Wednesday, June 24, 2015

ایک اچھا قدم آگے نہ بڑ سکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔





قوانین معاشرے کے لیے بنتے ہیں، ان سے انحراف کرنے والے افراد کو سزا دی جاتی ہے یا دی جاسکتی ہے، لیکن اگر معاشرہ اجتماعی طور پر قانون کو پیروں تلے روند دینے پر تْلا ہو تو قانون، ادارے اور ریاست کیا کر سکتے ہیں؟ ہمارے یہاں ٹریفک قوانین معاشرے کی اسی بغاوت کا شکار ہیں۔

ملک بھر میں ٹریفک قوانین کی دھجیاں اُڑائی جا رہی ہیں۔ کہیں عوام نہیں سمجھتے اور کہیں حکومت کا کردار سفر نظرآتا ہے۔ آئے دن ہونے والے ہونے والے ٹریفک حادثات کئی قیمتی جانوں کو نگل چکے ہیں۔ شہر قائد کی بات کی جائے یہاں کی سڑکوں کو خوں پیتی سڑکیں کہنا غلط نہ ہوگا۔ ایک چھوٹی سی سڑک پر گھنٹوں جب ٹریفک جام رہتا ہے تو ایک اچھا بھلا آدمی بھی شدید ذہنی تناؤ کا شکار ہوجاتا ہے۔ یہ کیفیت گھر سے باہر رہ کر ختم نہیں ہوجاتی، یہ ذہنی اذیت آخر کار گھر میں بھی اپنا ڈیرا جماتی ہے۔
شہرِقائد میں تو ٹریفک کا ابتر نظام پورے پاکستان میں بدترین مثال بن کر سامنے آیا ہے۔ مسائل ہیں اور شہریوں کے ساتھ مختلف ادوار میں آنے والی حکومتیں بھی ان مسائل کو سنجیدگی سے حل کرنے کی خواہش مند ہیں۔ اِسی لیے وقفے وقفے سے حکومتی پالیسیاں اور منصوبے کبھی عملی طور پر نظر آتے ہیں تو کبھی کاغذات تک محدود ہو جاتے ہیں۔ لیکن کچھ نہ کچھ ہوتا ضرور ہے۔ ماضی میں کراچی کی سڑکوں پر جس طرح کام کیا گیا اور جیسے فلائی اوور بنائے گئے بلاشبہہ اس ترقی کو پورے پاکستان ہی میں نہیں دنیا میں بھی سراہا گیا، لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ کچھ سال گزرنے کے بعد ٹریفک کے وہ مسائل جن کا سامنا آج سے دس سال پہلے بھی کراچی کے شہری کر رہے تھے اور جو کراچی میں سڑکوں اور پُلوں کی تعمیر کے بعد کچھ کم ہوگئے تھے، آج پھر شہر کے عوام کو وہی مسائل درپیش ہیں۔ بات وہی ہے کہ مستقبل کی پلاننگ کے بغیر کام کیا گیا۔ نتیجہ، آبادی کا دباؤ بڑھنے کی وجہ سے ٹریفک نظام بدترین صورت حال اختیار کرگیا۔ اگر شہرِقائد میں چین کے اشتراک سے بنے والے منصوبے ماس ٹرانزٹ پر سنجیدگی سے عمل کیا جاتا تو وہ سرمایہ جو چند سالوں کی پلاننگ کے لیے لگایا گیا وہ ایک صدی کی پلاننگ پر صرف ہوتا اور عام آدمی کو جو فوائد ملتے وہ الگ ہیں۔ لیکن نہیں، ہم نے ماس ٹرانزٹ کو بھی اور بہت سے منصوبوں کی طرح وفاقی اور صوبائی بحث تک ہی محدود رکھا۔ آج شہر قائد کا ایک عام شہری کس طرح مسافت کی اذیت سہتا ہے یہ شاید وہ خود ہی جان سکتا ہے۔ گھنٹوں ٹریفک جام میں پھنسے رہنا، کبھی اپنی مطلوبہ بس کے انتظار میں بس اسٹاپ پر انتظار کی الجھن، کبھی نوکری پر دیر سے پہنچنا اور کبھی پبلک ٹرانسپورٹ میسر نہ آنے پر تھک ہار کر اپنے گھر کی طرف واپسی، شل قدموں کے ساتھ زندہ لاش کی طر ح۔ بس اسٹاپ پر کھڑے کئی مایوس چہرے ہمیں روز ہی نظر آتے ہیں۔ یہ تمام پہلو ایک عام شہری کی نفسیات کو نہ صرف مجروح کر رہے ہیں، بل کہ آنے والے وقت کے لیے ایک خطرناک سگنل دے رہے ہیں، لیکن پھر حکومت کا کوئی ادارے ان مسائل کی طویل المدت منصوبہ بندی کرنے کے لیے تیار نہیں۔
بہت پرانی بات نہیں، لیکن چوں کہ ہمارے یہاں اب قیمتی جانوں کا ضایع ہونا معمول کی بات ہے تو یہ حادثہ بھی شاید لوگ بھول گئے ہوں۔ سہراب گوٹھ پر بس اور آئل ٹینکر کا تصادم ہوتا ہے۔ بس میں آگ لگ جاتی ہے اور کتنی ہی زندگیاں جل کر راکھ ہوجاتی ہیں۔
حادثے میں زیادہ جانوں کے ضیاع کی ایک اہم وجہ یہ بتائی گی کہ کیوں کہ بس میں سواریوں کی تعداد کو بڑھانا مقصود تھا، اس لیے بس کا پیچھے کا دروازہ جہاں سے لوگ بہ آسانی باہر آسکتے تھے بند کر دیا گیا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے67 افراد زندہ جل کر خاک ہوگئے۔ اس کے بعد ٹریفک پولیس کی طرف سے کاغذی پھرتیاں بہت نظر آئیں، لیکن عملاً کچھ نہیں ہوا۔ اس حادثے کے بعد ایک تاریخ مقرر کرتے ہوئے حکم نامہ جاری کیا گیا کہ اگر بسوں کے ایمرجینسی گیٹس نہ کھولے گئے اور بس میں آگ بجھانے والے آلات نہ موجود ہوئے تو ایسا نہ کرنے والے بس مالکان کے خلاف کارروائی ہوگی۔ لیکن سب بے سود۔ مقررہ تاریخ آئی اور چلی بھی گئی۔ دو تین دن چالان کی مد میں رقم لی گئی اور پھر وہی اندھیرنگری چوپٹ راج۔ ہمیں جب علم ہے کے ٹریفک قوانین کی بڑی سے بڑی خلاف ورزی کرنے کے بعد بھی ہمیں سو پچاس روپے کی وصولی کے بعد چھوڑ دیا جائے گا تو خلاف ورزیوں کی فکر کسے ہو۔ توڑتے جائیے قانون اور ڈالتے رہیے اپنی اور دوسروں کی زندگیاں خطرے میں۔
ٹریفک پولیس کی پھرتیاں آج کل بھی ہمارے سامنے ہیں۔ یہ پھرتیاں ہیلمٹ مہم کی صورت میں سال میں ایک ہفتے تو نظر آتی ہی ہیں، لیکن پھر خاموشی سے چالان ہوتے ہیں، دے دلا کر معاملات طے ہوتے ہیں اور صورت حال جوں کی توں رہتی ہے۔
اس دفعہ ایک اچھا اقدام یہ ہونے جارہا تھا کہ مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کو بھی ہیلمٹ پہننے کا پابند کیا گیا، تاکہ جان لیوا حادثات کو ممکنہ حد تک کم کیا جاسکے اور ٹریفک حادثے کی صورت میں کم سے کم نقصان ہو۔ یہ ایک خوش آئند عمل تھا اور اس سلسلے میں پہلے دن خواتین کی ایک بڑی تعداد کا چالان بھی ہوا۔ ایک عرصے سے عام شہریوں کو یہ تنبیہ کی جارہی تھی کہ خواتین و حضرات دونوں کے لیے بائیک کی سواری کرنے کے لیے ہیلمٹ پہننا ضروری ہے اور اس سلسلے میں خواتین میں مفت ہیلمٹ کی تقسیم کا بھی وعدہ کیا گیا۔ اب نہ جانے وہ مفت ہیلمٹ کہاں گئے اور مفت ہیلمٹ دیے بغیر جو رقم چالان کی مد میں لی گئی اس کا حساب کون دے گا؟ کیوں کہ خواتین پر ہیلمٹ پہننے کی پابندی تو دوسرے ہی روز ختم کردی گئی۔ یعنی ایک مثبت قدم اٹھایا تو گیا لیکن وہ بھی چند لوگوں کے ناقص مشورے کی بنا پر روک دیا گیا۔ یہ پہلو بھی غور طلب ہے کہ جو لوگ ہیلمٹ ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں قوانین بنا رہے ہیں ان کا دور دور تک اس سواری سے کوئی تعلق نہیں۔ خواتین کی زندگی محفوظ بناتے اس قانون کو بننا بھی چاہیے تھا اور اس پر سختی سے عمل درآمد بھی ہونا چاہیے تھا اور خواتین میں مفت ہیلمٹ تقسیم ہونے چاہیے تھے۔ جہاں خواتین کے پہننے ہیلمٹ کے بارے میں فیصلہ کیا گیا وہیں یہ بھی سوچا جانا چاہیے کہ بائیک پر خطرناک حادثات ہونے کی ایک اور وجہ خواتین کا بائیک پر بیٹھنے کا طریقہ بھی ہے، جس طرح خواتین بائیک پر سفر کرتی ہیں اس میں معمولی جھٹکا لگنے سے بھی پیچھے بیٹھی خواتین گر سکتی ہیں۔ اور ساتھ ہی موٹرسائیکل چلانے والے کا توازن بھی بگڑ جاتا ہے۔ اکثر موٹرسائیکل پر بیٹھنے والی خواتین کی گود میں بچہ یا بچے ہوتے ہیں۔ موٹرسائیکل کے معمولی سے حادثے یا عدم توازن کی صورت میں سب سے پہلے خاتون کے ہاتھوں کی گرفت کم زور ہوجاتی ہے اور بچہ پھسل جاتا ہے۔ اس سب کو معمولی باتیں سمجھا جاتا ہے، لیکن موٹرسائیکل حادثات میں ہونے والی اموات اسی سب کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ قانون چاہے تو ان سب مسائل پر قابو پا سکتا ہے۔ اول تو چھوٹے بچوں کو ہاتھ میں لے کر سفر کرنے پر پابندی ہونی چاہیے، تاہم ہمارے معاشرے کی معاشی حقیقتیں ایسے قانون کی اجازت نہیں دیتیں، لیکن کم ازکم خواتین کے بائیک پر بیٹھنے کے طریقے اور ہیلمٹ کی شرط پر تو عمل کروایا جا سکتا ہے۔
آخر میں وہی بات، ہمارے یہاں ہر معاملے میں حکومت کو قصوروار ٹھہرا کر عوام اپنی ذمہ داری سے سبک دوش ہوجاتے ہیں۔ عوام کو ایسے حکومتی اقدامات کی حمایت اور ایسے قوانین کی پابندی کرنی چاہیے جو ان کے مفاد میں ہوں۔ خاص طور پر وہ اقدامات اور قوانین جو لوگوں کی زندگی کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔

0 comments:

Post a Comment