بیٹی کو بولنے کی اجازت دیجئے تاکہ اگر اس کے ساتھ کچھ غلط ہورہا ہے تو وہ آپ کو اعتماد میں لے کر احوال بیان کر سکے۔ آخر وہ ایسی غلطی کا خمیازہ بھگتے ہی کیوں جو اُس نے کی ہی نہ ہو۔ یاد رکھئے بے باکی اور حساب بے باک کرنے میں فرق ہے۔
روزانہ ایسے کتنے ہی لوگ مجھے نظر آتے ہیں جو عورت کے حوالے سے اپنی سوچ کی گندگی کو نہ ظاہر کر پاتے ہیں اور نہ ہی چھپا پاتے ہیں۔ جب آپ کسی برے فعل کو اپنی نگاہوں کے سامنے ہوتا ہوا دیکھیں اور آگے بڑھ جائیں تو یاد رکھیے گا کہ کل وہی سب کچھ آپ کے اپنے گھر کے فرد کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ کہنے کو ہم سب کی زندگی کے دائرے مکمل میں لیکن کہیں نہ کہیں غور کیجئے کے ہم نے اپنی بیٹیوں کے معاملے میں یہ دائرے نامکمل چھوڑ دیے ہیں۔ بیٹی ایک نعمت ہے اسے بولنے کی اجازت دیجئے تاکہ اگر اس کے ساتھ کچھ غلط ہورہا ہے تو وہ آپ کو اعتماد میں لے کر اپنااحوال بیان کر سکے۔ ورنہ معاشرے سمیت آپ کے اور آپ کی بچی کے درمیان بھی ایک طویل خلیج حائل ہو جائے گی۔ آخر وہ ایسی غلطی کا خمیازہ بھگتے ہی کیوں جو اُس نے کی ہی نہ ہو۔ یاد رکھئے بے باکی اور حساب بے باق کرنے میں فرق ہے۔
عورت جس روپ میں ہو عزت کیے جانے کا قابل ہوتی ہے۔ وہی عورت جس کے بطن سے ہمیں پیدا کیا گیا، وہی عورت جو اپنے سینے سے رزق اپنے بچوں کے منہ میں ڈالتی ہے۔ وہی عورت جو بولنا سکھاتی ہے۔ ماں! رب کی رضا سے رب کا زمین پر اتارا جانے والا ایک وہ نمائندہ جسے شاید رب نے اپنے ہونے کا یقین دلانے کے لیے زمین پر پیدا کیا کہ دیکھو تمھارا رب اتنا رحیم و کریم اور اتنا مہربان ہے جیسے تمھاری ماں۔ رب کی محبت کو ماں کی محبت سے تشبیہہ دی گئی اور لوگوں کو سمجھایا گیا کہ تمھارا رب تم سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے۔استاد جیسے باپ کا دوجہ حاصل ہے ان کی طرف سے ایسے ناقابلَ برداشت رویے کی جتنی مظاہمت کی جائے وہ کم ہے میں خود تدریس کے پیشے سے وابستہ ہوں۔ چند اساتذہ کی وجہ سے ہم سب کی گردنیں شرم سے جھک گئی ہیں احساس ِدرد کی شدد سے روح کانپ جاتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں اخلاقیات کی قدریں متعین کردی گئی ہیں اُن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ عورت اپنی زبان بند رکھے اور ہم اُسی دائرے کے گرد چکر لگا رہے ہیں۔ کائینات کے ہر مظہر کو ننگی آنکھ سے دیکھنے کا حوصلہ رکھیے پھر آپ کو اندازہ ہوگا کہ ہمارا معاشرہ کس حد تک اخلاقی پستی کا شکار ہوچکا ہے۔






0 comments:
Post a Comment