کبھی کبھی ہم اتنے مجبور ہوجاتے ہیں کہ اپنے قلم کی آواز اٹھاۓ بغیر ہمیں سکون نہیں ملتا ہمارا ضمیر ہمیں سونے نہیں دیتا ۔ کل رات بھی کچھ ایسا ہی ہوا جب میں انٹرنیٹ سرفنگ میں مصروف تھی تو کراچی کے ایک شاپنگ مال میں ہونے والے چلڈرن فیشن شو کی چند تصاویر میری نظر سے گزریں،فیشن شو ایک انٹرنیشنل اسٹور" کلیر" کی افتتاحی تقریب کے موقع پےکیا گیاجس کا افتتاح امریکی جرنل کونسل نے کیا۔ افتتا حی تقریب کے موقع پے فیشن شو بھی منقد کیا گیا جس کی تصاویر جب میری نظر سے گزریں تو میرے ضمیر نےمجھ سے سوال کیا۔ کیا ہم اسلامی فلاحی ریاست کے باشندے ہیں ؟ کیا ہم اپنے بچوں کو زندگی گزارنے کے صحیح طریقے سے روشناس کروارہے ہیں؟ کیا یہ صحیح ہے ؟فیشن شو کے نام پے جو کچھ ہو رہا ہے اسکا علم ہم سب کو ہے،پہلے تو بڑے بڑے برانڈز کا ٹارگٹ صرف نوجوان نسل ہوتی تھی لیکن اب تو حد ہی ہوگئی ان لوگوں نے اپنا بزنس چمکانے کے لئے بچوں کو بھی نہ چھوڑا حیرت تو ان ماوں پے ہوتی ہے جنھوں نے نہ صرف اپنی معصوم بچیوں کو ایسا لباس پہنایا بلکہ انھیں ریمپ پے واک بھی کروائی ان کے معصوم اور کچے ذہنوں پے اسکے کیا اثرات مرت ہوں گے اسکا اندازا ہم اور آپ نہیں لگا سکتے۔فیشن شو کو دیکھنے کے بعد میرے ذہن میں اٹھنے والا پہلا سوال یہ تھا کہ زینب اور اس جیسی کئی معصوم بچیاں جو حوانیت اور بربریت کا نشانہ بنیں انکا ذمہ دار کون؟؟؟؟ میں؟ آپ؟ حکومت؟ میڈٰیا؟ یا پھر وہ مائیں جو اپنی معصوم ننھی کلیوں کو ایسا لباس زیبِ تن کرا کے یہ کہہ کہ کیا ہوا بچی ہی تو ہے باہر بھیجتی ہیں ۔ زینب بھی تو بچی تھی نا؟
آخر کیوں ہم اس معاشرے میں مغربی کلچر کو فروغ دے رہے ہیں؟ جہاں حوانیت اور بربریت کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا ہم خود ایسے کلچر کو اپنی اسلامی ریاست میں فروغ دے کر زینب جیسی کئی معصوم لڑکیوں کو اسکا شکار بنا رہے ہیں۔
مغربی کلچر کو فر و غ دینے والی ہماری لبل سوسائٹی ہے جو صرف شورکرنا جانتی ہے۔
ان ماؤں سے میری گزارش ہے خدارا ہوش کے ناخن لیں اپنی بیٹی کی حفاظت خود کریں اس سے پہلے دیر ہوجائے۔ اپنی بیٹی کوہوس بھری نگاہوں کا نشانہ نہ بننے دیں ۔آپ اپنی بیٹی کو حوانیت اور درندگی سے خود بچا سکتی ہیں۔











