Tuesday, January 29, 2019

چائلڈ لیبر اور انکے ساتھ ہونے والے ظلم کی ایک اور داستان


بچے جو کسی ملک کا مستقبل،سرمایہ اور اثاثہ ہوتے ہیں جب حالات سے مجبور ہو کرہنسنے اور کھیلنے کے دنوں میں کام کرنے نکل کھڑے ہوتے ہیں تو یقیناَ اس معاشرے کے لئے ایک المیہ پا رہا ہوتا ہے۔یہ المیہ ہر گزرتے دن کے ساتھ زخم کی صورت اختیار کرتا ہے اور پھر نا سور بن کر سماج کا چہرہ ساغ دار اور بد صورت کر دیتا ہے۔ پاکستان میں بھی معاشی بدحالی سہولیات سے محرومی بے روزگاری،غربت اور وسائل کی کمی نے جگہ جگہ اس المیہ کو جنم دے رکھا ہے۔ ساری دنیا اس کا شکار ہیں لیکن پاکستان میں چائلڈ لیبر ایک ضرورت بن چکی ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے غریب ادمی اپنے معصوم اور کمسن بچوں کو شروع سے ہی کام پے لگا دے تے ہیں تا کہ ان کا گھر کا چولھا جلتا رہے۔ لیکن جن امیرون کے گھر یہ معصوم اور کمسن بچے کام کرنے جاتے ہیں ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے کبھی سوچا ہے کسی نے ؟؟؟؟؟
پیسا کا غرور انسانوں کو جلاد بنا رہا ہے انسانیت کانپ اٹھتی ہے ایسے واقعات کو دیکھ کر۔ کیسے تڑپا تڑپا کے بے دردی سے کمسن ملازمہ 16برس کی اٌزمہ کو جان سے ہی مار دیا۔ دم توڑتی بچی کا مذاق اڑایا گیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پے وائرل ہوگئی۔ چینل 24 کے ایک پروگرام انکشاف میں اس واقعہ کی رپوٹ کی گئی تو پتہ چلا یہ بچی یہاں 8ماہ سے کام کر رہی تھی اور یہ کوئی پہلی بچی نہ تھی بلہ اس سے پہلے بھی جتنی بچیاں یہاں کام کرنے آتیں ان کو اسی طرح ظلم و جبر کا نشانہ بنایا جاتا لین اٌزمہ کا کیا قصور تھا کہ اس کو جان سے ہی ہاتھ دھونا پڑگیا آخر ایسا کونسا گھنونا کام اسنےکر دیا تھا۔
ایسی بات نہیں اٗزمہ کی غلطی صرف اتنی تھی کہ اس نے اپنی مالکن کی بیٹی کی پلیٹ سے قیمہ لے لیا تھا تھوڑا سا جس کی اتنی برہ سزا اسے ملی کے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اٗزمہ کے سر کے پیچے کسی بھاری چیز سے وار کیا گیا جس کی وجہ سے اس کے دماغ کے اندروی حصہ میں خن ریستا رہا لیکن مالکان نے اسے ہسپتال یا ڈاکٹر کے پاس لے جانے کی بجائے گھر میں اسکا علاج بجلی کے جھٹکے دینے سے کیا جس کے بعد اس کی موت واقع ہوگئی اور درندوں نے معصوم بچی کو بوری میں بند کر ک پھینک دیا ۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں اس طرح کے کئی واقعات پہلے بھی رونما ہوچکے ہیں لیکن انصاف تو ہمارے ملک میں کسی کو مل جائے ایسا ممکن نہیں ۔ امید کرتے ہیں اس بار حکومت ان درندوں کے خلاف سخت سے سخت ایکشن لے اور انھیں انک انجام تک پہچائے۔

0 comments:

Post a Comment