جس ملک میں لاکھوں لوگ تبلغی اجتماعات میں جاتے ہوں. جہاں لاکھوں لوگ دعوت دین کے لیے سفر کرتے ہوں. جہاں سے لاکھوں لوگ بیت اللہ عمرہ اور حج کے لیے جاتے ہوں. میلاد النبی کے موقع پر ہر شہر میں جلوسوں میں لاکھوں لوگ شامل ہوں جس ملک میں ہر رات لاکھوں محافل میلاد اور دوروس قرآن ہوتے ہوں. جس ملک میں یوم عاشور والے دن لاکھوں لوگ غم حسین میں عزاداری کرتے ہوں. جس ملک میں عید اور جمعے کے بڑے بڑے اجتماعات ہوتے ہوں. جس ملک میں تسبیحات پڑھنے والے لاکھوں میں اور درودو سلام کی تعداد اربوں میں ہو.
وہ ملک ایمانداری میں دنیا میں 160ویں نمبر پر آئے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان عبادات اور ریاضتوں کا فائدہ کیا جس میں عبادت اور ریاضت کی بنیادی روح ایمانداری ہی نہیں پیدا ہورہی.
ہم کس کو دھوکہ دے رہے ہیں خود کو یا پھر اپنے خدا کو؟
Sunday, March 4, 2018
Home »
» سوچیے گا ضرور






0 comments:
Post a Comment