پاکستان میں گھر میں بیٹی کی پیدائش ہوتے ہی جہیز کی تیاری شروع کر دی جاتی ہے...اور زیادہ تر تو جہالت کی انتہا یہ ہوتی ہے کہ گھر والے کہتے ہیں ہمیں بیٹا چاہیے ورنہ عورت کو طلاق دے دی جاتی ہے... اور بیٹیوں کو منحوس سمجھا جاتا ہے. بیٹیوں کی پیدائش کے بعد جہیز کی تیاری شروع کر دی جاتی ہے. دادیاں, نانیاں پتیلیاں, کٹوریاں جمع کرنا شروع کر دیتی ہیں اور لڑکی کے بڑے ہونے تک پوری پیٹی بھر دی جاتی ہے...
اسلام میں شادی کو سادگی سے ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے... لیکن بلاوجہ کی ہندوانہ رسموں کے بغیر تو شادی کرنا جیسے گناہ سمجھا جانے لگا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اگر ہم نے یہ رسم ادا نہ کی تو لوگ کیا کہیں گے... اور یہ سمجھ نہیں آرہی ہوتی کہ قیامت والے دن آپ اپنے اللہ کو کیا جواب دیں گے کہ میں نے تمہیں سادگی سے شادی کرنے کا حکم دیا تھا اور تم نے بلاوجہ خرچ کیوں کیا.... تب آپ کی پکڑ ہو گی...
مندرجہ ذیل باتوں پر عمل کر کے شادیوں کو آسان بنایا جا سکتا ہے..
1- ٹرک بھر کر جہیز دینے کے بجائے آپ لڑکی کو تحفے میں اچھی تربیت دیں.. تاکہ وہ اگلے گھر جا کر اپنے سسرال والوں کو غیر سمجھنے کے بجائے اپنا سمجھیں... اور اپنے آنے والی نسلوں کو ایک اچھا شہری ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھا مسلمان بنائیں....
2- سادگی سے نکاح کی تقریب رکھی جائے....
3- بے جا ہندوانہ رسموں کو نظرانداز کیا جائے اور نکاح کے بعد سنت طریقے کے مطابق ولیمے کی تقریب کا اہتمام کیا جائے...
4- لوگوں کی باتوں کو سننے کے بجائے اللہ اور اس کے رسول کے مطابق کام کیا جائے...
5- جہیز اپنی حیثیت کے مطابق دیا جائے...
6- لڑکی کے ماں باپ اچھی طرح چھان بین کریں کہ کہیں ان کی بچی کے سسرال والے لالچی تو نہیں.... اگر اس بات کا ذرا بھی شبہ ہو تو شادی سے انکار کر دیا جائے.. والدین اللہ رب العزت سے دعا کریں کہ آپ جب چاہیں گے جیسے چاہیں گے وہی ہو گا بے شک آپ خوب جانتے ہیں...
7- شادیوں میں موسیقی سے پرہیز کیا جائے....
ان چند باتوں پر عمل کر کے شادیوں کو آسان سے آسان تر بنایا جا سکتا ہے... تاکہ آپ کی دنیا اور آخرت دونوں سنور جائے اور ایک بہترین معاشرہ عمل میں آئے.... اللہ تعالی ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور ہم سب کو دین سمجھنے کی اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے...
آمین
Wednesday, October 16, 2019
Home »
» شادیوں کو آسان کیسے بنایا جائے...






0 comments:
Post a Comment