میں کسی بھی مسلک کے خلاف نہیں ۔۔۔ نہ میں ان فرقوں کو مانتی ہوں ۔۔ میرے لیے سب بہت قابل عزت ہیں ۔۔کیوں کے سب کلمہ گو ہیں ۔۔۔۔ لیکن حضور ﷺ کی سنت کے مطابق ہمیں آپس کے status کو بچانے کی بجاۓ غریبوں کو دینا ۔۔انکو گھر کا راشن ۔۔سردی کے کپڑے ۔۔۔اور دیگر ضرورت زندگی کی چیزیں لے دینی چاہیے ۔۔۔۔اپنے گھر پے لائٹس لگانے سے بہتر کے ہم کسی غریب کے گھر کے چولہے کو روشن کریں ۔۔۔۔۔ میں 12 ربیع الاول منانے کے خلاف نہیں لیکن میں دلائل پے یقین رکھتی ہوں.
میری پوسٹ کو دینی فساد ۔۔ یا فرقہ وار یت پے نہ لے ۔۔ کیوں کے میں خود میلاد کے خلاف نہیں ہوں لیکن سال کے 365 دنوں میں سے صرف ایک دن کیوں اس بات کی کوئی دلیل بھی نہیں ملتی۔۔۔گھر کو سجسنے سے بہتر یہ نہیں کہ ہم اپنی حیثیت کے مطابق غریب کی مدد کر کے ۔۔۔ درود پاک پڑھ کے ۔۔۔۔۔ اور حضور اکرم حضرت محمد ﷺ کا ذکر کر کے یہ دن منائیں بجائے اس کے ک ہم کوئی ایسا کام کریں جو بدت میں شمار ہو۔
آج کل ہم لوگ نبی کی سنت کو بھول کر شہرت کی طرف بھاگ رہے ہیں.بعد میں لوگو میں بتانا بھی تو ہوتا ہے بھئی میں نے اتنا کیا یا اتنا کیا... میں کہتی آپ میلاد منائیں چراغہ کریں مگر ان غریبوں کو نا بھولیں.. غریب کی کفالت بھی میرے نبی کی تعلیمات میں سے ہے.. سب کریں لیکن سنت کے مطابق
Saturday, November 9, 2019
Home »
»






0 comments:
Post a Comment