9 ماہ کی ننھی کلی نشوا جو 6 اپریل2019کوصرف پیٹ درد کی شکایت کے ساتھ دارالصحت ہسپتال آئی جہاں7اپریل 2019 کی صبح کو عملے کی غیر ذمہ داری اور لاپرواہی کی وجہ سے اسے غلط انجکشن دیا گیا جس کے بعد اسکی سانس اکھڑنے لگی اور ہسپتال کے عملے نے اسے سی پی آر دیا(cardiopolmonry rescuitation) جس کے بعد نشوا کو دوسرے ہسپتال منتقل کر دیا گیا. نشوا کے والد کے مطابق 12 اپریل کو جب نشوا کو وینٹیلیٹر سے ہٹا یا تو ڈاکٹرز کے مطابق سی پی آر کی وجہ سے اسکے دماغ کو نقصان پہنچاتھا اور سی ٹی اسکین کی رپورٹ کے مطابق اس وجہ سے معصوم کلی کے ہاتھ پاؤں آنکھیں اور منہ مفلوج( paralyzed) ہوگیا تھا.
5 دن آئی سی یو میں رہنے کے بعد وہ اس جہان فانی سے رخصت ہو گئی معصوم کلی دنیا میں کھلنے سے پہلے ہی مرجھا گئی
لاپرواہی اور غفلت کی بھینٹ چڑھ کر معصومہ کبھی نہ آنے کے لیے چلی گئی. افسوس! ان لوگوں پے جو دوسروں کی زندگیوں کے ساتھ کھیلتے ہیں انسان کے روپ میں بھیڑیے ہیں
کیوں ان لوگوں کو ڈر نہیں لگتا. کیا ان کے دلوں میں خوف خدا نہیں ہے.
سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن جنھوں نے 5 لاکھ نشوا کی قیمت لگا دی. کیا یہ انکا فرض نہیں تھا کہ عملہ کے لائسینس کو ظبط کر کے کنسیل کیا جائے اور ہسپتال کے خلاف کاروائی کی جائے اور اسے سیل کیا جائے تاکہ کوئی اور لاپرواہی کی وجہ سے موت کی بھینٹ نہ چڑھے بلکہ انھوں نے تو خاموش تماشائی بن کہ نشوا کی قیمت لگا دی. ہم انھیں اسکی دگنی رقم دیتے ہیں اپنے پیاروں کو یہ انجکشن لگوا دیں صرف ایک بار.
ہماری حکومت بھی خاموش تماشائی بنے سب دیکھ رہی ہے کاش یہ سب ان کے اپنے پیاروں کے ساتھ ہوتا تواگلے ہی لمحے ہسپتال بند کروایا جاتا. یہاں تو ایف آئی آر کے بعد نشوا کے والد کو سندھ پولیس کی جانب سے دھمکیاں دی گئیں رشوت دینے کی کوشش کی کہ معاملہ کو دبا ک یہیں ختم کر دیا جائے.
نشوا کا ذمہ دار کون ؟؟؟
سندھ حکومت؟
پولیس؟
سندھ ہیلتھ کئیر کمیشن
یا صرف ہسپتال کا نا اہل عملہ؟؟؟
تحریر عائشہ امین










each and every word is heart touching.
ReplyDeleteاللہ ان بے حس لوگوں کو کیفر کردار تک پہنچائے آمین۔میرا دل دکھ سے بھرا ہے ان والدین کے لیے۔اس ماں کے لیے جس نے نو ماہ اپنے پیٹ میں رکھا اور نو ماہ اسے پالا ۔کیا گزرتی ہوگی ۔اللہ صںر دے۔اور نشوی ان کو جنت میں لے جانے کا سبب بنے آمین