کیونکہ اگر یہ مرض پھیلتا ہے تو وطن عزیز کے پاس اتنے وسائل نہی کہ بہت بڑے پیمانے پراسکامقابلہ کر سکیں۔ اس بیماری کو ہم جذبہ اور اتحاد سے ہی شکست دے سکتے ہیں اگر آپ کو اپنے پیاروں کی زندگی عزیز ہے تو اپنے گھروں تک محدود ہو جائیں، ہاتھوں کو بار بار دھوئیں چہرے پرماسک کا استعمال کریں مذہبی اور سماجی اجتماعات میں جانے سے گریز کریں نماز گھر میں پڑھیں قوم اور ملک کے مددگار بنے ناکہ قوم و ملک کے لیے مصیبت بنے۔
اس لاک ڈاون میں آپ کے پاس بھی موقع ہے آپ بھی جذبہ ایمانی سے حضرت ابو بکر صدیق اور عمر فاروق اور صحابہ اکرام کے سنت پر عمل کر کے قیامت کے دن ان کے ساتھ صف میں کھڑے ہو جائیں اگر آپ کو اللہ نے مال ودولت سے نوازاہے تواس سے ملک قوم کو عطیہ دے کر عثمان غنی کے صف میں کھڑے ہو جائیں اگر آپ مزدور ہیں تو اپنے حصے کی ایک روٹی کسی دوسرے مزدور کے ساتھ شئیر کیجئے اور اس یقین کے ساتھ کہ یہی موقع ہے اللہ کا ولی بننے کا۔
جو لوگ اس لاک ڈاؤن میں سروسز دے رہے ہیں وہ اس ملک اور انسانیت کے ہیروز ہیں سرکاری اہلکاروں کے ساتھ تعاون کیجئے نرسز، ڈاکٹرز ”طبی عملی یوٹیلیٹی اسٹورز، پولیس اور دوسرے خدمت کرنے والوں کے لیے مسائل نہ بنائے یہ لوگ اپنی زندگی خطرے میں ڈال کر آپ کی زندگی اور انسانیت کی خدمت کر رہیے ہیں۔
مل، فیکڑی اور کمپنی مالکان پر بھی اللہ کا امتحان ہے یہ وقت ہے اللہ سے کاروبار کرنے کا اپنے مزدورو ں کے لیے دل نرم کیجئے جن مزدورں نے آپ کی خدمت کی ان کی مدد کیجئے زندگی ہر انسان کو ولی اللہ بننے کا ایک موقع دیتی اس یقین کے ساتھ لوگوں کی مدد کیجئے کہ آپ اللہ تعالی سے کاروبار کر رہے ہیں اور اس یقین کے ساتھ اللہ تعالی سے کاروبار کریں کہ اللہ تعالی آپ کی زندگی میں آپ کے کاروبار میں آپ کی اولاد میں برکت ڈالے گا اور اللہ تعالی اسباب بنانے والا ہے اللہ تعالی آپ کے لیے بہترین اسباب بنائیگا۔ اللہ تعالی آپ کے لیے اپنے رحم و کرم کے دروازے کھول دیگا آپ مزدورں کے لیے اپنے دل کے دروازے کھول دیجئے، کیونکہ سب کچھ فنا ہو جانا ہے سب کچھ ختم ہو جانا ہے اور قرآن فرماتا ہے سب چیزیں فنا ہو جائینگی اور اللہ کی ذات کو ہی بقاء ہے۔
از قلم
عائشہ امین






0 comments:
Post a Comment