظاہرہ کرتے.؟؟
اس  شخص سے لاکھ اضتلافات ہی سہی اگر وہ آپکا پیرا ہتا تو یقینا نہیں
خدارا سیاسی اختلاف کو یکطرف کر کے انسانیت کا مظاہرہ کریں.
تحریر:  عائشہ امین

Wednesday, April 24, 2019

ظلم کی ایک اور داستان ذمہ دار کون؟


9 ماہ کی ننھی کلی نشوا جو 6 اپریل2019کوصرف پیٹ درد کی شکایت کے ساتھ دارالصحت ہسپتال آئی جہاں7اپریل 2019 کی صبح کو عملے کی غیر ذمہ داری اور لاپرواہی کی وجہ سے اسے غلط انجکشن دیا گیا جس کے بعد اسکی سانس  اکھڑنے لگی   اور ہسپتال کے عملے نے اسے سی پی آر دیا(cardiopolmonry rescuitation) جس کے بعد نشوا کو دوسرے ہسپتال منتقل کر دیا گیا. نشوا کے والد کے مطابق  12 اپریل کو  جب نشوا کو وینٹیلیٹر سے ہٹا یا تو ڈاکٹرز کے مطابق سی پی آر کی وجہ سے اسکے دماغ کو نقصان پہنچاتھا  اور سی ٹی اسکین  کی رپورٹ کے مطابق اس وجہ سے معصوم کلی کے ہاتھ پاؤں آنکھیں اور منہ مفلوج( paralyzed)  ہوگیا تھا.
5 دن آئی سی یو میں رہنے کے بعد  وہ اس جہان فانی سے رخصت ہو گئی معصوم کلی  دنیا میں کھلنے سے پہلے ہی مرجھا گئی
لاپرواہی اور غفلت کی بھینٹ چڑھ کر معصومہ کبھی نہ آنے کے لیے چلی گئی. افسوس! ان لوگوں پے  جو دوسروں کی زندگیوں کے ساتھ کھیلتے ہیں انسان کے روپ میں بھیڑیے  ہیں
کیوں ان لوگوں کو ڈر نہیں لگتا. کیا ان کے دلوں میں خوف خدا  نہیں ہے.
سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن جنھوں نے   5 لاکھ نشوا کی قیمت  لگا دی. کیا یہ انکا فرض نہیں تھا کہ  عملہ کے لائسینس کو ظبط کر کے  کنسیل کیا جائے اور    ہسپتال کے خلاف کاروائی کی جائے اور  اسے سیل کیا جائے تاکہ کوئی اور  لاپرواہی کی وجہ سے موت کی بھینٹ نہ چڑھے بلکہ   انھوں نے تو خاموش تماشائی بن کہ نشوا کی قیمت لگا دی. ہم انھیں اسکی دگنی رقم دیتے ہیں اپنے پیاروں کو یہ انجکشن لگوا دیں صرف ایک بار.
ہماری حکومت بھی خاموش تماشائی بنے سب دیکھ رہی ہے کاش یہ سب  ان کے اپنے پیاروں کے ساتھ ہوتا تواگلے ہی لمحے ہسپتال بند کروایا جاتا.  یہاں تو ایف آئی آر کے بعد  نشوا کے والد کو   سندھ پولیس کی جانب سے  دھمکیاں دی گئیں  رشوت دینے کی کوشش کی کہ معاملہ کو دبا ک یہیں ختم کر دیا جائے.
نشوا  کا ذمہ دار کون ؟؟؟
سندھ حکومت؟
پولیس؟
سندھ ہیلتھ کئیر کمیشن
یا صرف ہسپتال  کا نا اہل  عملہ؟؟؟
تحریر عائشہ امین


Friday, March 15, 2019

 کسی  کی ذاتی رائے ، حرکات  اور نظریات کا آپ کی سوچ  سے قتعاََ کوئی  تعلق  ہونا ضروری نہیں  ضروری نیں آپ میری ہر بات سےاتفاق کریں۔ آپ کی سوچ آپ کا نظریہ  آُ کے مشاہدے کے مطابق ہے، میری سوچ  میری رائے  میری ذاتی ہے  میرا مشاہدہ آُپ سے مختلف ہوسکتا ہے ۔کسی کی سوچ غلط نہیں ہوتی   بس اس کا نظریہ  آپ کی سوچ  سے مختلف ہوتا  ہے۔

Wednesday, February 20, 2019




ہم کس ڈگر پے چل پڑے یہ تو ہماری تہذیب کا حصہ نہ تھا  نہ ہی یہ ہماے کلچر میں شامل ہے  ہماری ڈرامہ انڈسٹری بغیرتی کے بغیر نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں   بھت مشہور ہے اور ہمارے ڈرامے  بہت پسند کیے جاتے ہیں۔

Saturday, February 16, 2019

لوگ کیا کہیں گے.... !

ہماری زندگی صرف ایک جملے کے گرد کیوں گھومتی ہے؟؟
کہ لوگ کیا کہیں گے۔۔۔
ارے! لوگوں کا تو کام ہے کہنا انہیں کہنے دیجئے
مگر ان کی باتوں سے اپنی خواہشات کے قاتل نہ بنیں
نتیجہ صرف نفرتوں کو پروان چڑھاہے گا
خدارا لوگوں کی فکر کرنا چھوڑ دیں ے
کہ لوگ کیا کہیں گے
لوگ کیا کہیں گے 
 دلوں میں غبار آجانے سے دلوں میں دراریں پڑ جاتی ہیں
یہ سوچتے سوچتے کہ لوگ کیا کہیں گے
لوگ سب کچھ کہ جاتے ہیں
اور ہماری خوشیوں اور خواہشوں کے قاتل بن جاتے ہیں
جب تک آپ سنتے رہیں گے لوگ بولتے رہیں گے
اپنے آپ کو بھی بدلو
نہ کسی کے معاملات میں خود بولو نہ کسی کو اپنے معلات میں  
بولنے دو
آخر میں لوگ بس یہ ہی کہتے ہیں
انا للہ وانا الیہ راجعون


Tuesday, January 29, 2019

چائلڈ لیبر اور انکے ساتھ ہونے والے ظلم کی ایک اور داستان


بچے جو کسی ملک کا مستقبل،سرمایہ اور اثاثہ ہوتے ہیں جب حالات سے مجبور ہو کرہنسنے اور کھیلنے کے دنوں میں کام کرنے نکل کھڑے ہوتے ہیں تو یقیناَ اس معاشرے کے لئے ایک المیہ پا رہا ہوتا ہے۔یہ المیہ ہر گزرتے دن کے ساتھ زخم کی صورت اختیار کرتا ہے اور پھر نا سور بن کر سماج کا چہرہ ساغ دار اور بد صورت کر دیتا ہے۔ پاکستان میں بھی معاشی بدحالی سہولیات سے محرومی بے روزگاری،غربت اور وسائل کی کمی نے جگہ جگہ اس المیہ کو جنم دے رکھا ہے۔ ساری دنیا اس کا شکار ہیں لیکن پاکستان میں چائلڈ لیبر ایک ضرورت بن چکی ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے غریب ادمی اپنے معصوم اور کمسن بچوں کو شروع سے ہی کام پے لگا دے تے ہیں تا کہ ان کا گھر کا چولھا جلتا رہے۔ لیکن جن امیرون کے گھر یہ معصوم اور کمسن بچے کام کرنے جاتے ہیں ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے کبھی سوچا ہے کسی نے ؟؟؟؟؟
پیسا کا غرور انسانوں کو جلاد بنا رہا ہے انسانیت کانپ اٹھتی ہے ایسے واقعات کو دیکھ کر۔ کیسے تڑپا تڑپا کے بے دردی سے کمسن ملازمہ 16برس کی اٌزمہ کو جان سے ہی مار دیا۔ دم توڑتی بچی کا مذاق اڑایا گیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پے وائرل ہوگئی۔ چینل 24 کے ایک پروگرام انکشاف میں اس واقعہ کی رپوٹ کی گئی تو پتہ چلا یہ بچی یہاں 8ماہ سے کام کر رہی تھی اور یہ کوئی پہلی بچی نہ تھی بلہ اس سے پہلے بھی جتنی بچیاں یہاں کام کرنے آتیں ان کو اسی طرح ظلم و جبر کا نشانہ بنایا جاتا لین اٌزمہ کا کیا قصور تھا کہ اس کو جان سے ہی ہاتھ دھونا پڑگیا آخر ایسا کونسا گھنونا کام اسنےکر دیا تھا۔
ایسی بات نہیں اٗزمہ کی غلطی صرف اتنی تھی کہ اس نے اپنی مالکن کی بیٹی کی پلیٹ سے قیمہ لے لیا تھا تھوڑا سا جس کی اتنی برہ سزا اسے ملی کے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اٗزمہ کے سر کے پیچے کسی بھاری چیز سے وار کیا گیا جس کی وجہ سے اس کے دماغ کے اندروی حصہ میں خن ریستا رہا لیکن مالکان نے اسے ہسپتال یا ڈاکٹر کے پاس لے جانے کی بجائے گھر میں اسکا علاج بجلی کے جھٹکے دینے سے کیا جس کے بعد اس کی موت واقع ہوگئی اور درندوں نے معصوم بچی کو بوری میں بند کر ک پھینک دیا ۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں اس طرح کے کئی واقعات پہلے بھی رونما ہوچکے ہیں لیکن انصاف تو ہمارے ملک میں کسی کو مل جائے ایسا ممکن نہیں ۔ امید کرتے ہیں اس بار حکومت ان درندوں کے خلاف سخت سے سخت ایکشن لے اور انھیں انک انجام تک پہچائے۔

Sunday, January 27, 2019

معصوم بچیوں کے ساتھ بدفعلی اور ہمارا کردار



کبھی کبھی ہم اتنے مجبور ہوجاتے ہیں کہ اپنے قلم کی آواز اٹھاۓ بغیر ہمیں سکون نہیں ملتا ہمارا ضمیر ہمیں سونے نہیں دیتا ۔ کل رات بھی کچھ ایسا ہی ہوا جب میں انٹرنیٹ سرفنگ میں مصروف تھی تو کراچی کے ایک شاپنگ مال میں ہونے والے چلڈرن فیشن شو کی چند تصاویر میری نظر سے گزریں،فیشن شو ایک انٹرنیشنل اسٹور" کلیر" کی افتتاحی تقریب کے موقع پےکیا گیاجس کا افتتاح امریکی جرنل کونسل نے کیا۔ افتتا حی تقریب کے موقع پے فیشن شو بھی منقد کیا گیا جس کی تصاویر جب میری نظر سے گزریں تو میرے ضمیر نےمجھ سے سوال کیا۔ کیا ہم اسلامی فلاحی ریاست کے باشندے ہیں ؟ کیا ہم اپنے بچوں کو زندگی گزارنے کے صحیح طریقے سے روشناس کروارہے ہیں؟ کیا یہ صحیح ہے ؟فیشن شو کے نام پے جو کچھ ہو رہا ہے اسکا علم ہم سب کو ہے،پہلے تو بڑے بڑے برانڈز کا ٹارگٹ صرف نوجوان نسل ہوتی تھی لیکن اب تو حد ہی ہوگئی ان لوگوں نے اپنا بزنس چمکانے کے لئے بچوں کو بھی نہ چھوڑا حیرت تو ان ماوں پے ہوتی ہے جنھوں نے نہ صرف اپنی معصوم بچیوں کو ایسا لباس پہنایا بلکہ انھیں ریمپ پے واک بھی کروائی ان کے معصوم اور کچے ذہنوں پے اسکے کیا اثرات مرت ہوں گے اسکا اندازا ہم اور آپ نہیں لگا سکتے۔فیشن شو کو دیکھنے کے بعد میرے ذہن میں اٹھنے والا پہلا سوال یہ تھا کہ زینب اور اس جیسی کئی معصوم بچیاں جو حوانیت اور بربریت کا نشانہ بنیں انکا ذمہ دار کون؟؟؟؟ میں؟ آپ؟ حکومت؟ میڈٰیا؟ یا پھر وہ مائیں جو اپنی معصوم ننھی کلیوں کو ایسا لباس زیبِ تن کرا کے یہ کہہ کہ کیا ہوا بچی ہی تو ہے باہر بھیجتی ہیں ۔ زینب بھی تو بچی تھی نا؟
آخر کیوں ہم اس معاشرے میں مغربی کلچر کو فروغ دے رہے ہیں؟ جہاں حوانیت اور بربریت کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا ہم خود ایسے کلچر کو اپنی اسلامی ریاست میں فروغ دے کر زینب جیسی کئی معصوم لڑکیوں کو اسکا شکار بنا رہے ہیں۔
مغربی کلچر کو فر و غ دینے والی ہماری لبل سوسائٹی ہے جو صرف شورکرنا جانتی ہے۔
ان ماؤں سے میری گزارش ہے خدارا ہوش کے ناخن لیں اپنی بیٹی کی حفاظت خود کریں اس سے پہلے دیر ہوجائے۔ اپنی بیٹی کوہوس بھری نگاہوں کا نشانہ نہ بننے دیں ۔آپ اپنی بیٹی کو حوانیت اور درندگی سے خود بچا سکتی ہیں۔